Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا میں تاریخ کا سب بڑا سیلاب آیا ہے جس سے نمٹنے کے لئے صوبے کی پوری مشینری حرکت میں ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف 

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا میں تاریخ کا سب بڑا سیلاب آیا ہے جس سے نمٹنے کے لئے صوبے کی پوری مشینری حرکت میں ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ تمام اضلاع اور جہاں سیلاب کا خدشہ ہے،وہاں کنٹرول رومز قائم
صوبائی حکومت سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تاریخ کا سب بڑا سیلاب آیا ہے جس سے نمٹنے کے لئے صوبے کی پوری مشینری حرکت میں ہے وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان خود تمام امدادی کاروائیوں کی نگرانی کررہا ہے اور انکی ہدایات پر خیبر پختونخوا حکومت کے دونوں ہیلی کاپٹرز امدادی اور ریلیف سرگرمیو ں میں مصروف اور متاثرین کو اشیاء ضروریہ پہنچارہی ہیں۔ وزیراعلی ہاؤس میں صوبائی کنٹرول روم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔اسکے علاوہ متاثرہ اضلاع میں بھی ضلعی کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں اور ان کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حالات کی نگرانی کررہے ہیں۔ بہترین کوارڈینیشن اور متاثرین کو بروقت سہولیات پہنچانے کے لئے ممبران صوبائی اسمبلی کو اپنے متعلقہ اضلاع میں فوکل پرسنز بھی مقرر کئے ہیں۔

 

سول سیکرٹریٹ اطلاع سیل میں قائمقام ڈی جی رسیکیو ڈاکٹر ایاز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اپریشن بشیراللہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختوخوا سے موصول شدہ معلومات  کے مطابق 15جون سے 27اگست تک سیلاب سے  226اموات اور 282افراد زخمی ہوئے ہیں،1266مال مویشی مرگئے ہیں، 33236 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جسمیں   16612مکانات مکمل طور پر تباہ گئے ہیں اور 16624مکانات کو جزوری نقصان پہنچا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ یعنی 70افراد جان بحق ہو گئے ہیں۔ ریلیف کاروائیوں کے حوالے سے معاون خصوصی نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں 8650ٹینٹس،6850ترپال شیٹ،1800کمبل،1500میٹس پلاسٹک، 1500پے میٹس پلاسٹک،7950میٹرس،2550کچن سیٹ، 2000ہائجین کٹس اور 31ڈی واٹرنگ پمپس فراہم کی گئی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ منڈا ڈیم کا ہیڈ ورکس ٹوٹنے سے حالات کافی مخدوش ہو گئے تھے اور ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی تھی لیکن اب حالات قابو میں ہے  اور بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ضلع چارسدہ کے کئی دیہاتوں میں پانی اب بھی کھڑا ہے تاہم لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

 

ریسکیو کاروائیوں کے حوالے سے قائمقام ڈی جی ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ ریسکیو کا آپریشن تمام متاثرہ اضلاع میں جاری ہے اور اب تک تقریبا 8 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے اسکے علاوہ نوشہرہ، مردان، پشاور ڈی آئی خان، سوات سمیت تمام سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو کا آپریشن جاری ہے اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے سمیت ڈی واٹر نگ کے ذریعے رہائشی علاقوں سے پانی نکالا جارہا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں راشن اور ادویات کی دستیابی ممکن بنا دی گئی ہے۔ تمام صوبائی ادارے ہائی الرٹ ہیں اور ہر قسم ہنگامی صورت حال پر قابو پانے کے لئے چوکس ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے  ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور سوات کا دورہ کیا ہے اور امدادی کاروائیوں کی نگرانی کی۔ وزیر اعلیٰ نے ہر ضلع میں فوکل پرسن مقرر کئے ہیں اور وہ مسلسل وزیر اعلیٰ محمود خان کو حالات سے باخبر رکھے ہوئے ہیں اور سیلابی صورت حال نظر رکھے ہوئے ہیں۔  صوبائی حکومت اپنے وسائل سے سیلاب زدہ لوگوں کو ریلیف دے رہی ہے اور ا ن کی بحالی کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر صورت حال صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔بیرسٹر سیف نے اس موقع پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال میں 1700 پر کال کر سکتے ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کو بھی ایسی صورت حال میں مدد کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعلی محمود خان کے زیرِ استعمال ہیلی کو ریسکیو آپریشن اور ریلیف سرگرمیوں کیلئے مختص کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی
منتقلی کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، سیکرٹری اطلاعات ارشد خان

پشاور (چترال ٹایمز رپورٹ) سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبرپختونخوا ارشد خان کا سوات میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن تقریبا مکمل ہونے والا ہے جبکہ ریلیف و بحالی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں علاقے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سیلابی پانی کی لپیٹ میں ائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال ہے۔ سیکرٹری اطلاعات کا کہنا ہے وزیراعلی محمود خان کے زیرِ استعمال ہیلی کو ریسکیو آپریشن اور ریلیف سرگرمیوں کیلئے مختص کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی منتقلی کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب ہیلی کاپٹر کے زریعے منقطع علاقوں میں اشیائے خوردونوش پہنچایا جارہا ہے۔ ریلیف و بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے تاکہ دور دراز پہاڑی علاقوں تک رسائی جلد ممکن بنائی جاسکے۔ سیکرٹری اطلاعات ارشد خان کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کمپنسیٹ کرنے کے لئے تفصیلی سروے کیا جائے گا اور صوبائی حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متاثرین کی دادرسی کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے مکمل متحرک ہیں اور بہترین خدمات فراہم کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات مینگورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔


شیئر کریں: