Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 محکمہ معدنیات کی طرف سے چترال کے پہاڑوں کو جواینٹ وینچرکے نام پر لیز پر دینے کی بھرپورمذمت اور مسترد  کرتے ہیں۔ عوام چترال /چترال مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشن

Posted on
شیئر کریں:

 محکمہ معدنیات کی طرف سے چترال کے پہاڑوں کو جواینٹ وینچرکے نام پر لیز پر دینے کی بھرپورمذمت اور مسترد  کرتے ہیں۔ عوام چترال /چترال مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشن

چترال (نمایندہ  چترال ٹایمز) چترال مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشن چترال اپر اور لوئیر چترال نے ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرل خیبرپختونخو ا کی طرف سے ایک مقامی اخبار (مشرق) میں شائع شدہ اشتہار،بابت Expression of Interest for Joint Venture کو مسترد کرکے پبلک /پرائیویٹ فرمز /کمپنیز، فرد/ افراد کو متنبہ کیا ہے کہ چترال لویر اور اپر کے 28 بلاکس میں Base Metal کے لئےJV کی بابت درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔
ایسوسی ایشن کا اجلاس منگل کے روز شہزادہ مدثر الملک صدر چترال مائنز اینڈ منرل ایسو سی ایشن کے زیر صدارت چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کیں۔

مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشن چترال، ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرل خیبرپختونخوا کا روزنامہ مشرق پشاور 26 اگست 2022 کو شائع شدہ اشتہار،بابت Expression of Interest for Joint Venture کو مسترد کرکے پبلک /پرائیویٹ فرمز /کمپنیز، فرد/ افراد کو متنبہ کرتے ہیں کہ چترال لویر اور اپر کے 28 بلاکس میں Base Metal کے لئےJV کی بابت درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔ مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن چترال کے ممبراں بلخصوص اور تمام باشندگان چترال، KPK منرل ڈپارٹمنٹ کے ذمے دار حکام کو واضح بتانا چاہتے ہیں کہ اخبار میں دیا گیا اشتہار واپس لیں۔ اس اشتہارکو ہم باشندگان چترال اپنے اوپر ڈاکہ، ظلم اور غیر قانونی سمجھتے ہیں کیونکہ چترال بالا و پائن میں بندوبست اراضی کی تکمیل تا حال نہیں ہوئی ہے اور باشندگان چترال بنام فیڈریشن اف پاکستان اسی لینڈ سیٹلمنٹ کی زیادتیوں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں کیس چل رہا ہے جس میں معزز عدالت عالیہ نے حکم امتناعی دے دی ہے جو ابھی تک بر قرار ہے۔ یہ اشتہارپشاور ہائی کورٹ کی حکم امتناعی کی صریح خلاف ورزی اور توہین عدالت کے زمرے میں اتا ہے۔

ہم باشندگان چترال ریاستی دور میں کئی صدیوں سے اور اس کے بعد کئی دہائیوں سے چترال کے سرحدات، جنگلات، معدنیات، شکار گاہوں، گرمائی چراگاہوں اور ابی ذخائر کی خود حفاظت کرتے ائے ہیں۔ پاکستان میں رضاکارانہ شمو لیت کے بعد اہالیان چترال کی جانب سے چترال کے عمارتی لکڑی کے جنگلات اور معدنیات کا کچھ حصہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو تحفتا پیش کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں، نیز ہم اہالیان چترالUNO کے چارٹرڈ میں بحیثیت People Indigenous میں شامل ہیں,یعنی قدیم تہذیب و تمدن کے لحاظ سے UNO کے چارٹرڈ کے مطابق اپنے حقوق کی حفاظت کا حق رکھتے ہیں۔

چترال میں پوری دنیا کا منفرد قدیم ترینتاریخ، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رسم و رواج کا حاملنمایاں کلاش تہذیب بھی چترال کے رومبور، بمبوریت اور بریرکے وادیوں میں قدیم الایام سے بستے ہیں اور ان کا گزرا وقات صرف معدنیات، جنگلات اور گرمائی چراگاہوں پر ہے۔ اگر ان وادیوں کے جنگلات و معدنیات کو چترالی و کلاش قبائل سے چھینا گیا تو قدیم کلاشتہذیب کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوگا۔

اجلاس کے اخر میں ہم عہدیداراں و ذمے داراں مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی وسیاسی جماعتیں چترال، KPK مائنز اینڈ منرل ڈپارٹمنٹس کے ذمے داراں سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے معدنیات پر خود چترالی باشندگان کو سمال اور لارج اسکیل میں سہولت فراہم کیا جائے تاکہ چترال کے باشندے اپنی مالی استطاعت کے مطابق ان قدرتی وسائیل سے استفادہ کرکے اپنا گزر بسر کرسکیں۔ ہم باشندگان چترال کو لارج اسکیل میں جوائنٹ ونچر کا اشتہار دیکر پریشان نہ کیا جائے۔ ہم اس زیادتی کی بھر پور مذاحمت کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

chitraltimes mines and mineral association meeting2


شیئر کریں: