Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ناقابل تلافی نقصان – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ناقابل تلافی نقصان – محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جانی ومالی نقصانات کی ابتدائی سرکاری رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق صوبے بھر میں 289افراد لقمہ اجل بن گئے جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی ساڑھے تین سو افراد زخمی ہوئے۔مکانات تباہ ہونے سے چھ لاکھ 75ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں ان میں سے کچھ لوگ رشتہ داروں کے پاس پناہ لئے ہوئے ہیں کچھ لوگوں کو سرکاری اور فلاحی اداروں کی طرف سے خیمے مل گئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد آج بھی کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق 87 ہزار رہائشی مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ایک ہزار چار سو کلو میٹر سڑکیں اور 73 پل دریا برد ہوگئے جس کی وجہ سے دور افتادہ دیہات کے لاکھوں افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

 

سیلاب می دو سو سے زائد طبی مراکز، ساڑھے تین سو آبی گزرگاہیں بھی دریابرد ہوگئیں ننانوے ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی تیار فصلیں اور باغات بھی تباہ ہو گئے۔چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان، کرک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک سو پانچ چھوٹے پن بجلی گھر بھی سیلاب میں بہہ گئے۔ صوبائی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ، زخمیوں کو دولاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔گھرمکمل طور پر تباہ ہونے پر دو لاکھ، جزوی نقصاں پر ایک لاکھ اور مال مویشیوں کی ہلاکت پر بھی معاوضہ ملے گا۔صوبائی حکومت نے متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لئے اڑھائی ارب روپے کا فنڈ بھی جاری کردیا ہے تاہم متاثرین کی بحالی اور دوبارہ آباد کاری کے لئے ایک سو دو ارب روپے درکار ہیں۔انفراسٹریکچر کی بحالی اولین ترجیح ہے جس کے لئے خطیر رقم درکار ہے۔

 

عوام، فلاحی اداروں اور سول سوسائٹی بھی متاثرین کی مدد کے لئے متحرک ہوچکی ہے۔انسانی جانوں کا ضیاع ایسا نقصان ہے جس کی کوئی تلافی نہیں،نہ ہی قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس میں ہے تاہم بہتر منصوبہ بندی کے زریعے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ،بروقت مناسب اقدامات کے زریعے جانی ومالی نقصانات کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں سے سیلاب آتا ہے وہیں پر اسے روکنے کی منصوبہ بندی ہونی چاہئے ارباب اختیار و اقتدار اور منصوبہ سازوں کو اس تجویز پر سنجیدگی اے غور کرنا چاہئے۔


شیئر کریں: