Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا حکومت نے  سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے محکمہ ریلیف کو ڈھائی ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دیدی

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے محکمہ ریلیف کو ڈھائی ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دے دی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے محکمہ ریلیف کو ڈھائی ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن حکومت خیبر پختونخوا نے محکمہ ریلیف کو کابینہ فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے کے لیے باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ وزیراعلی محمود خان نے موجودہ صورتحال میں سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی اور ان کی بحالی کو اپنی حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت سیلاب متاثرین کو امداد کی فراہمی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔محمود خان نے کہا کہ متاثرین مشکل کی اس گھڑی میں خود کو تنہا نہ سمجھیں،صوبائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے، سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تمام متعلقہ ادارے سیلاب متاثرین کی مدد اور انہیں فوری ریلیف کی فراہمی کے لیے متحرک ہیں اورسیلابی صورتحال بہتر ہوتے ہی متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ واضح رہے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں لوگوں کو ریلیف کی فراہمی اور بحالی کی سر گرمیاں جاری ہیں۔دیر لوئر میں تاحال 24 سڑکوں کو بحال کر لیا گیا ہے جبکہ 35 فیڈرز پر بجلی بھی بحال کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیر لوئر کے سیلاب متاثرین میں 34 فوڈ پیکجز اور 60 خیمے بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 76000 گھرانوں کو خوراک فراہم کی گئی اور متاثرہ دیہاتوں سے نکاسی آب جاری ہے۔متاثرہ آبادی کے لوگوں کو عارضی طور پر قائم کیمپس منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری بھی مصروف عمل ہے۔ اس کے علاوہ ت ضلع شانگلہ میں تاحال کرورا تا اجمیر سڑک کا ایک کلومیٹر حصہ مکمل بحال کر لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ پشاور کی جانب سے سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے میڈیکل ریلیف کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔
<><><><><><>

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کی بروقت عملداری کیلئے پارلیمنٹیرئینز کو ذمہ داریاں سونپ دیں، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے اعلامیہ جاری کردیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق پارلیمنٹیرئینز کو ضلع و علاقہ کی مناسبت سے امدادی سرگرمیوں اور حکومتی مشینری کو مزید فعال بنانے کیلئے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فوکل پرسن متعلقہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں سے متعلق صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سمیت امدادی سرگرمیوں کی بروقت بجاآوری کیلئے دیگر متعلقہ محکموں سے روابط استوار رکھیں گے۔ اعلامیے کے مطابق پشاور کیلئے سابقہ ممبر قومی اسمبلی شیر علی ارباب کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے ، دیگر ارکان میں وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ایم پی اے آصف خان اور ارباب جہانداد خان شامل ہیں۔ چارسدہ کیلئے وزیر برائے قانون فضل شکور خان فوکل پرسن برائے امدادی سرگرمیاں مقرر کئے گئے ہیں۔اسی طرح نوشہرہ کیلئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز خلیق الرحمان کو فوکل پرسن برائے امدادی سرگرمیاں مقرر کیا گیا ہے۔ مردان کیلئے عاطف خان، صوابی کیلئے شہرام خان ترکئی جبکہ سوات کیلئے سابقہ ایم این اے مراد سعیدکو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ شانگلہ کیلئے شوکت علی یوسفزئی، دیر پائیں کیلئے شفیع اللہ خان، دیر بالا کیلئے سابقہ ایم این اے صبغت اللہ فوکل پرسن مقرر کئے گئے ہیں۔اعلامیہ میں کوہستان اور کولئی پالس کیلئے محمد دیدار، چترال لوئر اور اپر کیلئے وزیرزادہ جبکہ مانسہرہ کیلئے سیداحمد حسین شاہ فوکل فرسن برائے امدادی سرگرمیاں مقرر جبکہ ڈی آئی خان اور ٹانک کیلئے سابقہ ایم این اے علی امین گنڈاپور کو فوکل پرسن جبکہ دیگر ٹیم ممبران میں فیصل امین گنڈاپور اور آغاز اکرام اللہ خان گنڈاپور کو مقرر کیا گیا ہے۔


شیئر کریں: