Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیلاب نے تباہی مچائی لیکن مجموعی طور پر صورت حال کنٹرول میں ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف صوبائی

شیئر کریں:

سیلاب نے تباہی مچائی لیکن مجموعی طور پر صورت حال کنٹرول میں ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف صوبائی حکومت اور ادارے مکمل الرٹ اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر تباہی کی پرانی وڈیوز سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ

پشاور (چترال ٹایمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ سیلاب سے کئی علاقوں میں صورت حال خراب ہوئی ہے لیکن مجموعی طور پر حالات حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر فوری اقدامات اٹھائے گئے جس کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ امدادی سامان، راشن اور ادویات پہنچا دی گئی ہیں جبکہ سیلاب کے حوالے سے حساس علاقوں کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے سیلاب کی صورتحال سے متعلق اپنے دفتر سے جاری ایک وڈیو پیغام میں کیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات کا صوبے میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے کہنا تھا کہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے کچھ اضلاع میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں سیلابی پانی نے املاک کو نقصان پہنچایا ہے خصوصاً دریاؤں کے قریب موجود آبادی اور املاک اس سے متاثر ہوئیں ہیں تاہم مجموعی طور پر صورت حال صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

 

صوبائی ادارے اور اضلاع کی انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ ہیں اور صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ سوات، چترال، ڈی آئی خان، لکی مروت، ٹانک اور دیر میں سیلاب آیا۔ صوبائی حکومت نے زیادہ متاثر تین اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا ہے جبکہ کئی اضلاع میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ تمام علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں جبکہ وزیراعلیٰ محمود خان ان تمام اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ آج وزیراعلیٰ محمود خان کے ہمراہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ متاثرہ اضلاع کو ریلیف اور ریسکیو اقدامات کے لیے فنڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ ان متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ، میٹرس، اشیائے خوردونوش، ادویات، سیلابی پانی نکالنے کے لیے ڈرینج پمپس، ربڑ کی کشتیاں اور لائف جیکٹس بھی مہیا کی گئی ہیں۔ سیلاب کے حوالے سے حساس علاقوں میں موجود آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ بیرسٹر سیف نے اس موقع پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال میں 1700 پر کال کر سکتے ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کو بھی ایسی صورت حال میں مدد کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔ معاون خصوصی نے سوشل میڈیا پر سیلاب سے تباہی کی پرانی وڈیوز پھیلا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور انہیں مزید پریشانی میں مبتلا کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل قطعاً مناسب نہیں۔ ایسا کرنے والوں کو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ ایسے مواقعوں پر عوام میں حوصلہ اور امید پیدا کرنی چاہیے۔ بیرسٹر سیف نے امید ظاہر کی کہ بارش کے موجودہ سلسلے ختم ہوتے ہی انشاء اللہ صورتحال معمول پر آ جائے گی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
65123