Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے انجینئرنگ کالجز کے لیے انٹری ٹیسٹ میں اصلاحات کا اعلامیہ جاری کر دیا

Posted on
شیئر کریں:

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے انجینئرنگ کالجز کے لیے انٹری ٹیسٹ میں اصلاحات کا اعلامیہ جاری کر دیا

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ)دو دہائی بعد محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے انجینئرنگ کالجز کے لیے انٹری ٹیسٹ میں اصلاحات کا اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق انٹری ٹیسٹ فیس میں کمی، منفی مارکنگ کا خاتمہ سمیت دیگر اہم نکات کی منظوری دے دی گئی ہے۔جمعہ کے روز اطلاع سیل محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا کہ انجینئرنگ کالجز و جامعات میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ فیس 500 روپے کر دی گئی جو پہلے طلبہ سے 3500 روپے چارج کی جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان مثبت اصلاحات سے امیر اور غریب دونوں کے بچے انجینئرنگ یونیورسٹیز کے لیے ایٹا ٹیسٹ دے سکیں گے۔رواں سال 21 اگست کے بجائے 21 ستمبر کو ایٹا کا ٹیسٹ منعقد ہوگا تاکہ کوئی بھی اپلائی سے نہ رہ جائے۔

 

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے انجینئرنگ کالجز کے لیے انٹری ٹیسٹ عمل میں اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انجینئرنگ کالجز داخلہ ٹیسٹ سے منفی مارکنگ کا اصول ختم کر دیا گیا ہے۔منفی مارکنگ ختم کرکے طلباء کے اعتماد کو بحال کیا گیاجبکہ انجنئیرنگ کالجز داخلہ ٹیسٹ میں طلباء 200 کے بجائے 100 سوالات کے جوابات دیں گے۔مزید یہ کہ انٹری ٹیسٹ کا دورانیہ 120 منٹ کر دیا گیا ہے۔پریس بریفنگ میں سپیشل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخوا رشید پائندہ خیل سمیت انجینئر نگ جامعات کے وائس چانسلرز نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزیر کامران بنگش نے طلبہ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کی ضرورت ہے۔اس لیے خیبرپختونخوا میں ہر سیکٹر کو سبسڈائزائڈ کر رہے ہیں۔عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں طلبہ کو بہت بڑی ریلیف دینے والے ہیں۔خیبرپختونخوا کے ڈھائی لاکھ خاندانوں کو اعلیٰ تعلیم سیکٹر میں ریلیف دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے متعلق عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔جامعات کو درپیش چیلنجز پر ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا کہ جامعہ چترال کو مالی گرانٹ ریلیز کر چکے ہیں جبکہ جامعہ پشاور کو بھی ضروری گرانٹ دے چکے ہیں، فنڈز کی کوئی کمی نہیں۔الاونسز فراہمی بارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ہمیں خط لکھا ہے جس پر ہمارا بھی اتفاق ہے کیونکہ محکمہ اعلی تعلیم پیشہ ورانہ ایجوکیشن کو پروموٹ کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔

 

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے ریجنل ڈائریکٹوریٹ قائم کئے ہیں۔ ساڑھے تین ارب روپے سے زائد بیل آؤٹ پیکج جامعات کو ریلیز کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں نئے ڈگری کالجز بنا چکے ہیں، جہاں کلاسز جاری ہیں۔ترجیحی بنیادوں پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ صوبے میں نئے ڈگری کالجز کے قیام پر میڈیا کو بریف کرتے ہوئے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا کہ رواں سال 35 نئے ڈگری کالجز صوبے میں بنا رہے ہیں۔صوبہ بھر کے کالجز میں نئے بی ایس بلاک بن رہے ہیں۔پہلی دفعہ سیاسی وابستگی کے بغیر فزیبلٹی کی بنیاد پر 31 کالجز کی منظوری دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے کالجز میں 1.7 ملین روپے کی لاگت سے سولرائزیشن کر رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں اب تک چار نئی جامعات قائم کی ہیں۔خیبرپختونخوا کی تعلیمی درسگاہوں میں وظائف کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا کہ جامعات اور کالجز میں سکالرشپ کی پانچ سکیمیں چل رہی ہیں۔پروفیشنل ایجوکیشن پروموشن ہمارا ویژن ہے۔


شیئر کریں: