Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پے در پے آفات – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پے در پے آفات – محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کا دور افتادہ علاقہ چترال پے در پے قدرتی آفات کی زد میں ہے۔اپر اور لوئر چترال کے چار مقامات پر سیلاب کی تازہ ترین لہر میں دس قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔یارخون اور بروغل کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔لوئر چترال کے علاقہ شیشی کوہ میں سیلاب سے خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے وادی کالاش کے علاقہ رمبور اور بمبوریت میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی۔اپر چترال کے علاقہ بریپ میں کئی رہائشی مکانات اور ان گھروں میں موجود مال مویشی اور کروڑوں کا گھریلو سامان بھی سیلاب برد ہوگیا۔آوی کے قریب دومادومی میں دریا کی طغیانی سے تین چھوٹے بجلی گھر، ایک درجن ہائشی مکانات، دو پائپ لائنیں اور تین رابطہ پل بہہ گئے

 

تاریخی گاوں ریشن میں بھی سیلاب سے بجلی گھر روڈ اور پانچ رابطہ پل تباہ ہوگئے۔ دوسری طرف دریا کے کٹاو سے ریشن کا ایک چوتھائی حصہ دریا برد ہوچکا ہے۔رہائشی مکانات تباہ ہونے سے کم از کم تیس خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ دریا کے کٹاو کی وجہ سے شادیر کے مقام پر اپر چترال کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے۔جن لوگوں نے پچھلے سال متبادل سڑک کی تعمیر کے لئے اپنے مکانات، زرعی اراضی اور باغات حکومت کے حوالے کئے تھے انہیں اب تک معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔چترال میں حالیہ سیلاب سے مالی نقصانات کا محتاط تحمینہ ایک ارب سے زیادہ لگایا گیا ہے۔سب سے زیادہ نقصان لوئر چترال میں قیمتی عمارتی لکڑی کا ہوا ہے۔

 

کروڑوں روپے کی عمارتی لکڑی جنگلوں میں ندی کناروں پر جمع کی گئی تھی جنہیں سیلاب بہا لے گیا۔اس سال جون سے اب تک اپر اور لوئر چترال کے 80 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں سے ایک درجن علاقے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ وزیر اعلی نے چترال میں سیلاب سے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ طلب کی ہے۔صوبائی حکومت اگر چترال جو آفت زدہ علاقہ ڈکلیئر کرکے اور وہاں ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو، امداد اور بحالی کی سرگرمیاں شروع کرے تو متاثرین جو ریلیف مل سکتا ہے زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم اور کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے متاثرین کو وعدوں کی نہیں، امداد اور بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: