Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیِ کا سیلاب سے متاثرہ سوات کا دورہ، ،ضلع سوات میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیِ کا سیلاب سے متاثرہ سوات کا دورہ، ،ضلع سوات میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

پشاور ( چترال ٹاءمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے ہفتے کے روز ضلع سوات کے سیلاب زدہ علاقوں چپریال، سخرہ، گلکارئی و دیگر کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے سیلاب سے متاثرہ رابطہ سڑکوں، مکانات اور دیگر انفراسٹرکچر کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور انکے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کے ازالے کے لیے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ محمود خان نے سیلاب سے متاثرہ  سوات پریس کلب کی عمارت کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر مراد سعید، چئیرمین ڈیڈک فضل حکیم یوسفزئی، کمشنر ملاکنڈ ڈویڑن شوکت علی یوسفزئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی فوری بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ سیلاب متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تمام متاثرہ اضلاع میں ریلیف سرگرمیاں بلاتعطل جاری ہیں۔ سوات سمیت سیلاب زدہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔

 

وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ رواں سال سیلابی ریلا پچھلے تمام ریلوں  سے کئی گ ±نا زیادہ اور خطرناک تھا جبکہ ندی نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے نقصان بہت ہوا، اب جو بھی دریا کے قریب عمارت تعمیر کرے گا اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔دریائے سوات کے کناروں پر واقع تعمیرات سے متعلق وزیر اعلٰی محمود خان کا کہنا تھا کہ سوات میں  کوئی بھی ہوٹل یا گھر دریا کے کنارے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبہ بھر  میں ندی نالوں کے کناروں پر تعمیرات کے سدباب کیلئے پہلے سے ہی قانون سازی کی گئی۔صوبائی حکومت لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر ریلیف اور ریسکیو آپریشن سمیت سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں مصروف عمل ہے۔اس کے علاوہ صوبائی حکومت کی تمام مشینری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت موجود ہے، عوام کی مدد کیلئے ہر ممکن حد تک جاونگا۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے اگر پورا ترقیاتی فنڈ بھی استعمال کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرینگے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے ایک ارب روپے پہلے ہی  کیلئے جاری کیے  گئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے مزید دو ارب روپے جلد جاری کیے جائیں گے۔

 

ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے بعد نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کیا جائے گا اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ محمود خان نے کہا کہ سوات تا کالام روڈ این ایچ اے کے زیر انتظام ہے لیکن تاحال بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اور  اگر وفاقی حکومت مذکورہ سڑک ایک دو دن تک ٹھیک نہیں کرتی تو میں خود صوبے کے فنڈ سے مرمت کراو ¿ں گا۔ بہت افسوس ہوا کہ این ڈی ایم اے سمیت وفاقی حکومت کا کوئی  ادارہ ریسکیو سرگرمیوں کے لیے گراونڈ پر موجود نہیں۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کیساتھ امتیازی سلوک بند کرے۔صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ اضلاع ڈی آئی خان و ٹانک کا دورہ کیا اور جلد دیگر متاثرہ اضلاع کے دورے بھی کریں گے۔امتحان کی اس گھڑی میں ہر وقت اپنے عوام کے درمیان موجود رہیں گے۔اس مشکل کی وقت میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑینگے۔

 

chitraltimes swat flod hit area

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایت پر ضلع سوات میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

پشاور ( چترال ٹاءمز رپورٹ ) حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے پیدا شدہ صورتحال کومد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایت پر ضلع سوات میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ ریلیف نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد ی سرگرمیوں کیلئے 30 اگست 2022 تک ایمرجنسی نافذالعمل رہے گی۔دریں اثناءوزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کوامدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو اشیائے خوردو نوش سمیت تمام اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ اُنہوںنے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ہر متاثرہ شخص تک رسائی کو یقینی بنایا جائے اور اُنہیں تمام تر ریلیف فراہم کیا جائے ۔ اُنہوںنے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اورمتاثرین کی مدد اور بحالی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔

 

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا صوبے کے مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

پشاور ( چترال ٹاءمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے حادثات کے زخمیوں کی جلد صحیتابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، مشکل کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور انکی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ سمیت صوبائی حکومت کی تمام مشینری متحرک ہے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، متاثرین سیلاب کو ریلیف کی فراہمی اور ان کی مکمل بحالی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

 

وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردیا گیا

پشاور ( چترال ٹاءمز رپورٹ )خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جو سیلاب سے متعلق صورتحال سے وزیراعلیٰ کو آگاہ رکھے گا اور ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں/ایجنسیوں سے رابطے میں رہیگا۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں تعینات ایڈیشنل سیکرٹری محمد حیات کو کنٹرول روم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے ۔ مذکورہ ایمرجنسی کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہیگا۔کنٹرول روم کے ساتھ مندرجہ ذیل نمبرز پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے:
UAN. 091-111-712-713
Fax. 091-9210707
Whatsapp. 0304-1033435

 

 


شیئر کریں: