Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – مشینی مرغیاں – تحریر عبد الباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – مشینی مرغیاں – تحریر عبد الباقی چترالی

chicken datsan poultry dealer2
مشینی مرغیاں پولٹری فارم کے مالک کے رحم کرم پر ہوتے ہیں۔پولٹری فارم کا مالک جب چاہے ان کو پانی دانہ ڈال دے۔چاہے ان کا پانی دانہ بند کر کے ان کو بھوکا پیاسا رکھے۔یہ پولٹری فارم کے مالک کے مرضی پر منحصر ہے ۔اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں یہ بے بس اور بے زبان جانور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے ساتھ ہونے والے ظلم، زیادتی اور ناانصافی کے خلاف مالک کے سامنے احتجاج نہیں کر سکتے ہیں۔ہمارے ملک کے عوام بھی ان بے زبان مشینی مرغیوں کی طرح حکمرانوں کے سامنے بےبس اور لا چار نظر آرہے ہیں۔
حکمران جب چاہے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بےتحاشہ اصافہ کر کے عوام کو بھوکا پیاسا مار دیں ۔حکمران چاہے عوام پر رحم کر کے اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں تھوڑا کمی کر دے۔غریب عوام مشینی مرغیوں کی طرح حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہیں۔یہ حکمرانوں کی مرضی ہے۔حکمران خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے ہیں۔ملک کا غریب عوام غربت، بےروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشیوں پر مجبور ہوتے ہیں۔مگر ان بے بس اور بے زبان مرغیوں کی طرح اپنے ساتھ ہونے والا ظلم،زیادتی اور ناانصافی کے خلاف حکمرانوں سے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کر سکتے۔عوام پہلے سے سابقہ حکمرانوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مہنگائی کی چکی میں پیس رہی تھی۔آپ تجربہ کار سیاستدان اقتدار میں آکر غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں۔کیونکہ موجودہ حکمرانوں کو عوام کا خون چوسنے کا برسوں کا تجربہ ہے ۔اس وقت تجربہ کاروں کی حکومت عوام کا خون چوس کر اتنا بےحال کر دیا ہےکہ وہ حکمرانوں کے خلاف گھروں سے باہر نکلنا درکنار چارپائی سے اٹھنے کے قابل نہیں رہے ۔اب یہ نیم مردہ عوام گھروں میں بھیٹہ کر غربت،مہنگائی اور بےروزگاری کا رونا رو رہے ہیں۔اور کسی قسم کے حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے۔
اس وقت ملک سیاسی تماشا گاہ بنا ہوا ہے۔کسی کو اپنے اقتدار سے محرومی کا غم ہے۔اور کسی کو اپنے اقتدار بچانے کی فکر لاحق ہے ملک کا بیس کروڑ عوام سیاسی طور پر یتیم ہو چکی ہے۔ملک اور قوم کا کوئی پرسان حال نہیں۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کے معاشی حالات روز بروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی خزان کے پتوں کی طرح گر رہا ہے۔اس خراب معاشی صورتحال کی سزا غریب کو عوام مہنگائی کی صورت میں  بھگتنا پڑ رہا ہے۔برسوں سے ہمارے ملک میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں۔یعنی امیر اور غریب امیروں کی تعداد کم ہے لیکن یہ امیر لوگ تعداد میں کم ہونے کے باوجود اپنے بےپناہ دولت اور اثرو رسوخ کی وجہ سے ملکی وسائل پر قبضہ اور اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں۔اور حکومت سے بھی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔اور ان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسر ہیں۔جبکہ ملک کا اکثریتی طبقہ غریبوں پر مشتمل ہیں۔ملک کا اکثریتی غریب طبقہ برسوں سے اپنے بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم چلے آرہے ہیں۔
اس معاشرتی ناانصافی کی وجہ سے ملک میں انتشار اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔
برسوں سے ملک میں جو نظام رائج ہے۔یہ نا مکمل مغربی نظام ہے۔اور نہ اسلامی نظام ہے بلکہ دجالی نظام ہے۔ گزشتہ چوہتر سالوں سے ملک میں نافذ ہے۔اس دجالی نظام کے تحت چلتے ہوئے چوہتر سالوں میں امیر امیر تر  اور غریب غریب تر ہو گیا۔اور انصاف کا حصول ناممکن ہو گیا۔اس دجالی نظام کی وجہ سے ملک قرضوں میں ڈوب چکا ہے۔اور عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان حال ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں دوست ممالک اور غیر ملکی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضے دینے سے انکار کر رہے ہیں۔کیونکہ ملک کے معاشی حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ غیر ملکی قرضوں کو واپس کرنے کے قابل نہیں رہے۔ملک کے اس بد ترین معاشی حالات میں حکمران اپنے شاہانہ اخراجات میں کسی صورت میں کمی لانے میں آمادہ نظر نہیں آرہا ہے۔بلکہ عوامی نمائندوں، مشیروں،وزیروں اور بڑے عہدوں پر فائز افسروں کی تنخواہوں میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس وقت ایک سنیٹر کی تنخواہ اور دوسرے مراعات اور الاونسز کے علاؤہ چار لاکھ روپے ہے۔
اور قومی اسمبلی کی ممبروں کی تنخواہ تین لاکھ روپے ہے۔دوسرے مراعات اور الاونسز اس کے علاؤہ ہے۔حکومت کے وزیروں اور مشیروں کے تنخواہیں اور مراعات ان ممبران سے بھی زیادہ ہے۔یہ عوامی نمائندے ملک اور قوم کی ایسی کیا خدمات انجام دے رہے ہیں؟ کہ ملک خراب معاشی حالات کے باوجود ان عوامی نمائندوں کو اتنی بھاری تنخواہیں اور مراعات دئے جا رہے ہیں۔اس وقت مہنگائی کی وجہ سے عوام بھوکوں مار رہی ہے۔ ان نمائندوں کو اتنے بھاری مراعات دینا ملک اور قوم کے ساتھ سراسر ظلم اور ذیادتی ہے۔لہذا حکومت کو قومی،صوبائی اور سینٹ ممبروں کی  تنخواہوں میں کمی لانے چاہیے اور مراعات فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔
دوسری طرف روپے کی بے قدری،گیس،بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور دوسرے اشیاء خوردونوش کے قیمتوں میں بےتحاشہ اضافے سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئے ہیں اور سیاستدان ملکی حالات کی طرف توجہ دینے کے بجائے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اس وقت ملک آسمانی اور زمینی آفتوں کی لپیٹ میں آگیا ہے۔بارش اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں یہ اس وقت زخمت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ طوفانی بارشوں سے  بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصانات ہو رہے ہیں۔ خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے حکمرانوں اور قوم کو شاید صور محشر کا انتظار ہے۔

شیئر کریں: