Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں (3) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں (3) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بوڑھی ماں پراسرار حیرتوں میں لپٹا ہوا اپنی جواں سال بیٹی کا کیس لے کر میرے سامنے بیٹھی تھی بیٹی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلا کی ذہین اور نہایت خوبصورت تھی پریشانی والی بات یہ تھی کہ اپنی ذہانت اور بے پناہ خوبصورتی کو اپنی کامیابیوں اور انا خر دی کی تسکین کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر تی تھی مثال ہے کہ زیادہ عقل مند انسان کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھنا یہی حال اِس لڑکی کا تھا ذہانت اور غیر معمولی خوبصورتی نے اِس کو مغرور بنا دیا تھا وہ خود کو عقل کل دوسروں کو غلام سمجھتی تھی ماں پریشان تھی کہ اِس کی شادی ہو جائے لیکن وہ سات منگنیاں کروا کر توڑ چکی تھی وہ اپنی بھر پور قیمت وصول کر نا چاہتی تھی میں بیوہ ماں کی مدد کر نے کے لیے اُس کی بیٹی سے ملنا چاہتا تھا لہذا میں نے بوڑھی ماں سے کہا چھٹی کے دن آپ شام کو اپنی بیٹی کے ساتھ آجائیں میں اپنی پوری کو شش کروں گا کہ آپ کی مدد کر سکوں ماں بہت خوش ہوئی اور بولی میری بیٹی کو پامسٹوں نجومیوں سے ملنے کا دیوانگی کی حد تک شوق ہے کیونکہ وہ دوسروں پر حکمرانی کر نا چاہتی ہے

 

اِس لیے بہت سارے روحانی علوم کے ماہرین کو بھی اپنی خوبصورت اداؤں میں الجھایا ہوا ہے بلکہ وہ علم نجوم پر بہت زیادہ یقین کرتی ہے ماں کی بات سن کر مطمئن ہو گیا کہ اِس طرح میں لڑکی کو شائد قائل کر کے راہ راست پر لاسکوں اب میں بھی مقررہ دن کا انتظار کر نے لگا کیونکہ مجھے بھی حضرت انسان اِس مٹی کے پتلے کے مشاہدے کا بہت شوق ہے جب بھی اِس کا کوئی غیر معمولی روٹین سے ہٹ کر مشاہدہ کر تا ہوں تو حیران ہو تا ہوں کہ یہ مشت خاک کیسے کیسے لبادوں میں چھپا ہوا ہے پھر مقررہ دن بوڑھی ماں اپنی سحر انگیز خوبصورتی کی مالک بیٹی کے ساتھ آگئی ماں اُس کو میرے علم نجوم علم الاعداد کے بارے میں بتا چکی تھی اِس لیے اشتیاق اُس کی خوبصورتی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا وہ مجسم پیکر سوال بنی میرے سامنے بیٹھی تھی وہ واقعی بے پناہ خوبصورت تھی اگر وہ اپنے حسن کے غرور میں مبتلا تھی تو ٹھیک ہی تھی میں یہاں اُس کے حسن پر زیادہ نہیں لکھوں گا اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں اُس کو عادت تھی اداؤں کی گولہ باری کی نظر بھر کر دیکھنے کی اِس لیے اُس نے اپنی اداؤں کا سحر انگیز جال پھینک کر تیر اندازی کی کو شش کی

 

اِسی دوران میں نے اُس کی شخصیت کے کچھ رازوں سے پردہ سرکایا اُس کے باطنی خو فوں کا تذکرہ کیا اُس نے مزاج کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالی تو وہ غرور سے ادب کی چادر میں آگئی اب وہ اشتیاق بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں اُس کی نفسیات جان چکا تھا اِس لیے اُس کی خوبصورتی اور ذہانت کو نظر انداز کر کے اُس کے بارے میں تفصیلا ً بات کر کے اُس کو متاثر کر نے میں کامیاب ہو چکا تھا مجھے پتہ تھا جب تک میں اِس کو قائل یا متاثر نہیں کروں گا یہ میری کسی بات نصیحت پر عمل نہیں کرے گی اور نہ ہی دوبارہ میرے پاس آئے گی میں نے جب اُس کی شخصیت کے رنگوں پر بات کی تو وہ تحسین بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی جب وہ مطمئن ہو گئی تو اُس نے کہا سر آپ واقعی اپنے علم پر عبور رکھتے ہیں اب میرے مستقبل کے بارے میں راہنمائی کریں کیونکہ اگر آپ میرے ماضی حال اور شخصیت مزاج کے بارے میں درست بات نہ کرتے تو آپ کا علم مشکوک ہو جاتا اب میں مطمئن ہوں لہذا آپ پرٹرسٹ کر سکتی ہوں میں انسانی نفسیات کے اِس کمزور پہلو سے واقف تھا کہ جب تک آپ کسی کو متاثر نہیں کرتے وہ آپ کے سامنے اپنی شخصیت کے چھپے ہوئے پہلوؤں پر بات نہیں کرتا انسان کھل کر اُس وقت بات کرتا ہے جب اُس کو یقین ہو جائے کہ سامنے والا کچھ جانتا ہے لہذا اب وہ سرنڈر کر شکی تھی پہلی ملاقات تھی میں نے اُس سے تفصیل بات کی پھر اُسے کہا اپنے سوالات دے جاؤ میں غور کر کے اگلی ملاقات میں آپ کو گائیڈ کروں گا لہذا بہت سارے سوالات دے کر چلی گئی سوالات میں بنیادی چیز آنے والے وقت میں حکمرانی کر نا بہت بڑا بزنس اربوں روپے کمانا ذہانت اور خوبصورتی کو کیش کرانا اُس کو ماضی میں ملنے والے نجومیوں نے بہت سارے سہانے خواب دکھائے تھے کہ تم انٹرنیشنل لیول پر حکمرانی کرو گی تمہاری حکمرانی اقتدار کے ایوانوں تک ہو سکتی ہے

 

تم غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہو تم جیسا اِس دھرتی پر اور کوئی نہیں ہے تم حکمرانی کر نے آئی ہو وہ وقت قریب ہے جب تم شہرت اقتدار دولت کے افق پر سب سے چمکدار ستارہ بن کر چمکوں گی وہ نجومیوں کی اِن لچھے دار باتو ں میں گم خوابوں کے گھوڑے پر سوار تھی زمینی حقائق سے بے خبر بہر حال چند دن بعد وہ پھر سوالیہ پیکر بنی میرے سامنے بیٹھی تھی میں نے غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا بیٹی تم حقیقت سننا چاہتی ہو کہ میں بھی تم کو آسمانی گھوڑے پر سوار کر ا کے بھیج دوں تو وہ بولی نہیں میں سچ سننا چاہتی ہوں تو میں نے بولنا شروع کیا دیکھو بیٹی دنیا میں بہت کم خوش قسمت ترین لوگ اِس پردہ جہاں پر نمودار ہوتے ہیں جو خوبصورتی عقل کے ساتھ مقدر کا ستارہ بھی ساتھ لے آتے ہیں دکھ کی بات ہے کہ تم مقدر کے ستارے سے محروم بیوہ غریب ماں کی بیٹی ہو کسی اونچے خاندان سے تعلق نہیں ہے آخری بات تم حد سے زیادہ تکبر اور مغرور ہو تاریخ انسانی کا کوئی ورق کھول لو جس نے بھی اِس دنیا میں غرور کیا قدرت نے اُس کو نشان عبرت بنا دیا لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ کسی شریف اچھے کھاتے پیتے امیر آدمی سے شادی کر لو اور کامیاب زندگی گزارو اللہ نے تم کو ذہانت خوبصورتی دی ہے کہ تم شکر گزا ر ہونے کے بجائے مغرور ہو کر اِن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہو عاجز ہو جاؤ ورنہ تاریخ کا دامن ایسے واقعات سے بھر ا پڑا ہے کہ کسی نے غرور کیا اورنشان عبرت بنا کیونکہ میری باتیں اُس کے خوابوں مزاج کے خلاف تھیں اِس لیے اُس نے انکار اور بحث شروع کر دی میں نے تکرار سے دامن بچایا اور کہابیٹی میں تو مشورہ دوں گا عاجز ہو کر گھر بساؤ لیکن کیونکہ میں نے اُس کے مزاج خوابوں کے خلاف بات کی تھی

 

اِس لیے ناراض اور مایوس ہو کر چلی گئی چھ ماہ بعد ماں سے فون پر بات ہوئی تو اُس نے بتایاکہ وہ اپنے پرانے منگیتر سے نکاح کر کے دوبئی چلی گئی ہے میرے دماغ میں اِس کا اینڈ جاننے کا سوال مچلتا رہا دس سال بیت گئے لیکن مجھے انتظار تھا پھر ایک دن میرے گھر پر ایک موٹی عورت بر قعے میں ملبوس آئی اور بولی سر میں چند منٹ لوں گی میں وہی جمیلہ ہوں جو غرور کے گھوڑے پر سوار تھی اپنے حسن کے جلوؤں سے لوگوں کو بیوقوف بناتی تھی پھر قدرت نے مجھے ڈس لیا منگیترمجھے خواب دکھا کر دبئی لے گیا مجھے پھنسانے کے لیے میرے بیگ میں ہیروئن رکھ دی میں پکڑی گئی اور جیل ہو گئی اُس نے مُڑ کر میری طرف دیکھا بھی نہیں دس سال جیل میں میرا حسن اور عقل سب کھو گئے میں جگر کی مریضہ بن گئی رنگ روپ اڑ گیا موٹاپے کی بیماری کا شکار ہو گئی دس سال بعد رہا ہو کر واپس آئی تو آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں میرے لیے دعا کرئیے گا اور میں سوچنے لگا انسان وقتی حسن دولت پر کتنا ناز کرتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔


شیئر کریں: