Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی  مبینہ غفلت اور لاپروائی سے 12سالہ بچی کی موت کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں مطالبہ

شیئر کریں:

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی  مبینہ غفلت اور لاپروائی سے 12سالہ بچی کی موت کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اتحاد ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن تریچ اپر چترال کے نمائندوں افسرعلی خان،ساجد اللہ ایڈوکیٹ، عبداللہ، زار نبی، عزیز الرحمن،،پیر سرور ندیم، سایورج خان اور دوسروں نے تحریک حقوق چترال کے چیئرمین پیر مختار،  ہیومن رائٹس فاونڈیشن کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور معروف عالم دین مولانا اسر ارالدین الہلال کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں اور پیر امیڈیکل اسٹاف کی غفلت اور لاپروائی سے 12سالہ بچی کی موت واقع ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ غمزدہ خاندان کو انصاف مل سکے۔

 

انہوں نے کہاکہ بارہ سالہ الوینہ عتیق کو 8ستمبر کے دن بونی کے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ساڑھے تین گھنٹے تک علاج نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی اور ڈیوٹی میں موجود ڈاکٹر سہیل اور ڈسپنسر کرامت نے مرحومہ کے باپ عتیق الرحمن کے ساتھ بدتمیزی پر اترآئے اور کئی گھنٹے وہ بغیر علاج کے پڑی رہی اور ہسپتال کی تشخیصی ٹیسٹ کو ناقابل اعتبار قرار دے کر انہیں پرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے بھیج دیا جہاں سے واپسی پر ان کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ وقوعہ کے دن غمزدہ باپ اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عوام کی طرف سے شدید احتجاج پر ڈی سی اپر چترال نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر اپر چترال اور اسسٹنٹ کمشنر مستوج پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جسے وہ یکسر مسترد کرتے ہیں اور اس کے رپورٹ کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور جوڈیشل انکوائری کے ذریعے ہی اس کی انکوائری چاہتے ہیں۔

 

تریچ وادی کے عمائدین نے کہاکہ اس ہسپتال میں یہ پہلا اندوہناک واقعہ نہیں ہے بلکہ اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی نااہلی کی وجہ سے ہسپتال عملے کی مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے ہیں جس کی مثال گزشتہ ماہ موڑکھو سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان زاہد ہے جس کی بہن کو تین گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر اٹینڈ نہ کرنے پر احتجاج کرنے پر پولیس کے حوالے کیا گیا اور ایف آئی آر کٹواکر جیل بھیجوادیا گیا۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ اپر چترال کی پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پانچ گھنٹے تک احتجاج کرنے کے باوجود پولیس اسٹیشن بونی میں کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ انہوں نے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت ڈیوٹی پر مامور دوسرے عملے کے خلاف بچی کی موت پر قتل باالسبب کا مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ انصاف نہ ملنے پر وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہا ر کیاکہ ہسپتال میں تشویشناک حالت میں لائی جانے والی مریضوں کو بھی قطار میں کھڑا ہوکر اوپی ڈی کی چٹ لینی پڑتی ہے۔اور ڈسٹرکٹ کی واحد ہیڈکوارٹرہسپتال میں سہولیات کی فقدان پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

chitraltimes ittehad development organization press confrence cpc


شیئر کریں: