Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امپورٹڈ حکومت نے حقیقی آزادی بیا نیے سے گھبرا کر میڈیا بلیک آؤٹ شروع کر دیا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف

Posted on
شیئر کریں:

امپورٹڈ حکومت نے حقیقی آزادی بیا نیے سے گھبرا کر میڈیا بلیک آؤٹ شروع کر دیا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف
حقیقی آزادی کے بیانیے کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ
پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں کی کوریج نہ کرنے کے لئے میڈیا چینلز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کرایا گیا۔معاون خصوصی

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے تحریک انصاف کے حقیقی آزادی کے بیانیے سے گھبرا کر عمران خان کے جلسوں کا میڈیا بلیک آؤٹ شروع کر دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لئے کی جانے والی ٹیلی تھون کی کوریج میں بھی روکاوٹ ڈال کر سیلاب متاثرین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ عمران خان کے جلسوں کی کوریج روکنے کے لیے میڈیا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقے نہیں دکھائے گئے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت سیاسی افراتفری کی صورتحال ہے۔ معاشی بدحالی اور بے تحاشہ مہنگائی سے عوام ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ واحد تحریک انصاف امپورٹڈ حکومت کی فسطائیت اور عوام دشمن اقدامات کے خلاف میدان میں ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حقیقی آزادی کے لیے ملک بھر میں جلسے کیے۔ حقیقی آزادی کے بیانیے کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

 

موجودہ حالات میں ملکی استحکام اور ترقی کی بات کو کھلے عام دکھایا جانا چاہیے تاکہ محب وطن پاکستانی حقیقی آزادی کے اس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ لیکن امپورٹڈ حکومت نے حقیقی آزادی کے بیانیے سے گھبرا گئی اور تحریک انصاف کے جلسوں کی کوریج پر پابندی اور ان کا بلیک آؤٹ شروع کر دیا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں کی کوریج نہ کرنے کے لئے میڈیا چینلز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور جو میڈیا چینل کوریج کر رہا ہو اسے آف سکرین کر دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کیبل نیٹ ورکس کو بھی بند کیا گیا۔ امپورٹڈ حکومت بنیادی طور پر آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا رہی ہے اور ہر شہری سے ان کا یہ بنیادی حق چھینا جا رہا ہے۔

 

معاون خصوصی نے مزید کہا اگرچہ کہ عمران خان کی لائیو کوریج پر عدالت نے پابندی ختم کر دی ہے لیکن عملی طور پر تاحال پابندی ختم نہیں ہوئی۔ گزشتہ روز ہونے والی ٹیلی تھون میں کوئی سیاسی بات نہیں تھی۔ اس میں سیلاب زدگان کے لئے مالی امداد کی درخواست کی جا رہی تھی لیکن ٹیلی تھون کی میڈیا چینلز سمیت انٹرنیٹ اور ویب سائٹس پر کوریج میں بھی رکاوٹ ڈالی گئی۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کرایا گیا۔ جس سے امپورٹڈ حکومت کا خیبرپختونخوا سے تعصب واضح ہو گیا۔ ضمانت پر رہا وفاقی کابینہ اراکین تو گھنٹوں سرکاری ٹی وی پر تقاریر کرتے ہیں لیکن عمران خان کی سیلاب زدگان کے لئے امدادی پروگرام کو بلیک آؤٹ کیا گیا۔ چینلز پر پابندیاں میڈیا ورکرز اور عام شہریوں سے زیادتی ہے۔ دوسری طرف امپورٹڈ حکومت کے خلاف کوئی بات کی جائے تو ایف آئی اے یا نیب طلبی کا نوٹس آ جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: