Chitral Times

Sep 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان میں سیلاب سے 937 افراد جان بحق، 7 لاکھ94 ہزارمویشی ہلاک،2ملین ایکڑسے زیادہ اراضی پرکھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہے، اقوام متحدہ

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان میں سیلاب سے 937 افراد جان بحق، 7 لاکھ94 ہزارمویشی ہلاک،2ملین ایکڑسے زیادہ اراضی پرکھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہے، اقوام متحدہ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )اقوام متحدہ نے کہاہے کہ پاکستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں اورسیلاب سے 937 افراد جان بحق اور1343 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں، بارشوں اورسیلاب سے 2لاکھ 18 ہزارگھرمکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں جبکہ 4 لاکھ 52 ہزارگھروں کونقصان پہنچا ہے۔یہ بات انسانی ہمدردی کیلئے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر(اوسی ایچ اے) نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اورسیلاب سے 7 لاکھ94 ہزارمویشی ہلاک جبکہ 2ملین ایکڑسے زیادہ اراضی پرکھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ حالیہ بارشوں اورسیلاب سے ملک کے 116 اضلاع متاثرہ ہیں، پاکستان کی حکومت نے اب تک 66 اضلاع کوآفت زدہ قراردیاہے۔ملکی سطح پرگزشتہ 30 سالوں کے اوسط سے 2.87 فیصدزیادہ بارشیں ہوئی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں گزشتہ 30 سالوں کے اوسط سے 5 گنا زیادہ بارشیں ریکارڈکی گئی ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ انسانی صورتحال بدترہونے کااندیشہ ہے کیونکہ بارشوں اورسیلاب سے بنیادی ڈھانچہ کومسلسل نقصان پہنچ رہاہے۔پاکستان کی حکومت نے دیگرمعاونت کے علاوہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے زریعہ 35ارب روپے کے امدادی پروگرام کاآغازبھی کردیاہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ گزشتہ دوہفتوں سے انسانی صورتحال بدترہوتی جارہی ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں موسلادھاربارشوں کاسلسلہ جاری ہے جس سے مزید علاقے سیلاب اورلینڈسلائیڈنگ کی زدمیں آرہے ہیں۔یادرہے کہ چترال میں ابتک سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہوگی ہے۔

 

کے پی میں امدادی سامان کی منتقلی کے لیے دو ہیلی کاپٹرز مختص

پشاور(سی ایم لنکس)خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کے لیے دو ہیلی کاپٹرز مختص کردیے گئے جب کہ فوج نے بھی ہیلی کاپٹر کی امدادی سروس شروع کردی۔اس حوالے سے ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف علی خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دو سرکاری ہیلی کاپٹروں کو ریلیف کاموں کے لیے مختص کیا گیا ہے، سرکاری ہیلی کاپٹر ریسکیو سرگرمیوں کی صلاحیت نہیں رکھتے تاہم یہ خوراک اور دیگر امدادی مواد منتقل کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں وادی دیر میں 5 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ ان پانچ افراد کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں وہ رسیاں پکڑے ایک بڑی چٹان پر کھڑے ہیں۔ ان پانچوں میں دو آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔یہ افراد 5 گھنٹے تک امداد کا انتظار کرتے رہے لیکن کوئی امداد نہیں ملی۔ اس واقعے پر کے پی حکومت اور عمران خان کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنا ہیلی کاپٹر مدد کیلیے کیوں نہیں بھیجا۔علاوہ ازیں ڈیرہ اسماعیل خان میں متاثرین سیلاب کے لیے پاک فوج کے تعاون سے ہیلی کاپٹر سروس شروع کردی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصر اللہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرین سیلاب میں پھنسے ہونے کے باوجود اپنے گھر نہیں چھوڑ رہے، گھر نہ چھوڑنے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔


شیئر کریں: