Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بل جلانے والے دل جلے – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

بل جلانے والے دل جلے – محمد شریف شکیب

بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھر مار پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔بھاری بھر کم بل آنے پر لوگ مشتعل ہو کر اپنے بل جلانے لگے ہیں۔لوگوں میں پایا جانے والا اشتعال بے جا بھی نہیں تین یا پانچ مرلے کے گھر میں چار بلب، دو پنکھے چلانے والوں کا بل اگر آٹھ، دس ہزار روپے آجائے تو وہ بیچارہ بل ادا کرے گا، بچوں کی فیسیں جمع کرائے گا یا گھر کا چولہا گرم رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اگر کوئی صارف 220 یونٹ بجلی خرچ کرے تو اس کے بجلی کا خرچہ تین ہزار روپے بنتا ہے تاہم ایف ٹی اے، سیلز ٹیکس، سرچارج، ایڈیشنل ٹیکس، محصول، ٹی وی فیس، نیلم جہلم سرچارج،میٹر کرایہ اور اسپیشل ٹیکس ملا کر دس ہزار کا بل بھیجا جاتا ہے۔این جے سرچارج کی وصولی عدالت نے غیر قانونی قرار دے رکھی ہے اس کے باوجود صارفین سے وصول کیا جارہا ہے۔

 

میٹر صارف کی ذاتی ملکیت ہے اس کا کوئی کرایہ وصول کیا جا سکتا ہے نہ ہی اسے اتار کر لے جانے کا کسی کو حق حاصل ہے لیکن ہر مہینے صارف سے میٹر کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور میٹر کی مجموعی قیمت سے پچاس گنا ادائیگی کے باوجود وصولیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس صورت حال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سارا بوجھ ہر مہینے بینک کے باہر قطاروں میں لگ کر بل باقاعدگی سے جمع کرانے والوں پر یہ ظلم ڈھایا جارہا ہے۔جو سرکاری ادارے کئی عشروں سےکروڑوں کے نادہندہ چلے آرہے ہیں ان سے وصولیاں کی جاتی ہیں نہ ہی ان کی بجلی منقطع کی جاتی ہے۔جو لوگ کنڈے لگا کر مفت بجلی جلاتے ہیں ان سے بھی نہیں پوچھا جاتا۔محکمے کے پچاس ساٹھ ہزار ملازمین مفت بجلی خرچ کرتے ہیں ان کے گھروں میں تین تین ائرکنڈیشنرز لگے ہوتے ہیں جو چوبیس گھنٹے چلتے رہتے ہیں کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔

 

فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ہر مہینے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ فرنس آئل سے اضافی بجلی پیدا کرنے کا خرچہ اگر چھ ارب روپے آتا ہے تو صارفین سے بارہ ارب کی وصولی کی جاتی ہے اور اضافی وصولیوں کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔ایک دل جلے صارف نے پوچھا کہ یہ فیول ایڈجسٹمنٹ آخر کیا بلا ہے تو ایک صاحب نے مثال دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ نے تین ماہ قبل بیکری سے ایک درجن سموسے خریدے تھے۔اس وقت یاک سموسے کی قیمت بیس روپے تھی۔آج ایک سموسہ پچاس روپے کا ہوگیا۔

 

اور بیکری والا آپ کے گھر آکر تین ماہ قبل خریدے گئے سموسوں کو تیس روپے فی دانہ اضافی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرے تو اسے فیول ایڈجسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ وصول نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔دیھنا یہ ہے کہ متعلقہ محکمے کے لوگ وزیر اعظم کے احکامات کی لاج رکھتے ہیں یا نہیں۔جو لوگ غصے میں آ کر اپنا بل جلاتے ہیں وہ اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ان سے وصولی نہیں کی جائے گی بل کا ریکارڈ تو کمپیوٹر پر موجود ہے اگلے مہینے سود سمیت وصول کیا جائے گا۔کیونکہ ہمارے ہاں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو وہی بھینس کو ہانک کر لے جاسکتا ہے مالک جتنا مرضی چیختا رہے اس کی فریاد کوئی نہیں سنتا۔


شیئر کریں: