Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود –  بلائے ناگہانی –  شہزادی کوثر

شیئر کریں:

نوائے سُرود –  بلائے ناگہانی –  شہزادی کوثر

 

حالیہ بارشوں کی وجہ سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چترال بالا اورچترال پائیں میں بہت سے گاوں سیلاب کی نذر ہو گئے جس سے مکانات ، زمینیں اور مال مویشی سیلاب میں بہ گئے۔تیز بارش کی وجہ سے کچے مکانات منہدم ہونے ،اوررابطہ سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے آمد ورفت کے شدید مسائل پیدا ہو گئے ہیں ۔ دشوار گزار علاقوں میں ذرائع نقل حمل کی عدم دستیابی کے باعث اشیا خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئ ہے۔ چترال بالا کے دور دراز کے علاقوں میں جہاں گندم گاہنے کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا ان لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ نمی کی وجہ سے گندم کی پولیاں سڑ رہی ہیں جس سے غلہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ زمینی کٹاو کے باعث پائپ لائن اکھڑ گئے ہیں جس سے پینے کے پانی کا مسلہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

 

بجلی انٹر نیٹ کیبل اور موبائل سگنلز بھی تعطل کا شکار ہیں۔ پورے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں ۔سوات اور اس سے ملحقہ علاقے قیامت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی کچے مکانات گرنے کے واقعات سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ معصوم بچے اس آفت ناگہانی کی ذد میں آکر زندگی کو خیرباد کہہ گئے۔ کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے،لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ۔ بھوک پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سیلابی ریلے میں بہنے والے جانوروں اور انسانوں کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ تصویریں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں کہ کیچڑ میں دبی ہوئی لاش کے صرف ہاتھ نظر آرہے ہیں یا کوئی ملبے سے اپنے پیارے کے ٹھنڈے وجود کو گھسیتے ہوئے نکال رہا ہے ، قیامت اگر ہے تو یہی لمحہ ہے جس میں کسی کی دنیا لُٹتی ہے، کسی کے بڑھاپے کے سہارے کو زمین نگل لیتی ہے ،کوئی اپنے نورنظر کو ایک نظر دیکھنے کے لئے تڑپ اٹھتا ہے۔

 

اسے ازمائش کہیں یا آسمانی آفت ۔۔۔۔ جو بھی ہے اس کی وجہ سے ہمارے وطن کا وجود لہولہان ہو گیا ہے ۔ معاشی طور پر جتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ لگانا مشکل نہیں لیکن روحانی اور جذباتی طور پر جو زخم ہمیں لگا ہے اس کا مداوا کیسے ہو ۔۔؟ غم کی اس گھڑی میں سیلاب کے ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیجنے کے بجائے عملی طور پر مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر تکلیف اور مصیبت کے وقت قوم کے افراد نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہے اور اپنے طور پر مدد کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔یہ وقت حکومت کی طرف دیکھنے یا امداد کے منتظر رہنے کا نہیں ہے۔ جتنا بھی ہم سے ہو سکے گھر میں موجود اشیا خورد ونوش سے لے کر پیسے ،کپڑے،جوتے برتن  دوائیاں ،بستر کھانا خیمے۔۔جو کچھ بھی ہم خریدنے یا اپنے پاس سے دینے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ متاثرین تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔

 

یہ صرف افسوس کرنے کا وقت نہیں بلکہ دوبارہ آباد کاری کا وقت ہے، نئے حوصلے اور عزم سے مشکلات پر قابو پانے کا وقت ہے تا کہ اس آزمائش کو ہم اپنے حوصلہ سے شکست دے سکیں ۔ پہاڑی علاقوں میں بارش کی وجہ سے موسم میں خنکی پیدا ہوگئی ہے اگر دوبارہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تو متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ بہت سے علاقوں میں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی ۔بیرونی امداد کی آمد اور تقسیم کا عمل شروع ہونے تک دیر ہو جائے گی،اس لئے امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر یا کسی فاونڈیشن کے توسط سے یا ذاتی طور پر امداد کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن اس موقع پر ریا کاری اور دکھاوے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش ہونی چاہیے ،یہ نہ ہو کہ ایک کلو چینی دیتے ہوئے تصویر بنوا کر پوری دنیا کو دکھایا جائے  بلکہ کوشش ہونی چاہئیے کہ آفت ناگہانی کا شکار بننے والوں کی عزت کا بھرم قائم رہ سکے ۔۔


شیئر کریں: