Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رواں مالی سال کے بجٹ میں صحت کارڈ کیلئے مختص رقم 20 ارب روپے سے بڑھا کر 25 ارب روپے کر دی گئی ہے۔وزیراعلیِ

Posted on
شیئر کریں:

رواں مالی سال کے بجٹ میں صحت کارڈ کیلئے مختص رقم 20 ارب روپے سے بڑھا کر 25 ارب روپے کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ 10 ارب روپے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔وزیراعلیِ

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کو اپنا شعار بنایا اورگزشتہ چار سالوں کے دوران شعبہ صحت سمیت تمام شعبہ جات میں عوامی ضروریات اور توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے ترتیب دینے کے علاوہ اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے مثبت نتائج عوام کے سامنے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں محدود پیمانے پر شروع کئے گئے صحت کارڈ منصوبے کو موجودہ دور حکومت میں صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع دی گئی جس کے تحت 75لاکھ سے زائد خاندان مختلف بیماریوں کے مفت علاج کی سہولیات حاصل کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ اس منصوبے کو قانونی تحفظ دینے کیلئے خیبرپختونخوا یونیورسل ہیلتھ کوریج ایکٹ2022 منظور کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایک طرف صوبے کے عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی تو دوسری طرف صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور ان کی استعداد کار کے اضافے پر بلا تاخیر کام شروع کیا

 

۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران تین ہزار سے زائدنئے ڈاکٹرز بھرتی کئے جن میں سپیشلسٹس بھی شامل ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہسپتالوں میں مختلف سروسز کی آوٹ سورسنگ کے ذریعے معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں متعدد منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جن میں پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام ، کے ٹی ایچ میں نئے او پی ڈی بلاک کی تعمیر، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں الائیڈ اینڈ سرجیکل بلاک کی تعمیر ، فاونٹین ہاوس پشاور، ایچ ایم سی میں آرتھوپیڈک اینڈ سپائن بلاک کا قیام، باچاخان میڈیکل کمپلیکس صوابی کی تعمیر، 200 بستروں پر مشتمل چارسدہ میں زچہ بچہ ہسپتال کا قیام ، ڈی ایچ کیو مردان میں120 بستروں پر مشتمل نئے زنانہ بلاک کی تعمیر ، مربوط ایمبولینس سروس کی صوبے کے تمام اضلاع تک توسیع وغیرہ جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔ صوبے کے چار مختلف ریجنز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نئے بڑے ہسپتالوں کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے، اس مقصد کیلئے ایک جامع اور قابل عمل ماڈل وضع کیا گیا ہے۔

 

صوبے کے پہلے برن اینڈ ٹراما سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جبکہ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے لئے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تین مختلف مراحل میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کی جائے گی۔اس کے علاوہ صوبہ بھر میں 200 بی ایچ یوزاور آر ایچ سیز کو 24 گھنٹے فعال بنانے کے منصوبے پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔محمود خان نے کہاکہ ضم اضلاع میں بھی شعبہ صحت کی ترقی اور عوام کو صحت کی معیاری سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کیلئے بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ، مختلف ضم اضلاع میں 17 صحت سہولیات کو آوٹ سورس کیا گیا ہے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات مقامی سطح پر میسر ہوں اس کے علاوہ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو طبی آلات کی فراہمی پر دو ارب روپے خرچ کئے گئے جبکہ 2.3 ارب روپے ایمرجنسی ادویات کی فراہمی پر خرچ کئے گئے ۔وزیراعلیٰ محمود خان نے کہاکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں صحت کارڈ کیلئے مختص رقم 20 ارب روپے سے بڑھا کر 25 ارب روپے کر دی گئی ہے اس کے علاوہ 10 ارب روپے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کیلئے مختص کئے گئے ہیں جن میں پہلی مرتبہ او پی ڈی ادویات بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں رواں مالی سال کے دوران صوبے میں چار نئے میڈیکل کالج قائم کئے جائیں گے اورتین مزید ہسپتالوں کو ایم ٹی آئی کا درجہ دیا جائے گا ۔


شیئر کریں: