Chitral Times

Apr 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، اپر چترال کے علاقے بشقار کے 89374 ہیکٹر جنگل کو حیاتیاتی ریزرو علاقہ قرار دینے کی بھی منظوری دی

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، اپر چترال کے علاقے بشقار کے 89374 ہیکٹر جنگل کو حیاتیاتی ریزرو علاقہ قرار دینے کی بھی منظوری دی

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اب تک کئے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ صوبائی کابینہ کا 79 واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں صوبے میں مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سوات میں پیدا ہونے والی صورتحال کا مکمل تدارک کر دیاگیا ہے اور وزیراعلیٰ محمود خان کی ذاتی نگرانی میں اداروں نے تمام ضروری اقدامات کیے جس کے نتیجے میں سوات میں آنے والے عناصر واپس جا چکے ہیں .

 

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ کوئی بڑے خطرے کی بات نہیں۔جبکہ دہشتگردی کے اِکا دُکا واقعات کا بھی تدارک کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خراب صورتحال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری خبریں من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے علاقوں میں اپنی رٹ ہر صورت قائم رکھے گی اور ملک کی سلامتی، عوام کی حفاظت اور امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ سیز فائر موجود ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ سیز فائر کے بعد کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جس سے فریقین میں بداعتمادی پیدا ہو تاہم ٹی ٹی پی کے بعض امن مخالف گروپس بھی موجود ہیں۔ صوبے میں دہشتگردی کے اکا دکا واقعات میں یہ مخالف گروپس اور دیگر جرائم پیشہ افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں احتجاجی مظاہرین سے صوبائی وزراء اور انتظامی افسران نے مذاکرات کیے.

 

وزیراعلیٰ محمود خان نے ان کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی حکومت نے اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اتحادیوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے جرگے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔صوبائی کابینہ نے فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی پرائس کمیٹی کے پرائیویٹ ممبر مختیار خان آف عشیرئی درہ ضلع اپر دیر کی بطور پرائیویٹ ممبر پرائس کمیٹی کیلئے نامزد گی میں عرصہ دو سال توسیع کی منظوری دے دی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اپر چترال کے علاقے بشقار لاسپور کے 89374 ہیکٹر جنگل کو حیاتیاتی ریزرو علاقہ قرار دینے کی بھی منظوری دی جس سے قیمتی جنگلی حیات جن میں برفانی چیتے، ہمالیہ بھورا ریچھ، ہمالیہ خرگوش، سرخ لومڑی وغیرہ کے تحفظ و افزائش میں مدد ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ضلع بونیر ڈگر کے علاقے شاہی نگر غُور کے 161 ہیکٹر فارسٹ ایریا کو کمیونٹی گیم ریزرو قرار دینے کی منظوری دے دی اس اقدام سے جنگلی حیات بشمول سیاہ تیتر، چکور، خرگوش وغیرہ کے تحفظ و افزائش میں مدد ملے گی۔

 

صوبائی کابینہ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں غیر سرکاری اور انڈسٹریل ورکرز کی کم سے کم اجرت 25000سے بڑھا کر 26000کرنے کا معاملہ ویج بورڈ کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل صوبائی حکومت نے کم سے کم اُجرت 21000 سے بڑھا کر 25000 کی تھی تاہم وزیر اعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ورکرزکیلئے اس میں مزید اضافہ کر کے 26000 روپے کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے حکومت کو مزدور برادری کا احساس ہے اور صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود غریب طبقات کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گی۔ صوبائی کابینہ نے فیکٹریز رولز 2022 کی منظوری بھی دی۔ وفاقی فیکٹریز ایکٹ 1934 کے تحت تشکیل دئیے گئے رولز موجودہ حالات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے تھے اور مذکورہ ایکٹ پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کے لئے صوبائی قانون کے تحت نئے رولز بنانے کی ضرورت تھی۔

 

کابینہ نے خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے منظور احمد کی نامزدگی واپس لیتے ہوئے انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کو کمپنی کے لئے نئے چیف ایگزکٹیو آفیسر کی تقرری کے لئے ازسرنو اشتہار جاری کرنے کی اجازت دیدی۔ صوبائی کابینہ نے کاسٹ پروڈکشن کمیٹی کی جانب سے سروے کے بعد گندم کے سپورٹ پرائس (امدادی قیمت) 2200 روپے فی 40 کلوگرام سے بڑھا کر 2022-2023کی فصل کے لئے 2600 روپے فی 40کلوگرام کرنے کی سفارشات وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی اور ریسرچ کو بھیجنے کی منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے ڈالر کی قیمت میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر مارکیٹ ریٹ سسٹم میں اضافے کی بھی منظوری دی تاکہ تعمیراتی شعبے پھلے پھولے اور ترقی کا عمل تیز ہو جس سے عوام کو روزگارملے گا اور ساتھ ہی ساتھ کنٹریکٹرز کو بھی مناسب ریلیف مل سکے گا۔

 

اسی طرح کابینہ نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور صوبائی پبلک سروس کمیشن میں سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات بیک وقت ایک ہی تاریخوں میں ہونے کی وجہ سے امیدواروں کی مشکلات کے ازالے کیلئے معاملہ صوبائی پبلک سروس کمیشن کو بھجوانے اور تاریخوں میں کم از کم وقفہ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ صوبے کے امیدواروں کودونوں امتحانات میں بیٹھنے کا موقع مل سکے۔کابینہ نے ورکنگ وویمن ہاسٹل حیات آباد کی جگہ دارالامان کرائسز سنٹر قائم کرنے، ڈسٹرکٹ گورننس اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے ملازمین کی مستقلی،خیبر پختونخوا مائنز رولز 2022ء اورمہمند ڈیم کی سیکورٹی فنسنگ کیلئے107ایکٹر اراضی کی فراہمی کی بھی منظوری دیدی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
64735