Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 قانون سازی کے دوزاویئے – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

 

 قانون سازی کے دوزاویئے –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے


مشاہدہ کریں تو قریباََ دنیا کی ہر قوم کسی نہ کسی حوالے سے متنوع الجھنوں میں گھری نظر آتی ہے مگر اپنی اپنی جگہ اپنی بساط اور حکمت عملی سے اس کے حل کرنے کے لئے کوشاں بھی۔ کہیں انفرادی طور تو کہیں دوسری قوم کے تعاون سے، تاہم بیشتر ممالک جہاں انفردای حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو عموماََ بگاڑ زیادہ پیدا ہوجاتا ہے اور صورت حال درست ہونے کے بجائے مزید بگڑ جاتی ہے یہاں تک کہ دوسری مملکتوں کی دوستی شکل میں، تو کہیں عالمی مفاد ات کے حصول کے لئے مداخلت کرنا ہی پڑتی ہے۔ لیکن ہماری الجھن ان سب سے نرالی ہے اور اس کی نوعیت کہ نہ اس کا حل انفرادی ملتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی اور قوم یا ملک اس معاملے میں کوئی مدد کرپاتے ہیں، یہ نہ سلجھنے والی الجھن، یہ لاینجل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قانون سازی کس طرح مرتب کئے جاسکتی ہے۔ اگر ہم دنیا کی کسی اور قوم کے سامنے اس دشواری کو بیان کریں، تو بات اس کی سمجھ ہی نہیں آسکے، وہ لوگ کہیں گے آپ  کے ہاں مملکت کا آئین موجود ہے، اس آئین میں قانون سازی کا طریقہ موجود ہے، آپ کا نظام ’جمہوری‘ ہے، پارلیمانی نظام ہے، جمہوری نظام کی رو سے ایک منتخب شدہ پارلیمان ہے، اس پرمنتخب شدہ  وزیر اعظم  وغیرہ بھی ہیں،  توپھر قانون سازی کے معاملہ میں آپ کو دشواری کیا ہے؟۔

ہم ان میں سے کسی بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے، یہ سب کچھ ہمارے ہاں موجود ہے اور ان کی موجودگی میں قانون سازی کے سلسلہ میں ذرا بھی دقت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں اس سلسلہ میں دقت ہے اور دقت بھی ایسی کہ (جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے) جو رفع ہی نہیں ہوسکتی، یہی وہ دقت ہے جس کی وجہ سے تشکیل پاکستان کو 75برس ہونے کو آئے، ہمارا قانون سازی کا مسئلہ بھنور میں پھنسی ہوئی لکڑی کی طرح ایک ہی مقام پر مصروف ِ گردش ہے۔ وہ دقت یہ ہے کہ ملک میں کوئی شخص ایسا نہیں جو اس سوال کو لے کر اٹھے اورسوچے اور پوچھے کہ یہاں قانون مرتب کیسے ہوگا؟ اس لئے کہ ”

ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار

آپ سوچئے کہ کیا دنیا کی کسی قوم کے سامنے اس قسم کی کوئی الجھن ہے؟ اور اس الجھن کا کوئی حل ہمیں مل سکتا ہے؟ ہم اس وقت اس نکتہ پر بحث نہیں کرنا چاہتے کہ ہمارے نزدیک اس الجھن کا حل کیا ہے؟ ہم سر دست اس کا تصور کرلیتے ہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف ہمارے ملک کا قانون ہمیں کیا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پہلے تو ہمیں انتہا پسندی کی اقسام کے بارے میں ہی علم نہیں کہ اس کی کون سی قسم قابل معافی ہے اور کون سی قابل سزا۔ اب تک تو ہم یہ پڑھتے اور لکھتے چلے آرہے ہیں کہ انتہا پسندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ان کا کوئی وطن نہیں ان میں کوئی انسانیت نہیں تو پھر جب ان کے دھڑوں میں سب کا اپنا الگ الگ مشروب ہے اور اپنے مشروب میں وہ اتنے سخت ہیں کہ دوسرے مشرب والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کرنا ان کے نزدیک گناہ سے کم نہیں، پھر ان کی زبان میں ایک ایسا ڈنگ ہے کہ جس سے وہ دلوں کو زخمی کئے بغیر کوئی بات نہیں کرسکتے۔وہ جس ماحول سے تعلیم و تربیت پا کر آتے اور جس ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں،ان کی پالیسی میں قوم کے مصالح کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ تما م دلچسپیاں سمٹ کر چند چھوٹی چھوٹی نزاعی باتوں میں جمع ہوگئی ہیں، اس لئے لامحالہ جب وہ زبان کھولیں  گے انہی مسائل پر کھولیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ گالم گلوچ اور پھر جوتی پیزار اور تشدد ہوگا اور آخر کار ہر مشرب اپنا اپنا آئین بنائیں گے، اپنی اپنی قانون سازی کریں گے، ان کے یہاں اپنی اپنی آزادی کی تھیوریوں ہوں گی۔

مذہب کے نام پر سیاسی دھڑے بندیوں کا زور بڑھتا جارہا ہے، جہاں کہیں انہیں موقع ملے وہ وہاں نہایت منہ پھٹ اور بے لگام طریقے سے اپنے سیاسی مسلک کی تائید اور مسلک مخالف کے لوگوں کی تذلیل و تضیحک و تفسیق کرنے لگ جاتے ہیں، یہ ایک بڑا فتنہ اور اس کو پھیلانے والے بڑے فتنہ پرور۔ ان  کے سہولت کاروں کو ہم روز اپنے ٹی وی چینلز پر دیکھتے ہیں، ان کی لاف زنیاں سنتے  اور سر دھنتے ہیں، یہ اپنے لاڈلے کو سچا تو دوسرے کو کھوٹا کہتے ہیں، یہی کچھ رائے ان کے بارے میں بھی مخالفین کی ہوتی ہے، لیکن نہ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ان کے منہ کے آگے کوئی بند کیوں نہیں باندھتا، جس کو دیکھو شتر بے مہار بنا ہوا ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، کیا ان کے لئے کوئی قانون سازی نہیں یا پھر قانون سازی کے لئے،جو بولے وہی دروازہ کھولے، کی مصداق خاموشی کا کمبل اوڑھے بیٹھے رہیں گے۔

یہ بڑے تلخ حقائق ہیں، اگر ان پر سرسری نظر ڈال کر بھی سوچیں تو ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ جن کا ذکر یہاں نام لئے بغیر کر رہا ہوں، ان کا علمی سرمایہ عقلی ذخیرہ اور کردار جو بار بار تاریخ کے سیاہ اوراق کے طرح ہمارے سامنے آجاتے ہیں، اگر ملک کے قانون ساز ی کے کلی اختیارات ان کے سپرد کردیئے جائیں یا اس طریقے سے حاصل کرلیں جس میں انہیں چمک کا سہارا لے کر یا پھر خفیہ ہاتھ کی مدد سے مل جائیں تو ذرا سوچئے کہ اس ملک کا مزید کیا حشر ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں۔ ہمارے ارباب ِ اختیار نے بھی شائد سوچا نہیں۔ اقتدار کی خواہش رکھنے والوں کی سوچ بھی گٹر کے ڈھکنے سے شروع ہوکر سڑک بنانے پر چلتے ہوئے، بائی پاس اور پھر کچرے اٹھانے تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔

قوم کے نوجوانوں کو مستقبل کا معمار کیسا بنانا ہے، ان کی آبیاری کیسے کرنی ہے، اداروں میں اصلاحات کا فائدہ اور نقصان کا میزانیہ کب رکھنا ہے۔ قوم کو مضبوط کیسے بنانا ہے۔ ریاست کو دشمن کی چالوں سے کیسے بچانا ہے، ہمیں اس حوالے سے صرف کھوکھلی تقاریر ہی سننے کو ملتی ہیں،حزب اقتدار کا سب اچھا کہنا اور حزب مخالف کا سب برباد کردیا، کا مکالمہ سنتے سنتے پوری زندگی گزر گئی لیکن خوش گمانیاں، خوش فہمیاں حقیقت کا خواب نہیں بن پا رہی کیونکہ یہاں قانون سازی کے دو زاویئے ہیں۔ 

شیئر کریں: