Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم نے دکان داروں سے فکسڈ ٹیکس کی وصولی معطل کردی

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم نے دکان داروں سے فکسڈ ٹیکس کی وصولی معطل کردی

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ)وزیراعظم نے بجلی کے بلوں کے ذریعے دکان داروں سے فکس ٹیکس کی وصولی معطل کردی ساتھ ہی انہوں نے ٹیکس وصولی کی شرح مقررہ حد سے زائد کرنے کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے نرخ اور بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کلیکشن کے معاملے پر لاہور میں ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، چیئرمین ایف بی آر، وفاقی سیکریٹریز توانائی اور خزانہ اور پٹرولیم کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے بجلی کے بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی کو فوری طور پر معطل کرکے ٹیکس وصولی کے لیے نئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کردی۔شہباز شریف نے بجلی کے بلوں کے ذریعے دکان داروں پر فکسڈ سیلز ٹیکس کو متفقہ شرح سے زیادہ لاگو کرنے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کی کہ دکان داروں سے ٹیکس وصولی پر کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے تاجروں کے نمائندگان کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔مزید برآں وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور حکام کو فوری طور پر غریب طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا موثر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت غریب طبقے کے مالی تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے کوشاں ہے۔

 

 

وفاقی حکومت کی 30 جون کے بعد پہنچنے والی درآمدی اشیاء کو کلیئرنس کی اجازت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی حکومت نے 30 جون 2022 کے بعد پہنچنے والی درآمدی اشیاء کو کلیئرنس کی اجازت دے دی۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت تجارت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جون کے بعد بندرگاہ اور ایئرپورٹ پہنچنے والی اشیاء کو اجازت دی گئی ہے، گاڑیوں، موبائل، ہوم اپلائنسز پر 100فیصد سرچارج کی ادائیگی پر اجازت ہوگی، یہ اجازت 30 جون کے بعد اور 31 جولائی تک پہنچنے کی شرط پر دی گئی ہے جبکہ دیگر درآمدی اشیاء کو 35 فیصد تک سرچارج کی ادائیگی پر اجازت دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ31 جولائی کے بعد پہنچنے والی درآمدی اشیاء کو 35 فیصد سرچارج کی ادائیگی پر اجازت ہوگی اور 30 جون کے بعد اور 31 جولائی تک پہنچے والی درآمدی اشیاء پر 25 فیصد سرچارج عائد ہوگا۔دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے حکومت نے لگڑری اشیاء کی درآمد پر سے پاپندی اٹھالی ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بندرگاہوں پر پھنسے سامان کو جلد چھوڑ دیا جائے گا، ان اشیاء پر 100 فیصد تک جرمانہ سرچارج لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ جلد نئی ریگولیٹری ڈیوٹیز لائے گا، یقینی بنائیں گے کہ ہمارا غیر ملکی زرمبادلہ صرف اشیاء ضروریہ پرخرچ ہو، زرمبادلہ ان اشیاء پر خرچ نہ ہو جن پر ہم نے پابندی عائد کی ہے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 19 مئی کو لگڑری اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی، حکومتی پابندی کے باعث کئی اشیاء ایئرپورٹ اور بندرگاہوں پر روک دی گئی تھیں جبکہ 3 ماہ کے بعد گزشتہ رات درآمد پر پابندی اٹھائی گئی ہے۔


شیئر کریں: