Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم کی گزشتہ پونے چار سال کے دوران بجلی کے منصوبوں کی تعمیر میں تعطل سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم کی گزشتہ پونے چار سال کے دوران بجلی کے منصوبوں کی تعمیر میں تعطل سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم شہبازشریف نے گزشتہ پونے چار سال کے دوران بجلی کے منصوبوں کی تعمیر میں تعطل سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتیہوئے کہا ہے کہ ملک میں درآمدی ایندھن سے مہنگی بجلی کی بجائے لوگوں کو سولر کا متبادل دیا جائے گا،شمسی توانائی سے نہ صرف مہنگے درآمدی ایندھن کا بل کم ہوگا بلکہ کم لاگت، ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی۔وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہارانہوں نے اپنی زیرِ صدارت ملک بھر میں سولر اقدامات پر اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گزشتہ پونے چار سال کے دوران بجلی کے منصوبوں کی تعمیر میں تعطل پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایات جاری کر یں۔ وزیرِ اعظم نے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ کی مد میں وصول کئے جانے والی رقم کے حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں درآمدی ایندھن سے مہنگی بجلی کی بجائے لوگوں کو سولر کا متبادل دیا جائے گا۔ دوسال پہلے نا اہل نیازی حکومت کی 2020 میں دی جانے والی متبادل توانائی پالیسی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ اسکے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی نہ آئی۔ صارفین کو سولر سسٹم کی فراہمی کے دوران بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ سولرائیزیشن سے نہ صرف مہنگے درآمدی ایندھن کا بل کم ہوگا بلکہ کم لاگت، ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی۔ اجلاس کو مہنگے درآمدی ایندھن کے متبادل میں کم لاگت سولر بجلی منصوبوں پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت آئندہ کچھ ماہ میں 14000 میگاواٹ کے سولرآئیزیشن کے منصوبوں کا اجراء کرے گی جن میں 9000 میگاواٹ کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے۔ منصوبوں میں سولر سسٹم نہ صرف رعایتی قیمتوں پر دئے جائیں گے بلکہ ان پر ٹیکس کی مد میں بھی مراعات دی جائیں گی۔ وزیرِ اعظم نے ترجیحی بنیادوں پر ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے جلد جامع منصوبہ بندی مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی سونا لا سکتے ہیں

اسلام آباد(سی ایم لنکس)حکام وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت سونے کی درآمد ممنوع نہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانی سونا لا سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کی ذیلی کمیٹی کا فدا محمد خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت تجارت کے حکام کی طرف سے سونے کی درآمد پر بریفنگ دی گئی۔حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ سونے کی بغیر ڈیوٹی اور کسٹمز درآمد کی اجازت ہے، اس کو ویلیوایڈیشن کے بعد 4 ماہ میں برآمد کرنا ہوتا ہے۔حکام نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے سونے کی درآمد ممنوع کی ہوئی ہے، جس پر کنوینرکمیٹی نے پوچھا پابندی کی کیا وجہ ہے، جس پر حکام نے بتایا کہ سونے کی درآمد کے لیے زرمبادلہ استعمال ہوتا ہے اس لیے پابندی ہے۔حکام وزارت تجارت کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سونا لا سکتے ہیں اور چاندی کیلیے بھی یہی پالیسی ہے، امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت سونے کی درآمد ممنوع نہیں۔حکام نے مزید کہا کہ سونے کی درآمد کے لیے امپورٹر کو زرمبادلہ خوداکٹھاکرناہوتاہے، سونے کی درآمد کی اجازت پر بین الوازارتی غور جاری ہے۔

 


شیئر کریں: