Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کے سماجی بہبود کے کام۔ تحریر ساجد خان اسسٹنٹ انفارمیشن آفیسر محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا

شیئر کریں:

صوبائی حکومت کے سماجی بہبود کے کام۔ تحریر ساجد خان اسسٹنٹ انفارمیشن آفیسر محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا

خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے صوبے میں اچھی اصلاحات،بہترین کارکردگی اور عوام کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے2018 کے عام انتخابات میں دوسری باربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی اور اقتدار میں آگئی موجودہ حکومت نے سرکاری اداروں محکموں میں عوام کے بہتر مفاد کے لیے انقلابی اصلاحات لائے اور مزید اصلاحات کے لئے کوشاں ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ کسی بھی جمہوری اور فلاحی ریاست میں حکومت اور حکمران معاشرے کے پسماندہ، معاشی لحاظ سے کمزور، معذور، بیواؤں اور یتیموں کی فلاح وبہبود کے لیے سہولیات مہیا کرتے ہیں اسی طرح خیبر پختونخو اکی موجودہ حکومت بھی عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات اٹھارہی ہے محکمہ سماجی بہبود خصوصی تعلیم اور بااختیار خواتین خیبر پختونخوا اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہے جہاں پر نہ رکنے والے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے معاشرے کی بے سہارا مالی طور پر کمزور، خصوصی افراد کی تعلیم، بیواؤں کے ساتھ مدد، نشے کے عادی افراد کے علاج معالجہ اور ان کو معاشرے کا ذمہ دار شہری بنانے کے لئے اور معاشرے سے اس طرح کے مسائل کو کم کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوشش کرتی رہتی ہے وزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایت پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی قیادت میں منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے کامیاب مہم کا آغاز ہوا اور پشاور میں 15سو کے قریب نشے میں مبتلا افراد کو مختلف جگہوں سے اٹھا کر محکمہ سماجی بہبود اور نجی بحالی مراکز میں داخل کئے جہاں پر ان کا مفت علاج معالجہ جاری ہے .

chitraltimes kp social welfare initiative 4

معاشرے سے منشیات کے ناسور کو ختم کرنے اور ان جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے 12اضلاع صوابی، پشاور، ڈی آئی خان، کرک، کوہاٹ، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ، سوات، نوشہرہ اور دیر لوئر میں Detoxificationاور Rehabilitation centers قائم کئے بھکاریوں کے خلاف بھی صوبائی حکومت نے کامیاب مہم کا آغاز کیا اور ان بھکاریوں کو پناہ گاہوں، دارالکفالا اور ویلفئیر ہوم میں کھانے کے ساتھ ساتھ رات کو قیام کی سہولیات مہیا کیں صوبے میں خصوصی بچوں کی تعلیم کی فراہمی کیلئے محکمہ سماجی بہبود نے موجودہ تحریک انصاف حکومت کے دور میں بہت سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ برائے بصارت سے محروم بچے کی بدولت نانک پورہ پشاور میں 43.9 ملین روپے کی لاگت سے کمپیوٹرائز بریل پرنٹنگ پریس کا قیام ممکن ہوا جو کہ اس ادارے کا چالیس سال سے مطالبہ تھا اور پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں پورا ہو سکا دل پرنٹنگ پریس صوبے کے تمام اضلاع کے بصارت سے محروم افراد کے اداروں کو بریل کے تحت فراہم کرتی ہے خصوصی بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے چکدرہ ضلع لوئردیر میں سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کو تعمیر کیا گیا جبکہ تیمرگرہ دیر لور اور کاٹلنگ ضلع مردان میں گونگے اور بہرے بچوں کے لئے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور قیام عمل میں لایا گیا جو گونگے اور بہرے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کر رہے ہیں.

chitraltimes kp social welfare initiative 3

خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع کے ساتھ ساتھ نئے ضم قبائلی اضلاع میں بھی خصوصی بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے قبائلی اضلاع خیبر، مہمند، باجوڑ، کرم اور جنوبی وزیرستان میں معاشرے کے خصوصی بچوں کے لئے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے پانچ سکول قائم کیے جن میں 66 بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر حکومت خیبرپختونخوا کی طرف سے رحمت اللعالمینؐ سکالرشپ کا بھی آغاز ہو چکا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر سماجی بہبود خصوصی تعلیم وبااختیار خواتین انورزیب خان نے کیا ہے مذکور سکالرشپ کا بنیادی مقصد خصوصی سٹوڈنٹس کی مالی مدد کرنا ہے جن کے تعلیمی اخراجات ان کے والدین برداشت نہیں کر سکتے اور وہ تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے صوبائی حکومت اب ان بچوں اور بچیوں کو تعلیم مکمل کرنے کے لئے فی طالبعلم پچاس ہزار روپے کا وظیفہ دے گی اس سکالرشپ کی کل مالیت 49.700ملین روپے ہے اور سکالرشپ کے ذریعے قبائلی اضلاع کے کل 994 خصوصی طلباو طالبات مستفید ہوں گے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر صوبہ کے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں محکمہ سماجی بہبود نے پناہ گاہوں کا قیام ممکن بنایا اس وقت پورے صوبے میں 8 پناہ گاہیں فعال ہیں جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر 400 افراد کو رات کا کھانا اور100 افراد کو صبح کا ناشتہ کے ساتھ قیام اور دوسری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں .

chitraltimes kp social welfare initiative 6

محکمہ نے خیبرپختونخوا میں موجود گیارہ سرائیوں کی اپ گریڈیشن بھی یقینی بنائی جس کی تخمینہ لاگت 99.877 روپے ہے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے اقدامات پر 1280.936 ملین روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے بچوں کے تحفظ کیلئے ضم قبائلی اضلاع میں 7چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کا قیام اور یتیموں بشمول گھریلو نگہداشت کی مدد کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت اور محکمہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں سے عمل میں لائے گئے ریاستی بچوں کی دیکھ بھال، تعلیمی سہولیات کے ساتھ ساتھ رہائشی سہولیات کی فراہمی کے لئے ضلع سوات میں زمونگ کور انسٹی ٹیوٹ کی قیام کیلئے 911.659 ملین روپے کی لاگت سے زمین خریدی گئی ہے معاشرے میں خواتین کی ترقی وبااختیار بنانے کے لیے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں خواتین کو جنڈر مین اسٹریمنگ اور بااختیار بنانے کے پروگرام کا تخمینہ لاگت 579.173 ملین روپے ہے صنفی بنیادوں پر تشدد (Gender Based Violance) کی شکار خواتین کی مدد اور معاشرے میں ایسے عناصر پر قابو پانے کیلئے بولو ہیلپ لائن سنٹر پشاور میں قائم کیا گیا ہے جس کی تخمینہ لاگت 10.817 بلین روپے لگائی گئی ہے صوبائی حکومت نے ضلع پشاور، مردان، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور سوات میں پہلے سے قائم دارالامانوں کی استعداد میں اضافے جبکہ ضلع صوابی، چترال، بنوں، مانسہرہ اور کوہاٹ میں خواتین کے تحفظ کے لئے دارالامان قائم کئے عقبہ سیدو شریف سوات دارالامان کی تعمیر پر 60.669 ملین روپے لاگت آئی ضم قبائلی اضلاع میں بھی خواتین کو سہولیات مہیا کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایت پر ضم اضلاع کے سب ڈویژنل کی سطح پر 25 سہولتی مراکز برائے خواتین قائم کئے گئے ہیں جن میں 2500 خواتین سلائی کڑائی اور بیوٹیشن کا کورس مکمل کر چکی ہیں.

chitraltimes kp social welfare initiative 5

اس کے علاوہ ان سینٹرز میں خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر آگاہی بھی دی جاتی ہے سہولت مراکز برائے خواتین مختلف اضلاع جیسا کہ خیبر، مہمند، باجوڑ اور کرم میں قالین کی تیاری اور خوراک کو محفوظ کرنے کے لئے تربیت کی ابتدا ہو چکی ہے جس کے ذریعے 2600 خواتین اپنا روزگار کرنے کے قابل ہو جائیں گی خواتین سے متعلق قوانین پالیسیوں اور پروگرام کے نفاذ کی نگرانی کر نے، خواتین کے حقوق کو فروغ دینے کے لئے نئے اقدامات تجویز کرنے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن بنایا گیا یہ ایک قانونی مشاورتی ادارہ ہے جو خیبر پختونخوا ایکٹ 2019 XIX کے تحت قائم کیا گیا ہے اس ادارے نے اب تک بے شمار اہم سرگرمیاں کی ہیں جن میں حکومتی پالیسیوں کو صنفی دوستانہ اور جوابدہ بنانے کے لیے تکنیکی معلومات کی فراہمی، خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین قواعد و ضوابط کا جائزہ انکوائری کمیٹیوں کو تربیت دینے، کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010کے تحت محتسب دفتر کی مدد،اجلاس، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کرنے اور خواتین کے بین الاقوامی اور قومی دن اور صنفی بنیاد پر تشدد پر 16 دن کی سرگرمی کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور تکمیل کے لیے وکالت، شراکت داروں اور سٹیک ہولڈرز بشمول خواتین پارلیمانی کاکس، سرکاری محکموں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ بہتر مصروفیات، قومی اور صوبائی سطح کے کمشنوں اورسٹیک ہولڈرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط روابط اور خواتین کے لیے سماجی نگہداشت کے اداروں جیسے دارلامان بحرانی مراکز اور جیلوں کی نگرانی کرنا شامل ہیں.

chitraltimes kp social welfare initiative 7

تحریک انصاف حکومت نے ریاستی بچوں کو بغیر کسی امتیازکے پر امن اور خوشگوار ماحول میں اپنے تحفظ،بقاء،ترقی اور شرکت کے حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لئے زمونگ کور (Zamung Kor)ماڈل انسٹی ٹیوٹ پشاور میں قائم کیا جو بچوں کے حساس معاشرے کی تشکیل کے مشن کے ساتھ کام کر رہا ہے زمونگ کور جولائی 2016 میں خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے تحت 15 بچوں کے ساتھ قائم کیا گیا تھا جس میں 2016 میں ترمیم کی گئی تھی جبکہ ریاستی بچوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کے ساتھ ہی یہ تعداد 652 تک پہنچ گئی ہے جہاں پر ریاستی بچوں کو رہائشی پناگاہ، ملبوسات دیگر ذاتی اثرات بورڈنگ صحت کی سہولیات مفت کتابیں معیاری تعلیم نفسیات سماجی ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں زمونگ کور ماڈل انسٹی ٹیوٹ کے ہر بچے کے لیے ایک انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں ماہانہ 2 ہزار روپے جولائی 2021 سے لگائے جا رہے ہیں اصل اور جمع شدہ رقم ان بچوں کو دی جائے گی پشاور میں قائم زمونگ کور انسٹیٹیوٹ میں بچوں کو دی جانے والی سہولیات کی کامیابی کے بعد موجودہ صوبائی حکومت نے دیگر اضلاع میں بھی ریاستی کمزور بچوں تک سہولیات دینے کا منصوبہ بنایا اور اس کے دائرہ کار کو دوسرے اضلاع تک بڑھانے کا مشن شروع کیا ضلع سوات، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں ماڈل انسٹی ٹیوٹ برائے ریاستی بچوں کے کیمپسز کا قیام اور پشاور میں لڑکیوں کے کیمپس کے عنوان سے ایک PC-1منظور کیا گیا جس پر 365.982 ملین روپے لاگت آئے گی زمونگ کور سوات کیمپس پر ستمبر 2021 سے کام شروع ہو چکا ہے جبکہ باقی 3 کیمپسز کے لیے عمارتیں کرائے کی بنیاد پر حاصل کرلی گئی ہیں اوراگلے مہینے سے ان کو آپریشنل کر دیا جائے گا.

chitraltimes kp social welfare initiative 8

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں خطرے سے دو چار بچوں کی دیکھ بھال،تحفظ، بہبود، تربیت، تعلیم اور بحالی کے لیے خیبر پختونخواچائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 نافذ کیا اس ایکٹ کے نتیجے میں چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد بچوں کے لیے حساس معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں پر بچے بغیر کسی امتیاز کے اپنے تحفظ،بقاء، ترقی اور شرکت کے حقوق سے لطف اندوز ہوں گے کمیشن نے اب تک کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں خیبرپختونخوا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2021کا مسودہ کم عمری /زبردستی کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا تھا جس کا محکمہ قانون کے ذریعے جائزہ لیا گیا اور مشاورتی عمل کے تحت جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2020 کے تحت فیسیلی ٹیٹینگ اوروینائل جسٹس رولز 2021 کی جانچ کے لیے محکمہ قانون میں جمع کر دیا گیا ہے 7 ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پہلی بار 8 چائلڈ پروٹیکشن کورٹس قائم کئے گئے ہیں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر کمیشن نے خطرے سے دو چار بچوں کی سہولت کے لیے کے پی چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن کے نام سے ہیلپ لائن 1121 کو فعال اور اپ گریڈ کیا اب تک 517198 ٹیکسٹ جبکہ 323972 وائس میسجز 1121 کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچائے ہیں مذکورہ کمیشن نے کورونا وباء سے متعلقہ چیلنجز کو تناظر میں رکھتے ہوئے یونیسیف کی مالی مدد سے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں ضروری سامان تقسیم کیا ہے جس سے ضلع پشاور میں 1200سے زائد بچے مستفید ہوئے خطرے سے دوچار کل 30550 بچوں بشمول 18872 مرد 11671 خواتین اور 7 خواجہ سراؤں کو صوبے کے 12 مختلف ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے رجسٹرڈ کیا گیا اور ان کو تمام سہولیات فراہم کی گئیں جب کہ خطرے سے دو چار بچوں کے 86 کیسز رجسٹر ڈکئے گئے اور انہیں سہولت فراہم کی گئی جن میں 75 مرد اور 11 خواتین شامل ہیں ان 86 کیسز میں 22 کیسز جاری ہیں اور 64 کو بند کر دیا گیا ہے زیر حراست بچوں اور بدسلوکی کا شکار ہونے والے بچوں کو مفت قانونی امداد کی فراہمی کے لیے حال ہی میں ایک پروبونو لائرز فورم قائم کیا گیا تھا 1066رضاکار چائلڈ پروڈکشن کمیٹی گراس روٹ کمیونٹی لیول پر تشکیل دی گئی ہے تاکہ حساسیت آگاہی اور کمیونٹی کے ساتھ روابط قائم کئے جا سکیں خیبرپختونخوللسائل والمحروم فاؤنڈیشن یتیموں بیواؤں معذور افراد اور غریبوں سمیت معاشرے کے نادار اور بے گھر طبقات کو ریلیف فراہم کرتی ہے فاؤنڈیشن نے جولائی 2018سے دسمبر 2021 کے دوران تعلیم صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اپنی سکیموں کے ذریعے 26047 مستحقین کو ریلیف اور سپورٹ فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے اس کے علاوہ محکمہ سماجی نے عوامی فلاحی بہبود کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔
chitraltimes kp social welfare initiative 9 chitraltimes kp social welfare initiative 10 chitraltimes kp social welfare initiative 11 chitraltimes kp social welfare initiative 12 chitraltimes kp social welfare initiative 1

 


شیئر کریں: