Chitral Times

Sep 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی انتخابات میں تاخیری حربوں کی وجوہات – پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

بلدیاتی انتخابات میں تاخیری حربوں کی وجوہات – پروفیسرعبدالشکورشاہ

 

جب مفادات مشترک ہوتے ہیں تو ان کے لیے کوشش بھی مشترکہ اور برابری کی سطح پرکی جاتی ہے۔مشترکہ مفاد لوگوں کوباہمی اعتماد سے زیادہ قربت اور یقین فراہم کرتا ہے۔مشترکہ مفاد کی تازہ ترین مثال آزادکشمیرکی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ بلدیاتی ترمیمی بل اور پندرہویں ترمیم ہے۔ پندرہویں ترمیم، ٹورازم اتھارٹی کی زبانی کلامی مخالفت کرنے والی اپوزیشن نے اپنے مفادات کی خاطر حکومت سے مک مکا کر تے ہوئے ایک بار پھر عوام مینڈیٹ کی بے توقیری کی ہے۔ یہ نہ صرف عوامی منڈیٹ کی بے توقیری ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے اداروں میں تصادم کی فضاء پیدا کی جارہی ہے۔ حکومت کو ٹورازم اتھارٹی کے قیام اور پندرہویں ترمیم پر مزاحمت کا سامنا تھا جبکہ اپوزیشن کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے اپنی اجارہ داری خطرے میں دکھائی دیتی تھی۔ یوں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے کچھ لو کچھ دوکے تحت اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے عوامی اور قومی مفادات کی بلی چڑھادی۔اگرچہ قانون سازی کا حق قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے مگر عین اس موقعہ پر ترمیمی بل لانا جب الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر چکا ہے اس سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی بدنیتی عیاں ہے۔ حکومت آزادکشمیر کی روزاول سے یہ کوشش رہی ہے کہ عدلیہ کو پنپنے کا موقعہ نہ دیا جائے۔

 

عوام کی تمام تر امیدیں عدلیہ سے وابستہ ہیں اور کسی بھی ناانصافی کی صورت میں عوام عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔سپریم کورٹ نے دہائیوں سے بلدیاتی انتخابات کے عدم انعقاد کاسنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اقتدار کونچلی سطح تک منتقل کرنے کا حکم صادر کیا۔ طاقت بدعنوان بناتی ہے اور بے جا طاقت بے جا بدعنوان بناتی ہے۔ جب حکومت اور اپوزیشن نے یہ بھانپ لیا کہ اب ترقیاتی بجٹ کی بندربانٹ اور اقتدار کی طاقت میں کمی واقع ہوگی اور ان کی مطلق العنانیت اور منوپلی داو پر لگے گی تو دونوں نے سر جوڑ لیے۔ دونوں کے مشترکہ مفادات نے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے میں فاصلے، ناراضگیاں، گلے شکوے سب راتوں رات ختم کر دیے۔ دونوں نے مک مکا کرتے ہوئے اپنے مفادات کیلیے عدلیہ اور عوام دونوں کو اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی اتنی تیزی سے کی کے کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ پندہویں ترمیم سے انکاری وزیر بلدیات خود قراردار پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گئے۔بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے تاخیری حربوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے ایم ایل ایز کو اتنی جلدی انتخابات ہونے کی توقع نہ تھی اور وہ ووٹوں کے حصول کے لیے روائیتی سرمایہ دارانہ طریقہ استعمال کرنے سے قاصررہے۔ کچھ ایم ایل ایز اپنے بجٹ کے پیسے اپنے حواریوں میں ترقیاتی سکیمیوں کے ناموں پر نچھاور کر چکے تھے اوراب ان کے پاس جیب گرم کرنے کے لیے سرکاری پیسہ نہ تھا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے میڑک کی شرط کی وجہ سے بہت سے پڑھے لکھے نوجوان میدان میں اترنے کے لیے پر جوش تھے اور بہت سوں نے اپنی مہم بھی شروع کر دی تھی۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے عوامی سطح پر اقتدار کی منتقلی سے خائف ہوکر پہلے تو بلدیاتی الیکشن کے خلاف کورٹ کا دروازہ کھٹکٹھانے کا سوچا۔ جب انہیں عدالتی رٹ کی صورت میں اپنی واضع ہار نظر آگئی تو انہوں نے بہانہ بنا کر عدالت ہی کے اختیارات پر ہلا بول دیا اور ترمیمی بل لے آئے۔

 

ہمارے ایم ایل ایز کسی صورت بھی اپنے اختیارات میں کمی کا تصور نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں یہ گوارہ ہے کے کوئی اور عوامی نمائندہ سامنے آئے اور عوام جو کہ ایم ایل ایز تک پہنچ نہیں سکتے ان کے مسائل ان کے علاقے میں حل ہوں۔ اگر بلدیاتی الیکشن ہو جاتے تو سب سے بڑا فائد ہ عوام کاتھا اور عوام کا فائدہ نام نہاد عوامی نمائندوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتا۔بلدیاتی الیکشن کی گہما گہمی کے ساتھ ہی کچھ علاقوں کے مسائل جو عرصہ درازسے سرد خانے کی نظر ہو چکے تھے دوبارہ زندہ ہونے لگے اور بعض علاقوں میں ان پر کام کا آغاز بھی کر دیا گیا تھا۔ پہلے جب عوام اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتی تھی تو فنڈز نہ ہونے کی گردان سنائی جاتی تھی مگر بلدیاتی الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی فنڈز بھی مریخ سے آٹپکے۔ جوایم ایل ایز عام انتخابات کے بعد اپنے حلقے میں دکھائی نہیں دیتے تھے وہ بھی اسلام آباد اور مظفرآباد کے یخ بستہ کمرے چھوڑ کر عوام کے درشن کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں کی اولین ترجیح عدالت کے زریعے بلدیاتی انتخابات کو چند ماہ تک لٹکانا تھا اس عرصے کے بعد آزادکشمیر کی بلند وادیوں میں برف پڑنا شروع ہو جاتی ہے تب یہ بہانہ گھڑ لیا جاتا کہ اب عوام اس موسم میں ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آسکتے یوں حیلے بہانوں سے ان انتخابات کو لٹکاتے لٹکاتے مارچ تک لے جاتے۔ مگر سیاسی پنڈتوں کو اس بات کاادراک ہو گیا کہ عدالت کے سامنے ان کا یہ بہانہ زیادہ جاندار ثابت نہیں ہو گا۔ وزراء اور صدر کے لیے مہنگی شیفرڈ گاڑیاں خریدنے کے لیے تو بجٹ ہے مگر بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے بجٹ کی عدم دستیابی، ناکافی بجٹ اور وفاقی کٹ کاجوازپیش کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور عدالت عظمی چونکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے تھے اس لیے قانون ساز اسمبلی نے دونوں کے پر کاٹنے کا بل تیار کر لیا۔ ایک طرف تو الیکشن کمیشن کے اختیارات کی منتقلی ہو گی اور دوسری جانب عدلیہ کو یہ باور کروایاگیا ہے کہ اگر آپ ہماری منشاء کے برعکس چلیں گے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

 

بل پر کمیٹی بنانا دودھ کی رکھوالی کے لیے بلی رکھنے کے مترادف ہے چونکہ کمیٹی تو عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے جبکہ اس میں اکثریت حکومتی ارکان کی ہے اور جو چند ارکان اپوزیشن کے ہیں ان کا کردار بھی ٹورازم اتھارٹی کے قیام، پندرہویں ترمیم اور بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے پیش کیے جانے والے بل میں کھل کر سامنے آچکاہے۔ بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے تاخیری حربوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس صورت میں عوام مستقبل کی متبادل قیادت مل جائے گی۔ جب مقابلے کی فضاء مزید بڑھے گی تو یقینا روائیتی سیاستدانوں کے لیے ماضی کی طرح بلدیاتی انتخابات کے بغیرسارے اختیارات کے مجاز کل ہوتے ہوئے الیکشن لڑنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں پڑھے لکھے نوجوانوں نے روائیتی سیاستدانوں کے لیے کافی مشکلات پیدا کرنی تھیں۔ نئے آنے والے پڑھے لکھے نوجوان روائیتی سیاستدانوں سے زیادہ پرجوش اور کام کرنے کی لگن رکھتے ہیں۔ وہ ووٹ اور عوام کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ عوامی کام کیے بغیر سیاسی میدان میں اپنی جگہ بنانا ان کے لیے تقریبا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یوں بلدیاتی انتخابات کی صورت میں ووٹ کا تناسب متاثر ہونا یقینی تھا۔ سیاستدانوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے۔ آج تک کسی نوجوان کو کئی کلیدی عہدہ نہیں دیا کیونکہ روائیتی سیاستدان پڑھے لکھے جذبہ خدمت خلق سے سرشار نوجوانوں سے خائف ہیں۔ یہ عجب بات ہے ہم باقی سارے کاموں میں پاکستان کی تقلیدکرتے اگر یوں کہا جائے کے ہماری اسمبلی کا بٹن ہی اسلام آباد میں ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

 

پاکستان میں تو بلدیاتی انتخابات کے وعدے تقریبا پورے ہو رہے ہیں مگرآزادکشمیر میں ہم الٹی گنگا بہانے کے درپے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے التواء کے تاخیری حربوں کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے زریعے عوامی توجہ موڑ کر ٹورازم اتھارٹی اور متنازعہ پندہویں ترمیم کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی صورت میں حکومت غیر آئینی طریقے سے بجٹ میں سے جو رقم پاکستان میں مقیم مہاجرین کے نام پر بانٹتی ہے وہ بھی ختم ہو جانی تھی۔ جتنا پیسہ اور اختیارات بلدیاتی انتخابات کی صورت میں عوام تک منتقل ہونا تھا اس سے ہاتھ دھو بیٹھنا نشے میں دھت ایم ایل ایز کے لیے کیسے قابل برداشت ہو سکتاہے۔ آزادکشمیر میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اگرچہ عام انتخابات میں نوجوانوں نے کوئی بڑی کامیابی تو حاصل نہیں کی اکثر چرنوں میں بیٹھ گئے مگر جو کھڑے رہے اگر وہ جیتے نہیں تو انہوں نے اجارہ دار طبقے کو جیتنے بھی نہیں دیا اور خاطر خواہ ووٹ توڑنے میں کامیاب رہے۔ بلدیاتی نظام قومی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی سانحہ کے بعد امدادی سرگرمیوں،جلد بحالی اور تعمیری عمل میں کلیدی کردار ادا کر تاہے۔ مگر بدقسمتی سے حکومت مختلف بہانے بنا کر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔بلدیاتی نظام کی موجودگی میں عوام اپنے آپ کو حکومت کا حصہ تصور کر تی ہے جبکہ ہماری مقتدرہ کو یہ گوارہ نہیں ہے۔ایم ایل ایز ووٹ کے بعد عوام کو ایک فاصلے پر رکھنے ہی میں اپنی بہتری سمجھتے ہیں۔بلدیاتی نظام کے زریعے لوگوں کے زیادہ تر مسائل ان کے علاقوں میں حل کیے جاتے ہیں جبکہ ایم ایل ایزچاہتے عوام ان کے پیچھے چکر لگائے ان کی خوشامد کرے رشوت دے کمیشن دے تاکہ ان کے لیے نہ صرف مال بنانا آسان ہو بلکہ عوام یا تو چکرلگا لگا کر ایم ایل اے کی طاقت اور اہمیت سے واقف ہو گی یا پھر ایم ایل اے کو بہانہ مل جائے گا آپ تو میرے پاس آئے ہی نہیں ہیں میرا کیا قصور ہے۔تاخیری حربوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے عام انتخابات میں تقریبا ہر کسی سے بلدیاتی ٹکٹ کے جھوٹے وعدے کیے گئے تھے جو کہ اب ممکن نہیں۔ انعقاد کی صورت میں ووٹ جاتے ہیں اس لیے سیاستدانواں کا فائدہ بلدیاتی انتخابات کے التواء ہی میں ہے۔

 


شیئر کریں: