Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ خوراک اور صوبایی حکومت چترال کے گوداموں میں عوام کوگندم کی سپلایی کا سابقہ طریقہ کار بحال کیا جایے۔ ملزمالکان کیلیے الگ سے کوٹہ مقرر کیا جایے۔ عوامی حلقے 

Posted on
شیئر کریں:

محکمہ خوراک اور صوبایی حکومت چترال کے گوداموں میں عوام کوگندم کی سپلایی کا سابقہ طریقہ کار بحال کیا جایے۔ ملزمالکان کیلیے الگ سے کوٹہ مقرر کیا جایے۔ عوامی حلقے

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز  ) پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صدیوں سے چترال کے گرین گودام سے گندم خریدنے کی جاری سہولت ختم کر دی ہے ۔ جسے عوامی حلقوں نے چترال کے گندم کا کوٹہ مل مالکان کوفروخت کرکے تجوریاں بھرنے اور غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ مختلف افرادنے اس حوالے سے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئےکہا ۔ کہ چترال کے ہزاروں افراد گرین گودام سے گندم خرید کر مقامی پن چکیوں میں پیس کر کم قیمت پر خوراک حاصل کرتے ہیں ۔ اور یہ ان کیلئے سستا ترین سہولت ہے ۔لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ لوگوں سے یہ سستی سہولت دانستہ طور پر ایک سازش کے تحت چھین لی گئی ہے ۔ اورصوبائی حکومت کی طرف سے چترال کے گرین گوداموں کے دروازے عام لوگوں کیلئے بند کردیے گئے ہیں ۔ جبکہ روزانہ گندم کی تقریباسات سو بوریاں تین فلور ملوں مںں تقسیم کئے جائیں گے ۔ اور حکومتی ریٹ پر لوگوں کو آٹا مخصوص مقامات سے فراہم کیا جائے گا۔ بظاہر صوبائی حکومت کی طرف سے اسے عوام کیلئے خوراک کے حوالے سے سہولت دینےکی کوشش قرار دی جارہی ہے ۔ لیکن حقیقت میں یہ چترال بھر میں قائم گندم کےسرکاری گودام اور سیل پوائنٹ ختم کرنے اور مستقبل میں عوام چترال کو فلور ملوں کے دست نگربنا نے کی سازش ہے ۔ اسی لئے چترال کے سابق ایم این اے شہزادہ محی الدین مرحوم نےجوٹی لشٹ چترال میں فلور مل کی تعمیر کی نہ صرف مخالفت کی تھی ۔ بلکہ تعمیر ہی نہیں کرنے دیا تھا ۔

چترال کے ایک دو شہروں کو چھوڑ کر پورے چترال میں ہر جگہ پن چکی اور بجلی سے چلنے والی گندم پیسنے کی مشینیں لگی ہوئی ہیں ۔ جن سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے ۔ جو لوگ گوداموں میں گندم خریدتے ہیں ۔ وہ ان پن چکیوں اور مشینوں میں کم قیمت پر پسائی کرکے آٹا حاصل کرتے ہیں ۔ گندم کی عام لوگوں پر فروخت پر پابندی سےغریب لوگ بہت زیادہ متاثر ہو چکے ہیں ۔ اس فیصلے سے یہ خد شہ بڑھ گیا ہے ۔ کہ مستقبل میں چترال میں خوراک کا بحران پیدا ہو گا۔ عوامی حلقوں نے پر زور مطالبہ کیا ہے ۔کہ صوبائی حکومت فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے ۔ اور پہلے سےجاری طریقہ کار کے مطابق تمام لوگوں کو گودام سے گندم خریدنے کی سہولت پہلے کی طرح فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ فلور ملوں کو کوٹہ دینے کے بہانے عام لوگوں کیلئے گودام کے دروازے بند کرنا بالکل درست نہیں۔

 

دریں اثنا چترال سے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبرچترالی نے محکمہ خوراک کی اس پالیسی کو عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہویے کہا ہے کہ صوبایی حکومت عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر ملز مالکان کی جیبیں بھرنے میں تلی ہویی ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جایے کم ہے۔ انھوں نے فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کرکے سابقہ طریقہ کار کے تحت عوام کو گوداموں سے گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ اگریہ پالیسی جاری رہی توچترال کےپرامن باشندے اپنا  بنیادی حق آ ینی اورجممہوری طریقے سے لیکر رہیں گے۔

اسی  سلسلے میں  چترال سے سابق ناظم چترال ٹو ریاض احمد دیوان بیگی نے چترال ٹایمز سے گفتگو کرتے ہویے محکمہ خورا ک کی اس پالیسی کو ناقص، عوام کش قرار دیتے ہویے کہا ہے کہ  اس پالیسی سے چند کروڑپتی ملزمالکان کو فایدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چترال کیلیے سبسیڈایزڈ گندم بھٹو کے دور سے جاری ہے جبکہ موجودہ حکومت غریب عوام سے نوالہ چھینے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ طریقہ کار کے مطابق چترال کے عوام کو گوداموں سے گندم مہیا کیاجایے اگر حکومت اور محکمہ فوڈ کو ملزمالکان سے بھتہ مل رہا ہے تو ان کیلیے صوبایی حکومت الگ سے کوٹہ مقرر کرے عوامی کوٹہ کو ہم کسی صورت ملز مالکان کو دینے پر راضی ہیں اور نہ ہونے دیں گے۔ انھوں کہا کہ صوبایی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہمیں سڑکوں پر احتجاج پر مجبور نہ کرے۔

 

اس سلسلے میں جب ڈی ایف سی چترال لویرشیر فیاض سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے چترال ٹایمز کو بتایا کہ وہ صوبایی حکومت کا ایک نوکر ہے جو پالیسی اور احکامات حکام بالا سے ملتے ہیں وہ ان پر عمل کرنے اوران  کو اجراکرنے  کے پابند ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
65455