Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترقیم الصوفی ۔ پاکستان کے پچھترویں یوم استقلال ۔ تحریر :صوفی محمد اسلم 

Posted on
شیئر کریں:

ترقیم الصوفی ۔ پاکستان کے پچھترویں یوم استقلال ۔ تحریر :صوفی محمد اسلم

چودہ اور پندرہ اگست کے درمیانی رات کے بارہ بجے ظہور آظہر کی اواز میں انگریزی جبکہ اردو میں مصطفی علی ہمدانی کے اواز میں ایک اعلان گونجی کہ “یہ ریڈیو پاکستان ہے اور آپ سب کو پاکستان مبارک ہو” یہ اعلان معمول کے عین خلاف تھا، آج سے پہلے یہ All India Radio ہوا کرتا تھا مگر آج یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ نشر ہوا۔  کروڑوں لوگ اس اعلان کے بیقراری کے ساتھ منتظر تھے۔ اس اعلان کے ساتھ آزادی کی خوشبو کراچی سے چترال اور کوئٹہ سے خیبر تک محسوس کی گئ۔ ہر فرد کی آنکھوں میں  خوشی کے آنسو تھے اور ہر زبان پر کلمہ شکر تھا۔  کوئی سر بسجود تھے تو کوئی گلیوں میں آزادی کے  اعلانات کرتے پھیر رہے تھے۔آج 90سال بعد پہلی مرتبہ آزاد ملک میں سانس لے رہے تھے۔  لوگوں نے اس دن کیلئے بہت جانی مالی قربانی دیکر حاصل کیے اور اس آزادی کو دل و جان سے اس غزم کے ساتھ قبول کیا کہ ہم اس کو لیکر ترقی کے سارے منازل پار کرینگے۔
اس اعلان کے ساتھ ایک نیا سفر شروغ ہوا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ نئے چیلنجز کا بھی سامنا۔ ایک طرف لاکھوں تعداد میں لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ ان کیلئے طعام و قیام کا مسلہ  تو دوسری طرف سارے اداروں کا اسر نو قیام کا مسئلہ تھا ،ایک طرف مالی مشکلات تھےتو دوسری طرف افرادی قوت کی کمی۔ بغیر آئین کے نظم و ضبط برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج سے کم نہ تھا ۔ اسی طرح ترقی کی راہ میں ہزاروں رکاوٹیں اکھاڑے میں ائے مگر ہمارے آباواجداد بڑی ہمت اور حکمت عملی کے ساتھ ان مسائل و غربت و افلاس کے خلاف لڑتے رہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بدقسمتی سے مختلف ادوار میں جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں جیسے 1948 کشمیر، جنگ1965،1971، کارگل 1999 2006 سے آج  تک دہشت گردوں کے خلاف ہمارے افواج بہادری کے ساتھ لڑتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اس نو مولودہ سرزمین کی ترقی کی رفتار سست پڑگئی۔
 ساتھ ہی ساتھ سیاسی کشمکش بھی چلتی رہی،ملک میں کئی مرتبہ مارشلاء اور ایمرجنسی نافذ کی گئی،حکومتیں گرائے گئیں، آئین کی دھجیاں اڑاتے گئے جس کی وجہ ملکی ادارے کمزور سے کمزورتر ہوتے گئے، عدالتوں پر قابض ہوگئے من پسند فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے میزان پر لوگوں کا بھروسہ اٹھنے لگے، انصاف کا فقدان ہوگیا، نظام درہم برہم ہو گیا،احتساب ختم ہوگیا، ملک معاشی بدحالی کی دلدل میں پھنسنے لگے، سمگلنگ ، مانی لانڈرنگ اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ شرح خواندگی نیچے گرتی گئی نظام تعلیم مفلوج ہوگیا، مہنگائی، بے روزگاری، بےچینی اور لوڈشیڈنگ بڑھتی گئی ۔ملکی و غیر ملکی قرض بڑھنے لگے، IMFہمیں اپنے نرغے میں لے لیا اور ہم قرضوں کے نیچے دبا کر رکھ لیا، افرادی معاشی خسارے بڑھتے گئے۔
اس طویل سفر میں بیرونی دشمن سے لڑنے کیلئے ہماری فوج تو مضبوط تھی مگر اندرونی دشمن ہم خود  بنے بیٹھے تھے، ملکی ترقی کیلئے مجال ہے کہ ایک ایک پالیسی بنایا ہو جو کامیاب کے چلے، کوئی  اقدام ملکی آزادی اور خودمختاری کو پہنچنے والے نقصانات کے تدارک کیلئے موثر ثابت ہو، کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ وطن عزیز کو دور رس نقصانات کے خلاف مثبت اقدام کرے۔ یہاں تک کہ خود غرضی اور بے حسی عوام تک پھیل گئی، مجال ہے ملکی مفاد میں کوئی جلوس جلسے کرے، پالیسوں کے خلاف کوئی بھوک ہڑتال میں بیٹھ جائے۔
آج بھی ہم وہی پہ کھڑے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا ۔ لوگ کائنات کو تسخیر کرنے نکلے ہیں ہم وہی بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ آج بھی ہمارے بچوں کیلئے معیاری تعلیمی ادارے نہیں ہیں، ہسپتال میں معیاری علاج نہیں ہے،روڈ ،بجلی، گیس کا فقدان ہے ۔ آج بھی بچے اور بچیاں سکول نہیں جاتے ،آج بھی بچے بھوکے سوتے ہیں،  آج بھی لوگ بھیک مانگنے کو منافع بخش پیشہ سمجھتے ہیں، آج بھی بچے گندے نالوں میں پھینکی گئی روٹیاں  تلاش کرنے  پر مجبور ہیں۔کہاں ہیں ادارے کہاں ہے قانون و انصاف جس میں انسانی بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت کی زمہ داریوں میں شامل کیا گیا ہے ۔ آج بھی ہمارے ایوانوں میں ملکی مفاد میں کوئی بل منظور نہیں ہورہی ہیں ۔ ہمارے قومی لیڈران  دوسروں کے ہرانے کی جستجو میں مگن ہیں ۔
ملک تب ترقی کرتی ہے جب اس کےحکمران،ادارے اور عوام ملکی ترقی کیلئے یکجا ہوکر کام کرے۔جاپان کو دیکھ لے دو بڑے شہر  ختم ہونے کے بعد خود کو سبنھالا ۔ آخر کیسے؟ خاص و عام ملکی مفاد پرستی کی وجہ سے ۔ ایک صاحب فرماتا ہے کہ ایک دفعہ میں کسی سلسلے میں جاپان گیا۔ جس گھر میں میں مہمان تھا۔ اس گھر کے ایک بچے کیلئے میں کیمرہ خریدنے بازار گیا ۔ جاپان میں ایک اصول ہے کہ بیرونی ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کیلئے چیزوں کی قیمت کم ہوتی ہے۔ جبکہ میں بھی مہمان تھا اس لئے کیمرہ ادھی قیمت میں خریدا۔ جب میں یہ کیمرہ لیکر گھر ایا اور کیمرہ بچے کو دیا۔ تو اس کے والد  پوچھا کہ یہ آپ نے خریدا، میں کہا ہاں میں نے خریدا، تو وہ بندہ کیمرہ لیکر سیدھا بازار جاکر بقایا پیسہ ادا کرکے کیمرہ لے ایا۔ واپسی پر میرے پوچھنے پر بتایا کہ مہمانوں سے یہاں ٹکس نہیں لیتے، جبکہ یہ کیمرہ جاپان میں ہی رہنا ہے تو ٹیکس بھی ادا کرنا ضروری۔ ایسا نہ کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے میرے ملک کو کسی بھی قسم کا نقصان ہو۔
آج ہم کیوں دوسرے اقوام سے پیچھے ہیں۔ اس کی وجہ ہماری نکما پن ہے جس سے ہم 75سالوں سے روزانہ کی بنیاد پر دہراتے رہتے ہیں۔ آج ہمارے پاس کوئی ہنر نہیں کوئی معیاری تعلیم نہیں جو اس مملکت خداداد کی ترقی کیلئے وقف کرسکے۔  اسلیئے کم از کم اس مبارک دن کے موقع پر یہ عہد کرلے یہ ساری برائیوں کو نئی نسل سے دور رکھیں گے جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ ایسی کوئی قدم  نہ اٹھائیں جس کا نقصان کل انکو اٹھانا پڑے ۔  آزادی کے اس جذبے کو  مثبت استعمال کرے ہر روز اس جذبے کے ساتھ نکلے کہ آج ہم اپنے پیارے ملک کیلئے کچھ نہ کچھ اچھا کرکے آیئنگے ۔ ایک آزاد اور خودار قوم کی طرح زندگی گزار سکیں گے ۔

شیئر کریں: