Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوئر چترال سول سوسائٹی لیڈرز گروپ کا وادی لاسپور کا دورہ، رمان منی ہائیڈل پاور سٹیشن ، ہیرٹیج میوزیم لاسپور و ساڈکو آفس و سیاحتی مقام شندورکی وزٹ

شیئر کریں:

لوئر چترال سول سوسائٹی لیڈرز گروپ کا وادی لاسپور کا دورہ، رمان منی ہائیڈل پاور سٹیشن ، ہیرٹیج میوزیم لاسپور و ساڈکو آفس و سیاحتی مقام شندورکی وزٹ

مستوج ( محکم الدین ) سول سوسائٹی لیڈرز گروپ لوئر چترال نے ہفتے کے روز سیاحتی طور پر معروف وادی لاسپور اور دنیا کے بلند ترین پولوگراونڈ شندور کا دورہ کیا ۔ ہفتے کے روز حسب معمول فریدہ سلطانہ فری کی قیادت میں گروپ بونی سے روانہ ہوئی ۔ گروپ کیلئے یہ اعزاز کی بات تھی ۔ کہ اے کے آر ایس پی میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں بتیس سال خدمات انجام دے کر ریٹائرڈ ہونے والے ممتاز شخصیت حسن ولی ہماری رہنمائی کر رہے تھے ۔ ان کو اپر چترال میں اے کے آر ایس پی کے زیر نگرانی تمام پراجیکٹس کے بارے میں نہ صرف علم تھا ۔ بلکہ ان ہی کے ہاتھوں یہ منصوبے انجام پائےتھے ۔ گروپ نے ان کی رہنمائی میں سب سےپہلے رمان منی ہائیڈل پاور سٹیشن کا 2016دورہ کیا ۔ یہ بجلی گھر
میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ جس کی پید اواری صلاحیت پانچ سو کلوواٹ ہے ۔ اور اس سے 1275 گھرانےاستفادہ حاصل کر رہے ہیں ۔ جبکہ یونٹ کاسٹ 5اعشاریہ 50 روپے ہے ۔ بجلی گھر کی پیداوار میں سے 350 کلو واٹ خرچ ہوتی ہے ۔ اور 150 کلو واٹ بجلی زائد موجود ہے ۔ جبکہ اس بجلی گھر کی اہم خصوصیت یہ ہے ۔ کہ یہ ماہانہ بل داخل کرنے کے جھنجھٹ سے آزاد ہے ۔ ہر گھر میٹر کے ساتھ ایک خاص نمبر کا حامل کارڈ خریدتا ہے ۔ جسمیں اپنے وسائل کے مطابق کیش ہر یونٹ خریدتا ہے ۔ اور کارڈ کے مخصو ص خانے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ اور بجلی مہیا ہوتی ہے ۔ اس کا سب سے فائدہ مند پہلو یہ ہے ۔ کہ کارڈ کو کم وسائل والے صارف 100، 200 روپے سے بھی ریچارج کرنےکی سہولت حاصل کرتے ہیں ۔ بجلی گھر کو اے کے آر ایس پی اور مقامی یوٹیلٹی کمپنی مل کر چلاتے ہیں ۔ بلنگ کا یہ نظام دوسرے پرائیویٹ بجلی گھروں اور حکومت دونوں کیلئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ گروپ نے اس کے بعد لاسپور ہر چین کے معروف شخصیت امیراللہ خان یفتالی کے قائم کردہ ہیرٹیج میوزیم کا دورہ کیا جو کہ ان کے لان کے احاطے میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ جوکہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

 

انہوں نے گروپ کو خوش آمدید کہا ۔ اور میوزیم میں رکھے گئے قدیم نوادرات جن میں سامان حرب ، برتن ، جیولری ، پا پوش پولو اور گھڑ سواری کے سامان اور آوزار سمیت کئی اشیاء کے تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ اور کہا کہ یہ میوزیم پرائیویٹ سطح پر لوئر اور اپر چترال میں اپنی نوعیت کا پہلا میوزیم ہے ۔ جس کے قیام کیلئے بہت محنت کرنی پڑی ۔تاہم مجھے خوشی ہے ۔ کہ بہت سے دوستوں کی کوشش سے اس کے قیام میں مجھے کامیابی ملی ۔ گروپ نے بعد آزان سور لاسپور میں شندور ایریا ڈویلپمنٹ کنزرویشن اینڈ ویلفئیر آرگنائزیشن کے آفس کی وزٹ کی ۔ جس میں آرگنائزیشن کے جملہ عہدہ دارن و ممبران نے گروپ کا استقبال کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم ذلفی ہنر شاہ ، صدر ساڈکو شاہ خان ، جنرل سیکرٹری مر تضی اور یونس نے اپنے خطاب میں گروپ کی اپنے آرگنائزیشن کی وزٹ کیلئے آنے پر شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ یہ ان کیلئے اعزاز کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اے کے آر ایس پی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ۔ جس کیلئے ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ گو کہ تنظیم کے 70ممبران ہیں ۔ لیکن ان کے علاوہ بھی گاوں کے تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ وہ مختلف اداروں سے تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آرگنائزیشن کا اپنا ذاتی دفتر موجود ہے ۔ ہر دو سال بعد باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں ۔ اور عہدہ داروں کا چناو کیا جاتا ہے ۔

 

انہوں نے کہا ۔ کہ ادارے نے اب تک خواتین کیلئے سلائی سنٹر ، کمپیوٹر سنٹر ، کوچنگ سنٹر قائم کر چکا ہے ۔ غریب طلبہ کی امداد کی جاتی ہے ۔ ڈیزاسٹر آنے یا برفباری کے بعد شندور روڈ کو ادارہ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کرکے کھولتا ہے ۔ اور سیاحوں کو مشکلات میں مددفراہم کی جاتی ہے ۔ نوجوانوں کیلئے ٹورنا منٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ پولوگراونڈ کی توسیع کی گئی ہے ۔ ایم ایچ پی کی تعمیر میں مدد سمیت کئی کام ادارہ انجام دے چکا ہے ۔ لائیو سٹاک کی افزائش، بیماریوں کا علاج ، ، ٹراوٹ مچھلیوں کی افزائش کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں ۔ اور بیس لاکھ روپے تنظیم کے اکاونٹ میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ادارے کے پاس لائبریری بھی موجود ہے ۔ جس میں ممتازسکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور دیگر اداروں نے کتابوں کی فراہمی میں تعاون کیا ۔ گروپ لیڈر فریدہ سلطانہ نے ادارے کی خدمات کو سراہا ۔ اور کہا ۔ کہ یہی کچھ ہم آپ سے سیکھنے آئے ہیں ۔ ایک دور افتادہ علاقے کے لوگوں کا اس طرح منظم طریقے کام کرنا یقینا دوسروں کیلئے ایک سبق ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نوجوانوں کا عدم برداشت ایک انتہائی اہم مسئلہ بن گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے آئےروز ایسے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کہ رونگٹھے کھڑے ہو جاتےہیں ۔ اس لئےمیری کو شش ہوگی ۔ کہ اس سلسلے میں کئیریر کونسلنگ اور لائف سکل کی تر بیت فراہم کروں ۔گروپ نے آخر میں ممبران کے اصرار پر سیاحتی مقام شندور کی بھی وزٹ کی ۔ گروپ اتوار کے روز یارخون کا دورہ کریگا ۔

chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 1 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 2 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 3 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 4 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 5 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 6 chitraltimes lower chitral leaders visit laspur and shandur mastuj 7


شیئر کریں: