Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یونیورسٹی آف سوات، شرینکل دیراور زرعی یونیورسٹی پشاور کی الگ الگ سینٹ اجلاس 

شیئر کریں:

یونیورسٹی آف سوات، شرینکل دیراور زرعی یونیورسٹی پشاور کی الگ الگ سینٹ اجلاس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) قائمقام گورنر خیبرپختونخوا مشتاق احمدغنی کی زیرصدارت زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل دیر اور یونیورسٹی آف سوات کی خصوصی سینٹ کے الگ الگ اجلاس منگل کے روز گورنرہاؤس پشاور میں منعقد ہوئے۔اجلاس میں صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش بھی موجودتھے۔  مذکورہ یونیورسٹیوں کے الگ الگ سینٹ اجلاس میں گورنرانسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹس پیش کی گئیں۔ زرعی یونیورسٹی کے سینٹ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹی میں ڈگریوں کی ناقابل قبول پرنٹنگ، ایڈیشنل رجسٹرار کو کنٹرولر آف ایگزامینیشن کے اضافی چارج کے باعث غیرقانونی کنوینس الاؤنس کااجراء، ایڈیشنل رجسٹرار کو لمبے عرصے کیلئے دیے جانیوالا رجسٹرار کا چارج، وائس چانسلر کی تنخواہ کا تعین، عملے کی ترقی میں روڑے اٹکانے جیسے مسائل پر بحث ہوئی۔ یونیورسٹی کی سینٹ میں وائس چانسلر کی تنخواہ اور ایڈیشنل رجسٹرار کو دیے جانیوالے چارج کے حوالے سے یونیورسٹی کی وضاحت کو قبول کیاگیا البتہ باقی معاملات یونیورسٹی سینڈیکیٹ میں بھیجنے کافیصلہ کیاگیا جس پرسینڈیکیٹ  قانون کی روشنی میں ایکشن لے کر ایک مہینے بعد سینٹ کو رپورٹ پیش کرے گی۔
اسی طرح شہید بینظیربھٹویونیورسٹی شرینگل کے سینٹ اجلاس میں گورنرانسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ میں بتایاگیاکہ مذکورہ یونیورسٹی میں ایم ایس اور ایم فل پروگرام میں 12 ایسے امیدواروں کو داخلہ دیاگیاجو داخلہ کیلئے مطلوبہ ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے تھے اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ان کو بغیر کسی اختیار کے داخلہ ٹیسٹ سے مستثنی کیا اور ان کو ڈگریوں کا اجراء کیاگیا۔ جس پر سینٹ نے جی آئی ٹی کی سفارشات پر سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹررحمت علی خان کو داخلہ ٹیسٹ کی شرط غیرقانونی طور پر ختم کرنے پر اظہارناراضگی مراسلہ ارسال کرنیکا فیصلہ کیا۔ اسی طرح یونیورسٹی آف سوات کی خصوصی سینٹ اجلاس میں گورنرانسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق یونیورسٹی میں چند انتظامی عہدوں پرتعیناتیوں میں تجربہ، اہلیت اورعمر کی حد کو مدنظر نہیں رکھاگیا اور میرٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس پر سینٹ نے تعیناتیوں سے متعلق جی آئی ٹی کی سفارشات کو یونیورسٹی آف سوات کی سینڈیکیٹ کو حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ یونیورسٹی ایکٹ اور یونیورسٹی اسٹیٹیوٹس کی روشنی میں ایکشن لیکر رپورٹ سینٹ کو پیش کرے۔
اسی طرح جی آئی ٹی کی انکوائری رپورٹ کے مطابق سابقہ رجسٹرار کی غیراخلاقی سرگرمیوں کے  حوالے سے موجود ڈیٹا سائبرکرائمز کو بھجوانے کی منظوری دی گئی۔ سینٹ کے الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کے دوران قائمقام گورنرمشتاق احمدغنی کاکہناتھاکہ وائس چانسلر کاعہدہ ایک باوقار عہدہ ہے۔ وائس چانسلر کی عزت نفس یا شہرت کو نقصان پہنچانے پر سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا تاہم یونیورسٹیوں میں مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کی ذمہ داری وائس چانسلر پر عائد ہوتی ہے۔ قائمقام گورنر نے مزید کہاکہ ان کی کوشش ہوگی کہ نامعلوم شکایات پر کوئی کارروائی نہ کی جائے جب تک کوئی ایسے حقائق سامنے نہ آئیں جس کی تفتیش بہر حال ضروری ہو کیونکہ اکثر جب شکایت کنندہ کاواضح علم ہی نہ ہو تو انکوائری کے خاطرخوا ہ نتائج سامنے نہیں آتے۔ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، چیئرمین گورنر انسپکشن ٹیم احمدحسن،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن داؤدخان، قائمقام پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت سینٹ کے دیگرمتعلقہ اراکین نے شرکت کی۔ 
Acting Governor KP SBBU Sharingal Senate meeting photo Acting Governor KP Agri Univ Pesh Senate meeting photo

شیئر کریں: