Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیلاب سے متاثرہ آخری خاندان کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

Posted on
شیئر کریں:

سیلاب سے متاثرہ آخری خاندان کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

جعفرآباد( چترال ٹایمز رپورٹ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ آخری خاندان کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے، غلط اور جھوٹے الزامات لگا کر قوم کو دھوکہ نہ دیا جائے، اب صرف نعروں اور تقریروں سے کام نہیں چلے گا، عملی اقدامات کرنے ہوں گے، کل کے اجلاس میں تمام معاملات کا بغور جائزہ لے کر طویل اور وسط مدت کیلئے پالیسی مرتب کی جائے گی، سیلاب کی وجہ سے چاروں طرف پانی کا سمندر پھیلا ہوا ہے، سیلاب کی تباہی ملک بھر میں پھیلی ہے جس سے ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، خرم دستگیرکو ہدایت کی ہے کہ بلوچستان پہنچ کر بجلی کے بحالی کے نظام کی نگرانی کریں، ترکیہ، یو اے ای اور ایران کے صدور نے رابطہ کر کے پاکستانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے، ترکیہ اور یو اے ای سے امدادی سامان پہنچنا شروع ہو چکا ہے، ملک کے مخیر حضرات سے گزارش ہے کہ ماضی کی طرح مشکل حالات میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں، پاک افواج دن رات امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اتوار کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ ضلع جعفر آباد کے گاؤں اللہ دینو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے پورے ملک میں تباہی مچی ہے تاہم سندھ اور بلوچستان سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پرسوں خیبر پختونخوا میں سوات اور دیر، کالام کے علاقے تباہی کا شکار ہوگئے،

 

دریا پر تعمیر کئے گئے گھر اور ہوٹل آناً فاناً دریا برد ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 1000 سے زیادہ افراد اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ سیلاب 2010 ء کے سیلاب سے کہیں زیادہ ہے، بہت زیادہ پانی ہونے کی وجہ سے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر نگرانی ان کی ٹیم اور اتحادی حکومت کے اراکین دن رات عوام کی خدمت میں مشغول ہیں، لوگوں کا کھانا اور پینے کا صاف پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھر سے بلوچستان کا راستہ بند ہے جس کی بحالی کی ہدایت کی ہے جو آج رات تک بحال کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راستہ کی بحالی سے امدادی سامان کی ترسیل میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بجلی کے کھمبے گر گئے اور ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیرکو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں موجود رہ کر بجلی کی ترسیل کی بحالی کی نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کل رات ایرانی صدر، ترک صدر اور یو اے ای کے صدر نے فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کیلئے اپنے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ غیر ملکی صدور نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے کروڑوں لوگ مشکل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ سے امدادی سامان لے کر جہاز کراچی پہنچ رہے ہیں جبکہ یو اے ای سے امدادی سامان لے کر جہاز اسلام آباد پہنچے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ میں دوست ممالک کے صدور کا مشکور ہوں جو ماضی کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دیگر دوست ممالک سے بھی پیغامات آ رہے ہیں اور برطانیہ نے 1.5 ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح مشکل وقت میں کروڑوں پاکستانیوں کی مدد کرنے والے ملک بھر کے مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے کروڑوں بزرگوں، بھائیوں، بچوں، ماؤں اور بہنوں کی مدد کریں جو آپ کی امداد کے منتظر ہیں۔ ماضی کی طرح ان کا ہاتھ تھامیں، اللہ کے دیئے رزق حلال سے ان کی مدد کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ کل رات ایک شخص نے 6 کروڑ روپے کا عطیہ دیا اور کہا کہ میرا نام نہ لیا جائے، اسی طرح ایک بزرگ کی جانب سے وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں 45 کروڑ روپے بھی جمع کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج رات کو تاجر تنظیموں پر مشتمل وفد سے ملاقات ہوگی اور وہ بھی اپنے ہم وطنوں کیلئے امداد فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام ٹرکوں کے حساب سے اپنے مصیبت میں مبتلا بھائیوں کیلئے سامان بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا سیلاب نہیں دیکھا جس سے دیہات سے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں اموات ہوئی ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں جبکہ مکانات بھی گر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں متاثرین سیلاب کو 25 ہزار روپے فی خاندان فراہم کرے گی اور جو 38 ارب روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور این ڈی ایم اے کے ذریعے شفاف طریقے سے فراہم کی جائے گی تاکہ حق دار تک حق پہنچ سکے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ نقد امداد کی فراہمی کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا اور بلوچستان میں ہونے والی تباہی کو میں نے دیکھا ہے، اسی طرح سندھ میں بھی بے پناہ تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب سکھر آرہا تھا تو دیکھا کہ دریائے سندھ کے پانی سے ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو 15 ارب روپے کی امداد دی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں تمام وزرائے اعلیٰ اور ان کی ٹیموں کا مشکور ہوں جو دن رات کام کر رہے ہیں، محکمہ صحت کی ٹیمیں بھی بڑی محنت سے متاثرین سیلاب اور ان کے جانوروں کی طبی امداد میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف اور نیول چیف نے بتایا ہے کہ ان کی ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کر رہی ہیں جبکہ ذرائع مواصلات متاثر ہونے کی وجہ سے درجنوں ہیلی کاپٹرز سے امدادی کام لیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی اور نیوی سمیت دیگر اداروں کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی کام میں مصروف عمل ہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ کل اسلام آباد کے اجلاس میں تمام معاملات کا جائزہ لے کر وسط اور طویل المدتی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2010 ء میں بھی سیلاب آیا تھا لیکن 2022 ء کے سیلاب سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عملی کام کرنا ہے جو باتوں اور نعروں سے نہیں ہوگا، ہمیں خون پسینہ بہانا ہو گا تاکہ ترقی یافتہ قوموں کی طرح سیلاب کے نقصانات سے تحفظ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم باتیں کر کے قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتے، جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کی سیاست بند کرنا ہوگی۔ انہوں نے قوم سے گزارش کی کہ مصیبت کی اس گھڑی کے خاتمے کیلئے دعا کریں۔وزیراعظم عوام سے وعدہ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ آخری خاندان کی بحالی تک آرام تک نہیں بیٹھوں گا۔ انہوں نے بلوچستان میں امدادی اور بحالی کے کاموں کیلئے 10 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے مل کر بحالی کا منصوبہ تیار کرے گی جس کیلئے وفاقی حکومت گرانٹ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تمام ساتھی مل کر عوام تک ان کا حق پہنچائیں گے، پاکستان مشکل کی اس گھڑی پر قابو پا کر ان شاء اللہ ترقی کی منازل طے کرے گا۔


شیئر کریں: