Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہنگائی کی کمر توڑ لہر – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

مہنگائی کی کمر توڑ لہر – محمد شریف شکیب

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد مہنگائی کی شرح میں ہوشرباء اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی کی مجموعی شرح45.50 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے ملکی تاریخ میں ریکارڈ مہنگائی کے دوران بعض اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں دو سے تین سو فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سب سے زیادہ پیاز کی قیمت بڑھی جو پچاس روپے کلو سے بڑھ کر تین سو روپے کلو تک پہنچ گئی۔ٹماٹر، لہسن، ادرک، مرچ، بھنڈی، توری، آلو، چکن، انڈوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے دام بھی دگنے تگنے ہوگئے ہیں۔ محکمہ شماریات کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر بیس روپے، دال مونگ سترہ روپے ،دال چنا پندرہ اور ماش پچیس روپے فی کلو مہنگی ہو گئی،ایل پی جی کا گھریلو سیلنڈر ایک سو اٹھارہ روہے مہنگا ہوگیا اس کی تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیلاب سے تیار فصل تباہ ہو گئی اور آندورفت میں تعطل سے اکثر فصلیں سڑ گئیں جس کی وجہ سے طلب ورسد کا فرق بہت بڑھ گیا اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

 

حکومت نے ملکی ضرورت کے پیش نظر ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیاں ہنگامی بنیادوں پر پڑوسی ممالک سے درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کاروباری حلقوں کے مطابق رواں ہفتے کے آخر تک قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔سبزیوں اور پھلوں کے دام موسمی حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں تاہم دال، چاول، چینی،چائے پتی، مصالحہ جات، گیس، بجلی، کوکنگ آئل، گھی اور تیل کی قیمتیں حکومت مقرر کرتی ہے۔جن کا موسمی تغیرات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں جب ضرورت کی ایک چیز مہنگی ہوتی ہے تو دیگر اشیاء کے دام بھی غیر اعلانیہ طور پر بڑھائے جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ مارکیٹ میکینزم کا فقدان ہے۔روز افزوں مہنگائی سے جہاں غریب، متوسط، تنخواہ دار اور سفید پوش طبقے کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے وہیں حکومت، سیاسی اور جمہوری نظام سے لوگ متنفر ہو جاتے ہیں اس لئے حکومت جو قومی مفاد اور اپنی سیاسی بقاء کے لئے کمر توڑ مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے


شیئر کریں: