Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد ۔ حجاج کی دعائیں ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

دادبیداد ۔ حجاج کی دعائیں ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

فضائل کے باب میں آتا ہے کہ حاجیوں کی دعائیں 40دنوں تک پہلے دن کی طرح قبول ہوتی ہیں 17سے31اگست تک ذی الحجہ 1442ھ یعنی 2022کے پاکستانی حاجیوں کو حج اخراجات کے لئے داخل کی ہوئی رقم میں سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے واپس کئے جارہے ہیں یہ وہ رقم ہے جومکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں مکانات کے کرایوں اور کھانے کے اخراجات میں کمی کرکے بچائی گئی ہے۔وزارت مذہبی امور کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سرکاری اسکیم کے تحت جو 34ہزار حاجی صاحبان اس سال حج پرتشریف لے گئے تھے ان کو5ارب 10کروڑ 73لاکھ50ہزارروپے کی خطیر رقم واپس کی جارہی ہے۔یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ وزارت مذہبی امور کے حُسنِ انتظام کی وجہ سے حج کے کم وبیش40دنوں کے سفر کے دوران رہائش،خوراک اور دیگر سہولیات میں کوئی کمی کسی بھی حاجی کو نظر نہیں آئی،حجاج کرام کی سہولت کا پورا پورا خیال رکھا گیا۔معلمین حج کے ساتھ گفت وشنید میں احتیاط سے کام لیا گیا۔ہرحاجی کو کرایہ مکان کی مد میں پہلے اگر 2800ریال دینا پڑتا تھا وہ2100ریال پرفیصلہ ہوا،اگر2100ریال کا نرخ تھا وہ1300ریال پرآیا۔

 

کھانے کے انتظامات میں بھی اعلیٰ معیار کے ساتھ کم سے کم نرخ مقرر کئے گئے۔اس سال حج سہولیات کی نمایاں خصوصیات میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے15000حجاج کرام کو”روٹ ٹومکہ“کی سہولت،اور مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ سے وطن واپسی کے وقت ائیرپورٹ کی جگہ رہائش گاہ/ہوٹل میں سامان کی بکنگ کے ساتھ حجاج کیلئے چیک اِن اور بورڈنگ کارڈکی فراہمی،مکمہ معظمہ میں رہائش سے حرم شریف کے لئے 24گھنٹے آرادم دہ بسوں کی فراہمی،مکہ اور مدینہ کے درمیان 450کلومیٹر سفر کے لئے جدید ترین بسوں کا انتظام،مدینہ منورہ کے مرکز یہ میں 4سٹار اور 5سٹار ہوٹلوں میں رہائش،منیٰ کے اندر مجموعے کی شکل میں جمرات کے قریب،مکاتب،عرفات میں مسجد نمرہ اور جبل عرفات کے قریب مجموعے کی صورت میں مکاتب مہیا کئے گئے،وزیرمذہبی امور مفتی عبدالشکور عربی گفتگو کے فن کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں انہوں نے ہرجگہ حجاج کے مکانات،ہوٹلوں،خیموں کا باربار دورہ کیا،مقامی معلم کے اہلکاروں کو بروقت ہدایات دئیے ان کی عربی دانی ہرجگہ کام آئی حجاج نے ہرقدم پرمحسوس کیا کہ ان کی خبر گیری کی جارہی ہے اور حکومت پاکستان کے انتظامات کی جھلک نظر آرہی ہے۔یہ ایک مثبت پیغام تھا جو عمل کے ذریعے حجاج کرام کودیا گیا،

 

اخراجات میں جو بچت کی گئی اس کو حج سپورٹ فنڈ میں جمع کیا گیا یہ مالیاتی نظم وضبط اور حساب کتاب کا مسلمہ طریقہ تھا جو آڈٹ کی رو سے بھی قابل مواخذہ نہ تھا اس میں ایک ایک پائی کو محفوظ کرنے کا طریقہ کار موجود تھا۔اس کے علاوہ حکومت نے اپریل2022میں حاجیوں کے لئے جس سبسڈی کا اعلان کیا تھا وہ بھی حج سپورٹ فنڈ میں جمع ہوا اس طرح سرکاری سکیم کے ہرحاجی کو ڈیڑھ لاکھ روپیہ واپس کرنے کی راہ ہموار ہوئی وزارت مذہبی امور کے اعلان کے مطابق 17اگست سے اس رقم کی ادائیگی شروع ہوگئی ہے یہ سلسلہ 30اگست تک بلاتعطل جاری رہے گا۔جو طریقہ کار دیا گیا ہے اس کی روسے ہرحاجی کی رقم اس کے متعلقہ بینک کو دی جائیگی اگر بینک میں اس کا اکاونٹ ہوگا تو ڈیڑھ لاکھ روپے اس کے اکاونٹ میں جمع کرکے بذریعہ ایس ایم ایس موبائل مسیج اس کو آگاہ کیا جائے گا،

 

بالفرض بینک میں اکاونٹ نہ ہوا تو متعلقہ بینک ایسے حاجی کو بذریعہ کیش یا پے آرڈر مذکورہ رقم فی الفور ادا کرے گا۔وزارت مذہبی امور اس پورے عمل کی نگرانی کرے گی اور ادائیگیوں کا عمل مکمل ہونے تک ہرحاجی کے ساتھ فون،ایس ایم ایس یا ای میل یا خط کے ذریعے رابطے میں رہے گی کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری قدم اٹھایا جائے گا۔اخبارات میں اس خبر کے شائع ہوتے ہی اخبار بین حلقوں نے اس کو اہم قدم قراردیا،اچھی نظم ونسق،گُڈ گورننس اور وعدوں کی پاسداری کی اعلیٰ مثال گردانا گیا،تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حاجیوں نے فارم کے ساتھ جو رقم ادا کی تھی اس میں سے ایک حصہ حاجیوں کو واپس کیاگیا ہے ورنہ سرکاری خزانے میں جانے والی رقم کے لئے ”گُم کھاتہ“کی ترکیب استعمال ہوتی ہے پہلی بار حکومت کے کسی دفتر پر عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے۔اور حجاج کی دعائیں اس نیک کام میں شامل حکام کو مل رہی ہیں۔


شیئر کریں: