Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال اپر کے لیے دوکروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں- ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے

Posted on
شیئر کریں:

چترال اپر کے لیے دوکروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں- ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے تین افرادجاں بحق جبکہ ایک شخص ذخمی ہوا۔ پراونشل ڈیزاسٹرمینجمیٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے صوبے میں 99 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع نوشہرہ میں 77 کیمپس قائم ہیں جس میں 25000 ہزار افراد موجود ہے ان افراد کو خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔ ڈی آئی خان میں 11 کیمپس قائم ییں جس 25000 افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کی جارہی ہیں جبکہ دیر اپر میں سات، دو ملاکنڈاوردو مانسہرہ میں قائم ہیں۔

 

پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہے اور صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے میں قائم پراونشل فلڈ کنٹرول روم کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں فلڈ ایمرجنسی و ریسپانس سنٹر قائم کر دیا گیا ہے جس میں سیلاب زدگان کو ریلیف پہنچانے کے لیے تمام سرکاری ادارے ہماوقت موجود ہونگے۔ مانسہرہ میں 5 مختلف مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں جس میں سیلاب زدگان کو ادویات سمیت کھانے پینے کی اشیاء اور ضروری ساز وسامان مہیا کیا جا رہا ہے۔ اپر کوہستان میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ریسکیو آپریشن میں 2 بلغاریہ خواتین کے سمیت تین لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ لوئرکوہستان میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مختلف دیہاتوں میں 600 پیکجز متاثرہ خاندانوں تک پہنچا دیے گئے ہیں۔178 افراد کو دیر اپر سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کیا گیا۔ جبکہ چترال اپر میں 14اوردیر اپر میں 210 افراد کو بھی ریسکیو کر لیا گیا۔تین مزیداضلاع ملاکنڈ،مانسہرہ اور دیر اپر کے متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیاگیا۔ 6149 افراد کو طبی امداد ملی ہے۔ 10 خاندانوں میں این ایف آئی کٹس تقسیم کئے گئے اور10660 فوڈ پیکجز مہیا کئے گئے ہیں۔

 

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ اضلاع کیلئے پی ڈی ایم اے نے چار اضلاع کو مزید 10 کروڑ روپے جاری کردیے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین کے مطابق کوہستان لوئر کے لیے تین کروڑ، ٹانک کے لیے تین کروڑ، نوشہرہ کے لیے دو کروڑ اورچترال اپر کے لیے دوکروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔پی ڈی ایم اے نیجولائی سے اب تک مختلف اضلاع کی انتظامیہ کوہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے73 کروڑ جاری کئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہے اور لوگوں کو امداد فراہمی کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

 

 

 

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے فلڈ ایمرجنسی سرویلنس اینڈ رسپانس رپورٹ جاری

سیلاب سے متاثرہ تمام اضلاع میں ڈی ایچ او کے دفاتر میں ایمرجنسی ہیلتھ کنٹرول رومز قائم کئے گئے ہیں،ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ نیک داد آفریدی

25 مراکز صحت سیلاب میں مکمل طور پر تباہ، ایک لاکھ سے زائد متاثرین کی مختلف بیماریوں کیلئے سکریننگ کی جاچکی ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) محکمہ صحت کی جانب سے فلڈ ایمرجنسی سرویلنس اینڈ رسپانس رپورٹ جاری کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ نیک ڈاکٹر نیک داد آفریدی نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت میں فلڈ ایمرجنسی کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے جبکہ سیلاب سے متاثرہ تمام اضلاع میں ڈی ایچ او کے دفاتر میں ایمرجنسی ہیلتھ کنٹرول رومز قائم کئے گئے ہیں۔ 25 مراکز صحت سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے آتے ہی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں جہاں اب تک ایک لاکھ سے زائد متاثرین کی مختلف بیماریوں کیلئے سکریننگ کی جاچکی ہے۔ سانپ کے ڈسے 21 افراد کو برقت علاج مہیا کیا گیا جبکہ چار ہزار سے زائد جلد کے امراض میں مبتلا متاثرین کا برقت علاج بھی ممکن بنایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کل تک کچھ علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن آج سے رابطہ سڑکیں بحال ہونے سے دور افتاد علاقوں تک میڈیکل ٹیمیں پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسہال کی شکایت پر اٹھ ہزار افراد کا علاج بھی کیا گیا۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ نے متنبیہ کیا کہ سیلاب کی وجہ سے متاثرین میں ڈینگی، ملیریا، لشمینیسز اور جلد کی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر تمام متاثرہ اضلاع کے ڈی ایچ اوز کو متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگوانے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔محکمہ صحت کی جانب سے نوشہرہ، شانگلہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، دیر سمیت دیگر متاثرہ اضلاع میں ادویات کی اضاگی کھیپ بھی بھجوائی جارہی ہیں۔ ایمرجنسی رسپانس میں عالمی ادارہ برائے صحت اور یونیسف بھی ساتھ دے رہے ہیں۔ سڑکوں کی بحالی سے متاثرہ علاقوں میں ادویات کی رسد اور میڈیکل کیمپس کے انعقاد میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ متاثرین کی فوری اور بروقت امداد کیلئے محکمہ صحت کے اہلکار صوبائی ایمرجنسی کنٹرول روم میں بھی تعینات ہیں۔

 


شیئر کریں: