Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے ترقیاتی منصوبے آخر پایہ تکمیل کو کیوں نہیں پہنچتے؟ – تحریر: محبوب الرحمان

شیئر کریں:

چترال کے ترقیاتی منصوبے آخر پایہ تکمیل کو کیوں نہیں پہنچتے؟ – تحریر: محبوب الرحمان
پلاننگ آفیسر منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اسلام آباد

عام طور پورے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ ترقیاتی منصوبے ہمیشہ تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور کوئی بھی منصوبہ بروقت پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔جسکی وجہ ہمیشہ حکومت کی نااہلی اورفنڈز کی عدم دستیابی قرار دیے جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیرکے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر منصوبہ کسی نہ کسی مسلئے کی بناء پر اپنی منظور شدہ لاگت اور وقت پر پورا نہیں ہوپاتا اور اس منصوبے کے پی سی ون کو دوسری ، تیسری اور کبھی کبھار چوتھی اور پانچوں بار بھی ریوائیز کرنا پڑتا ہے اور اس پی سی ون کوریوائیز اور منظور کروانے کے لئے ہر بار طویل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔اس حوالے سے پہلے ان وجوہات پر بات کرتے ہیں جن کی وجہ سے مجموعی طور پر ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز کو ریوائیز کرنا پڑتا ہے اور بعد میں چترال میں جاری میگا ترقیاتی منصوبوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر بات کرتےہیں۔

۱۔ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاو: اکثر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی مدت دو سے پانچ سال ہوتی ہے جس کے دوران یہ منصوبے مکمل کرنے ہوتے ہیں ان میں سے اکثرمنصوبے یا تو فارن فنڈڈ ہوتے ہیں یا ان منصوبوں میں فارن ا یکسچینج کمپوننٹ ہوتے ہیں جس میں منصوبے کے لئے ضروری سامان انٹرنیشنل مارکیٹ سے ڈالر میں منگوانا پڑتا ہے۔ مگر ان پانچ سالوں کے دوران مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاو اور پاکستانی کرنسی کی بے قدری کی وجہ سے ان منصوبوں کی تخمینہ لاگت بڑھ جاتی ہے اوریوں یہ منصوبے منظور شدہ لاگت پر پورا نہیں ہوپاتے جسکی وجہ سے انہیں ریوائیزکرناپڑتا ہے۔اور یوں منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔
۲۔ ناقص منصوبہ بندی: اکثر ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز سیاسی دباو یا کسی اور وجوہات کی بناء پر بغیر کسی ماہر کنسلٹنٹ، تجربہ کار انجینئیرزاور ڈیزائیں سپروائیزرز کے جلدی میں تیار اور منظور کرائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ منصوبے تعمیر کے دوران ناقص منصوبہ بندی کی نظر ہوجاتے ہیں اور کھٹائی میں پڑجاتے ہیں۔

۳۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کی ایک اور وجہ منظوری کے طویل مراحل ہیں۔ ہر منصوبے کے پی سی ون کو ایک ایکزیکیوٹنگ ایجنسی تیار کرتا ہے جسے وہ اپنے سپانسرمنسٹری کو بھیج دیتا ہے وہاں سے منظوری کے طویل مراحل سے گزرنے کے بعد یہ پی سی ون منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بھیج دیا جاتا ہے جہاں اس پی سی ون کا معائینہ کیا جاتا ہے۔ اکثر پی سی ونز اس مرحلے میں مختلف کمی بیشویوں کی وجہ سے اعتراضات لگا کر واپس کردئے جاتے ہیں، واپس شدہ پی سی ون سپانسرنگ منسڑی سے ہوتے ہو ئے واپس ایکسیکیوٹنگ ایجنسی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ ایکسیکیوٹنگ ایجنسی اس پی سی ون کا اصلاح کرنے اور منسٹری آف پلاننگ کے تمام اعتراضات ٹھیک کرنے کے بعد واپس اپنے سپانسرنگ منسٹری کو بھیج دیتا ہے اور وہاں سے دوبارہ منسٹری آف پلاننگ بھیجا جاتا ہے۔ منسٹری آف پلاننگ میں اس پی سی و ن کا دوبارہ معائینہ کیا جاتا ہے اگر پی سی ون ٹھیک نکلا تو ورکنگ پیپر تیارکر کے منظوری کے لئے سی ڈی ڈبلیو پی کے فورم میں لے جایا جاتا ہے۔ اگر سی ڈی ڈبلیو پی کوئی اعتراض لگاتاہے تو دوبارہ اسی چینل سے پھر ایکسیکیوٹنگ ایجنسی کو واپس کردیاجاتا ہے اور وہ اسے ٹھیک کرکے دوبارہ سی ڈی ڈبلیو پی کے فورم بھیج دیتاہے وہاں سے منظور ہونے کے بعد اگر منصوبے کی کل لاگت7.5ارب سے زیادہ ہے تو اسے منظوری کے لئے ایکنک بھیج دیاجاتا ہے اور یوں وہاں سے منظوری دی جاتی ہے جس کے بعد منسٹری آف پلاننگ کی جانب سے منصوبے پر کام شروع کرنے کی منظوری دی جاتی ہے اور یوں ایکسیکیوٹنگ ایجنسی اس منصوبے پر کام شروع کرتا ہے۔

۴۔ کورٹ پراسیڈنگ: اکثر ترقیاتی منصوبے کام شروع ہونے سے پہلے یا کام کے دوران کسی نہ کسی مسلئےکی بناء پر کورٹ کیسز کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اس میں کسی ایک فریق کی جانب سے عدالت میں اس منصوبے کے خلاف درخواست دائرکردیا جاتا ہے اور اسٹے لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے منصوبے کھٹائی میں پڑجاتے ہیں۔
۵۔ قدرتی آفات: بعض جاری ترقیاتی منصوبے قدرتی آفات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور بروقت مکمل نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے یہ منصوبے بھی ٹائم اور کاسٹ اووررن کی نظر ہو جاتے ہیں یوں ان منصوبوں کو بھی دوبارہ ریوائیز کرنا پڑتا ہے ۔

اب آتے ہیں چترال کے میگا پراجیکٹس اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر؛
چترال کا سب سے دیرینہ اور پرانا منصوبہ لواری ٹنل ہے۔ اس منصوبے پر کام کا آغاز 2005 میں شروع ہوا تھا اور منصوبے کے تکمیل کی مدت پانچ سال تھی۔ اس منصوبے پر کام 2008 تک جاری رہا اور تقریبا 30فیصد کام مکمل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد یہ منصوبہ ترجیحی منصوبوںمیں شامل نہ کرنے کی وجہ سے کئی سال تک مسلسل پی ایس ڈی پی سے ڈراپ کردیا گیا اور پانچ چھ سال تک اس منصوبے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے۔ 2014میں اس منصوبے کو دوبارہ پی ایس ڈی پی شامل کردیا گیا اور اس کے لئے ہر سال فنڈز مختص کئےگئے ۔اس منصوبے پر ابھی تک نوے فیصد کے قریب کام مکمل ہوچکا ہے ۔ اس منصوبے میں ٹائم اینڈ کاسٹ اوررن ہونے کی وجہ سے اس کا تیسرا نظر ثانی شدہ پی سی ون تیار کرنا پڑا جسکی کل تخمینہ لاگت 27ارب کے قریب پہنچ چکا ہےجسمیں بقایا کام جیسے چترال کی سائیٹ پر اپروچ روڈ کی تکمیل اور ٹنل کے اند ر لائیٹنگ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے کا تازہ تریں صورت حال یہ ہے کہ اس منصوبے کا تیسرا نظر ثانی شدہ پی سی ون این ایچ اے اور منسٹری آف کمینونیکشن سے منظور ہونے کے بعد سی ڈی ڈبلیو پی سےمنظوری کے منتظر ہے ۔ آئیندہ چند ہفتوں میں یہ پی سی ون سی ڈی ڈبلیو پی سی منظور ہوجائے گا پھر ایک مہینے کے اندر ایکنک سے منظور ہوتے ہی اس پر کام دوبارہ شروع ہوجائے گا ۔

چترال کا دوسرا بڑا منصوبہ چترال بونی مستوج شندور روڈ ہے اس منصوبے کے سکوپ میں چترال سے لیکر شندور تک موجودہ 153 کلومیٹرروڈ کوکشادہ کرکے دو رویہ پکا سڑک بنانا ہے یہ منصوبہ 2018میں ایکنک سے 16.8ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا اور اس پر عملی کام 2021میں جاکے شروع ہوئی لیکن پہلے منظور شدہ پی سی ون کے تخمینہ لاگت کم ثابت ہونے کی وجہ سےاس منصوبے کو دوبارہ ریوائیز کرنا پڑا۔اب اس منصوبے کی کل لاگت 21.6ارب روپے تخمینہ لگایا گیا ہے۔ این ایچ اے نے منصوبے کی دوبارہ نظر ثانی شدہ پی سی ون تیار کرکے سی ڈی ڈبلیو پی فورم سے منظور کروالیا ہے مگر منصوبے کی لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایکنک کی منظوری کے منتظر ہے۔ یہ منصوبہ بھی آئیندہ ایک یا دو ماہ میں ایکنک سے منظور ہوجائے گ گا اور اس پرکام کا دوبارہ آغاز ہوجائے گا۔

اسی طرح 82.5 کلومیٹر چترال گرم چشمہ روڈ تیسرا بڑا منصوبہ ہے یہ منصوبہ اگست 2017میں سی ڈی ڈبلیو پی سے 8ارب تیس کروڑ کی لاگت سے منظور ہوا تھا لیکن ترجیحی منصبوں میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل تین سال تک یہ منصوبہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس منصوبے کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کئےگئے ۔ تاہم اس سال کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے لئے ایک ہزار ملین روپے بھی مختص کئے گئے ہیں مگر ابھی تک اس منصوبے میں عملا کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا ایکسیکیوٹنگ ایجنسی بھی این ایچ ہے ۔۔

چوتھا بڑا منصوبہ 48 کلومیٹر چترال ایو ن بمبوریت روڈ ہے منصوبہ 2017میں سی ڈی ڈبلیو پی سے چار ارب 60کروڑ روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا یہ منصوبہ منظور ہونے کے بعد تین سال تک زمین کی قیمت کی تعین اور فیڈریلائیزیشن جیسے ایشوز کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہا اور یوں اس منصوبے کے پی سی ون کو بھی ریوائیز کرنا پڑا۔اب ا س منصوبے کا ریوائیز پی سی ون حال ہی میں دوبارہ سی ڈی ڈبلیو پی سی منظور ہوا ہےاور یوں اس منصوبے پر عملا کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
پانچواں منصوبہ بونی بوزند تورکھو روڈ ہے۔ یہ منصوبہ 2009 میں منظور ہوا تھا اور صوبائی حکومت کے سی این ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اس منصوبے کو ایکسیکیوٹ کررہی تھی کئی سال گزرنے کے بعد منصوبے پر کام مکمل نہیں ہوسکا اور یوں یہ منصوبہ انکوائیری کی نظر ہوگئی ۔ کئی سال گزرجانے کے بعد اس منصوبے کا ریوائیز پی سی ون تیار کیا گیا جو کہ ایک ارب 11 کروڑ روپے کی لاگت سے 2021 میں منظور ہوا ۔ اب اس منصوبے پر کام جاری ہے اس سال منصوبے لئے 82ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

چھٹا منصوبہ یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر ہے یہ منصوبہ مارچ 2020 کو ڈی ڈی ڈبلیو پی (ڈیپارٹمنٹل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی) سے ایک ارب 72 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا اس منصوبے کی تکمیل کی مدت دو سال اور اس کا ایکسیکیوٹنگ ایجنسی ایچ ای سی ہے ۔ منصوبے کے لئے چونکہ زمیں مختص کرکے دینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کے انتخاب اورقیمت کا تعین کرنے میں کافی وقت لگا۔ جس کی وجہ سے اس منصوبے پر کام کا عملا آغاز نہ ہوسکا ۔ اس سال اس منصوبے کے لئے صرف سو ملین کی قلیل رقم مختص کئے گئے ہیں ۔

 


شیئر کریں: