Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ  نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے موثر تدارک اور تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کلائیمٹ چینج پالیسی بمعہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے موثر تدارک اور تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کلائیمٹ چینج پالیسی2022 بمعہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی

وزیراعلیٰ  نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے موثر تدارک اور تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کلائیمٹ چینج پالیسی بمعہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی

 

پشاور ( نمایندہ چترال ٹایمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے موثر تدارک اور تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کلائیمٹ چینج پالیسی2022 بمعہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی ہے۔ مذکورہ ایکشن پلان میں مختلف شعبہ جات میں موسم اور ماحولیات پر اثر انداز ہونے والے 129 عوامل کی تخفیف(کمی) جبکہ 172 ماحول دوست امور کو اپنانے کے اقدامات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ محمود خان نے موسمیاتی تبدیلی پالیسی کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے آثار نمایاں طور پر محسوس کئے جارہے ہیں، رواں سال صوبے کے مختلف مقامات پر شدید گرمی کے باعث متعدد جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث رواں مون سون سیزن کے دوران سیلاب میں بھی شدت دیکھی گئی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے یہ اثرات صوبے کے شمالی علاقوں میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ چینج پالیسی کے ایکشن پلان کو مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ترجیحی اقدامات ، قلیل المدتی ، وسط المدتی اور طویل المدتی اقدامات شامل ہیں۔ اگر کلائمیٹ چینج پالیسی کے ایکشن پلان پر اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ کام کیا جائے تو ہم بہت جلد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹ سکتے ہیں اور کافی حد تک موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات پر قابو پاسکتے ہیں۔ ا نہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کا اعلان 2017 میں کیا گیا تھا لیکن سابق فاٹا کے صوبے میں انضمام کے پیش نظر محکمہ ماحولیات ، جنگلات اور جنگلی حیات کی جانب سے نئی پالیسی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ا ±نہوںنے کہاکہ موجودہ پالیسی میں جنوبی اضلاع میں ٹڈی دل کے حملے ، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور نئی ماحولیاتی زوننگ کے تعین کیلئے پالیسی میں ترمیم کی گئی ہے اور ایک جامع پالیسی کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کو جو اقدامات کرنے ہیں ان کیلئے لائحہ عمل بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

 

وزیراعلیٰ محمود خان نے موسمیاتی تبدیلی سے پید اہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت کے دیگر اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت نے اس مقصد کیلئے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا جس کے تحت صوبہ بھر میں ایک ارب پودے لگائے گئے ہیں جبکہ موجودہ دور حکومت میں ٹین بلین ٹری منصوبے کے تحت مزید ایک ارب پودے لگانے کاہدف جلد حاصل کرلیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں پلاسٹک بیگز کے استعمال اور خرید و فروخت پر پابندی لگارکھی ہے تاکہ قدرتی ماحول کو برقرار رکھا جائے اوراسے آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
65461