Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن کمیشن نے PTI کو غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی رقوم کی تفصیلات جاری کردیں

Posted on
شیئر کریں:

الیکشن کمیشن نے PTI کو غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی رقوم کی تفصیلات جاری کردیں

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کو غیر ملکی کمپنیوں سے ملنے والی رقوم کی تفصیلات بھی جاری کردی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کو غیرملکی کمپنیوں سے ممنوعہ رقوم یو ایس اے کی دو ایل ایل سیز کے ذریعے موصول ہوئیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کو امریکا کی 266 کمپنیوں سے 1لاکھ 29 ہزار 19ڈالر ممنوعہ رقم موصول ہوئی۔الیکشن کمیشن کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی کو برطانیہ کی 43 کمپنیوں سے 16ہزار 226 ڈالر اور کینیڈا کی 13کمپنیوں سے 6 ہزار71 ڈالر ممنوعہ رقم موصول ہوئی۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آج 8 سال بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنایا ہے۔عمران خان کی جانب سے پولیٹکل پارٹیز آرڈر کے تحت پارٹی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن میں اپنے دستخطوں سے بیانِ حلفی جمع کرایا گیا تھا جسے الیکشن کمیشن نے جھوٹا قرار دے دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران نیازی کے خلاف چارج شیٹ ہے، عمران نیازی نے غیرملکی فنڈنگ لی، جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا اور آئین کی خلاف ورزی کی۔شہباز شریف کا مزید کہنا ہے کہ آج ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ عمران خان سند یافتہ جھوٹے ہیں، قوم کو غیر ملکیوں کی فنڈنگ سے چلائی جانے والی عمران خان کی سیاست کے اثرات پر غور کرنا چاہیے۔

 

ممنوعہ فنڈنگ فیصلہ؛ حکومت کا پی ٹی آئی پر پابندی سمیت تین آپشنز پر غور

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد وفاقی کابینہ نے تحریک انصاف پر پابندی سمیت تین آپشنز پر غور شروع کردیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کابینہ نے الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلے کے تحت تین آپشنز پر غور شروع کردیا ہے جس میں پہلا آپشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل (3)17 کے مطابق پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے لیے معاملہ سپریم کورٹ بھیجا جائے۔اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس دوسرا آپشن فارن ایڈڈ سیاسی جماعت ڈکلیئرڈ کرکے کام آگے بڑھایا جانا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق حنیف عباسی کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کو الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط کیا تھا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس تیسرا آپشن یہ ہے کہ جعلی بیان حلفی پر کارروائی کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی فنڈنگ سے متعلق فیصلے پر فل کورٹ کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجاز ادارے نے حقائق کا تعین کردیا ہے، اب اس بنیاد ہی پر وفاقی حکومت نے ہی سپریم کورٹ جانا ہے۔ ہم عدالت عظمیٰ سے درخواست کریں گے اس کیس میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔انصاف ملنے میں 8 سال کی تاخیر کی گئی، اب ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس پر جلد فیصلہ کرے۔خرم دستگیر نے مزید کہا کہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت آئین پر مکمل عملدرآمد کرے اور کروائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صاحب باہر سے پیسے بھی لیتے رہے۔ آج یہ پتا چلا کہ پاکستان میں 2014 سے فتنہ فساد فاشزم کے پیچھے سرمایہ کہاں سے آیا۔ جو شخص صادق اور امین کا دعویٰ کر رہا تھا، اس کا حلف جھوٹا تھا۔انہپوں نے کہا کہ پاکستان کاقانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ بیرون ملک قائم کسی کمپنی سے کوئی سیاسی جماعت فنڈ لے اور اور یہ رقم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔

 

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو امریکا، کینیڈا اورووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قراردے دی،شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیا کا فیصلہ سنادیا گیا جس کے مطابق تحریک انصاف کو امریکا، کینیڈا اورووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قراردے دی گئی ہے جس پر تحریک انصاف کوشوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا گیا ہیکہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کا ا?غاز کریں جس میں کیس وفاقی حکومت کو بھی بھجوایا جاسکتا ہے۔منگل کو چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ نے تین رکنی بنچ کا 70 صفحات پر مشتمل متفقہ فیصلہ سنایا۔فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے 2008 سے 2013 تک پانچ سال کے دوران جمع کرایا گیا فارم ون سٹیٹ بنک پاکستان کی سٹیٹمنٹ سے مطابقت نہیں رکھتا اوراس کی نسبت غیر مستند ہے،تحریک انصاف نے 34 غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ لی ہے۔تحریک انصاف کے13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے جس کا وہ ریکارڈ نہ دے سکی۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اکاؤنٹس چھپائے،اکاؤنٹس چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔سویٹزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق رومیتا سیٹھی سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار پی ٹی آئی جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے،کمیشن نے351 غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قراردے دی۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوتی ہے۔اس لئے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کردیا جبکہ فیصلہ میں کہ گیا ہے کہ کیوں نہ ممنوعہ فنڈنگ کو ضبط کر لیا جائے،کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے تحت کوئی بھی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔پی ٹی آئی کی حاصل کردہ ممنوعہ فنڈنگ کی تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی نے کیمین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ووٹن کرکٹ کلب سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 امریکی ڈالر حاصل کئے۔ووٹن کرکٹ کلب ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے۔پی ٹی آئی نے متحدہ عرب امارات کی برسٹل انجنئیرنگ سے 49 ہزار 965 امریکی ڈالر کے فنڈز لیے۔سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ای پلینٹ اور برطانوی کمپنی ایس ایس مارکیٹنگ سے کل 10 لاکھ ایک ہزار 741 ڈالرز حاصل کیے گئے۔پاکستان تحریک انصاف امریکا کیذریعے 2 ایل ایل سی کمپنیوں سے 25 لاکھ 25 ہزار 500 ڈالر پی ٹی آئی پاکستان کو منتقل کیے گئے۔پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے 2 لاکھ 79 ہزار 822 ڈالر فنڈز منتقل ہوئے۔پی ٹی آئی یو کے پبلک لمیٹڈ کمپنی سے 7 لاکھ 92 ہزار 265 برطانوی پاؤنڈز منتقل ہوئے۔پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے 35 لاکھ 81 ہزار 186 پاکستانی روپے کے عطیات بھی وصول کیے گئے۔پی ٹی آئی نے آسٹریلوی کمپنی ڈنپیک پرائیوٹ لمیٹڈ، انور برادرز، زین کاٹن اور ینگ سپورٹس سے بھی فنڈنگ وصول کی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
64187