Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت صوبائی محکموں میں مزید خدمات کی فراہمی کا اعلان

شیئر کریں:

خیبرپختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت صوبائی محکموں میں مزید خدمات کی فراہمی کا اعلان

گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ،پالوشن (آلودگی)کنٹرول سرٹیفکیٹ اورگندم پسائی لائسنس کے اجراء سمیت متعدد خدمات کی فراہمی کے لئے مقررہ مدت، نامزد افسران اور اپیلیٹ اتھارٹی کا اعلان

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) حکومت خیبرپختونخوا نے خیبرپختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ،محکمہ خوارک اور محکمہ صنعت، تجارت و فنی تعلیم کی درج ذیل خدمات کا اعلان کیا ہے، خدمات نامزد افسران کی جانب سے مقررہ مدت میں فراہم کی جائیگی جبکہ مذکورہ ایکٹ کے تحت تاخیر، غیر معیاری سروسزیا انکار کی صورت میں مجاز اپیلٹ اتھارٹیز اپیلوں کی سماعت کریں گی، تفصیلات کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ میں ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لئے مقررہ مدت دو دن، نامزد کردہ آفیسر چیف موٹر وہیکل ایگزامینر ہونگے جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اینڈ ایم ٹی ڈی ہونگے.

 

اسی طرح گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی سے متعلق سرٹیفکیٹ کے لئے مقررہ مدت دو دن، نامزد آفیسر ٹیکنیکل آفیسر/ ٹیکنیشن (ڈویژنل لیول) جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اینڈ ایم ٹی ڈی ہونگے جبکہ کمرشل گاڑیوں کو روٹ پرمٹس کے اجراء کے لئے مقررہ مدت ایک دن، نامزد آفیسر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (انٹر سٹی روٹس کیلئے) اور سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی (بین الصوبائی روٹس کیلئے) جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی سیکرٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ/ چیئر مین پی ٹی اے/ آر ٹی اے ہونگے،دریں اثناء محکمہ خوراک میں گندم پسائی لائسنس کے اجراء کے لئے مقررہ مدت 7 دن، نامزد کردہ آفیسر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی ڈائریکٹر خوراک ہونگے۔

 

اسی طرح محکمہ صنعت، تجارت و فنی تعلیم میں خیبر پختونخوا پارٹنر شپ ایکٹ 1932 کے تحت فرم کی رجسٹریشن کے لئے مقررہ مدت 05 دن نامزد آفیسر رجسٹرار آف فرمز،سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت سوسائیٹیز کی رجسٹریشن / تجدید کے لئے مقررہ مدت 15 ایام اور نامزد آفیسر ڈائریکٹر صنعت و تجارت جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی سیکرٹری محکمہ صنعت و تجارت ہونگے اور خیبر پختونخوا ٹرسٹ ایکٹ 2020 کے تحت ٹرسٹ کی رجسٹریشن / تجدید کے لئے مقررہ مدت 15 دن، نامزد آفیسر ڈائریکٹر صنعت و تجارت اور مذکورہ تینوں خدمات کے حصول میں تاخیر یا انکار کی صورت میں اپیلیٹ اتھارٹی سیکرٹری محکمہ صنعت، تجارت و فنی تعلیم ہونگے۔اس امر کا اعلان محکمہ انتظامیہ حکومت خیبر پختونخواک کی جانب سے جاری کردہ تین الگ الگ اعلامیوں میں کیا گیا۔

 

خیبرپختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی میں مزید خدمات کی فراہمی کا اعلان
خدمات کی فراہمی کے لئے مقررہ مدت، نامزد آفیسر اور اپیلیٹ اتھارٹی مقرر

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) حکومت خیبرپختونخوا نے خیبرپختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی کی درج ذیل خدمات کا اعلان کیا ہے، خدمات نامزد افسران کی جانب سے مقررہ مدت میں فراہم کی جائیگی جبکہ مذکورہ ایکٹ کے تحت تاخیر، غیر معیاری سروسزیا انکار کی صورت میں مجاز اپیلٹ اتھارٹیز اپیلوں کی سماعت کریں گی، تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات میں میرج رجسٹریشن اور طلاق رجسٹریشن کے لئے مقررہ مدت بالترتیب تین دن اور سات تا پندرہ ایام، نامزد آفیسر ویلج و نیبرہوڈ کونسل سیکرٹری اور اپیلیٹ اتھارٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ ڈپٹی ڈائریکٹر بلدیات ہونگے اسی طرح ڈیمالش، حدود سرٹیفکیٹ اور پینے کے صاف پانی سکیموں کی سپلائی لائن کی مرمت کے لئے مقررہ مدت بالترتیب سات، تین اور تین تا سات روز،نامزد آفیسر ٹی او آئی اور اپیلیٹ اتھارٹی تحصیل میونسپل آفیسر ہونگے، اسی طرح ٹی ایم ایز کی حدود میں بند نالوں اور نالیوں کو کلئیر کرنے کے لئے مقررہ مدت ایک تا تین روز، نامزد آفیسر ٹی او آئی اور اپیلیٹ اتھارٹی تحصیل میونسپل آفیسر، سینیٹیشن کے لئے مقررہ مدت تین دن، نامزد آفیسر چیف آفیسر ٹی او آئی، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، چھوٹے کاروبار کے لئے ٹریڈ لائسنس کے اجراء کے لئے مقررہ مدت 10 یوم، نامزد آفیسر ٹی او آر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، سٹریٹ لائٹس کی مرمت وغیرہ کے لئے مقررہ مدت تین تا سات یوم، نامزد آفیسر ٹی او آئی اور مذکورہ تینوں خدمات کے لئے اپیلیٹ اتھارٹی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ہونگے جبکہ پھل اور سبزیوں کے مارکیٹس کے قیام کے لئے این او سی کے اجراء کے لئے مقررہ مدت 45 دن، نامزد آفیسر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن اور اپیلیٹ اتھارٹی آر ایم او ہونگے، اس امر کا اعلان محکمہ انتظامیہ حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا۔


شیئر کریں: