Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں چودہ سو کلومیٹر سے زائد سڑکیں بہہ گئیں، 73 سے زائد پل تباہ ، سینکڑوں سکولوں اور 208 بڑے چھوٹے ہسپتالوں کو نقصان پہنچا، 99 ہزار سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی فصلیں تباہ ہوئیں۔ شوکت یوسفزئی

Posted on
شیئر کریں:

صوبے میں چودہ سو کلومیٹر سے زائد سڑکیں بہہ گئیں، 73 سے زائد پل تباہ ، سینکڑوں سکولوں اور 208 بڑے چھوٹے ہسپتالوں کو نقصان پہنچا، 99 ہزار سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی فصلیں تباہ ہوئیں۔ شوکت یوسفزئی

اسلام آباد (نمائندہ چترال ٹائمز) صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب نے خیبر پختونخوا میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اب تک 289 افراد جاں بحق،348 زخمی ہوئے جبکہ 6 لاکھ 75 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور 87 ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جس دن سے بارشیں شروع ہوئیں وزیراعلیٰ محمود خان نے پراوینشل فلڈ کنٹرول روم قائم کیا جس میں تمام محکموں کے نمائندے موجود رہے اور ایک بہترین کوآرڈینیشن رہی،ہیلپ لائن 1700 بنائی گئی، اضلاع کے لیول پر کنٹرول روم بنائے گئے، سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوا، صوبے میں چودہ سو کلومیٹر سے زائد سڑکیں بہہ گئیں، 73 سے زائد پل تباہ ہوئے، سینکڑوں سکولوں کو نقصان پہنچا، 1400 سو کلومیٹر سڑکیں اور 208 بڑے چھوٹے ہسپتالوں کو نقصان پہنچا، 99 ہزار سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی فصلیں تباہ ہوئیں۔ اسی طرح 350 واٹر چینلز تباہ ہوئے، چار لاکھ 7 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا کیا اور ستر ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا گیا کیونکہ پہلے سے ہی وارننگ جاری کر دی گئی تھی اسلئے ریسکیو امدادی ٹیمیں،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن الرٹ رہے۔

 

انہوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ کل تیرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔وزیر اعلیٰ محمود خان تقریبا تمام آفت زدہ علاقوں میں گئے اور لوگوں سے ملے، ان کو تسلی دی اور امدادی کاموں کی نگرانی کی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سب سے زیادہ اموات 34 افراد سوات میں جاں بحق ہوئے ڈی آئی خان 31 مانسہرہ 22 لوئیر دیر اور ساؤتھ وزیرستان میں 17، مردان اور کرک میں 15,،15،لوئر کوہستان اپر دیر باجوڑ،لکی مروت میں تیرا تیر،ا خیبر میں گیارہ، صوابی مہند میں سات سات،اپرکوہستان بٹگرام میں 6،6، شانگلہ ملاکنڈ میں 4،4 افراد جاں بحق ہوئے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت نے موسمی حالات کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا، ایس ایم ایس اور سیٹیزن پورٹل کا استعمال کیا ہے تاکہ لوگوں کو تمام صورتحال سے آگاہ رکھا جائے،

 

محکمہ موسمیات کے مطابق چار ستمبر سے 7 ستمبر تک ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں تیز بارشوں ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے اور میدانی علاقوں میں سیلاب کا رخ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اس لیے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں،ابھی تک صوبائی حکومت نے بارہ سو ملین روپے ابتدا میں جاری کیے اور 2.5 بلین روپے وزیراعلیٰ محمود خان نے ابھی ریلیز کرائے، نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے وہ ایک سو دو اعشاریہ تین بلین روپے ہے جو بہت بڑی رقم ہے اور صوبے کے لیے کافی مشکلات ہیں کہ وہ اپنے وسائل سے لوگوں کی بحالی کا کام کرے لیکن وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ اگر کسی اور طرف سے امداد نہ آئی تو صوبائی حکومت اپنے ہی وسائل سے اپنی عوام کو بحال کرے گی

 

۔صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کی کہ جہاں ایک طرف صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل میں اپنی عوام کی بحالی اور امدادی کاموں میں مصروف ہے وہاں وفاقی وزراء آئے روز صوبائی حکومت اور ان کی لیڈر شپ کے خلاف پروپیگنڈے کر رہی ہے، مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی وزرا ء عوام کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یا وفاقی حکومت نے ابھی تک کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا، وزیر اعظم نے میڈیا پر 10 ارب کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ کسی قسم کی امدادی سرگرمیوں میں وفاقی حکومت کا تعاون نظر نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وسائل کی ضرورت ہے تاہم وزیراعلیٰ محمود خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کسی نے بھی تعاون نہیں کیا تو وہ اپنے ہی وسائل سے عوام کی بحالی کا کام کریں گے۔


شیئر کریں: