Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یونیورسٹی آف چترال  کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے فورا فنڈز ریلیز کیے جاییں۔۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال

Posted on
شیئر کریں:

یونیورسٹی آف چترال  کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے فورا فنڈز ریلیز کیے جاییں۔۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال مستظہر باللہ داور نے کہا کہ گزشتہ دنوں سے یونیورسٹی آف چترال کے حوالے سے مایوس کن خبریں گردش کر رہی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ نیورسٹی آف چترال بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی آف چترال کو مالی سال 2022-2023 کے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں چلنے والے فنڈنگ اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وزیر اعلی کی جانب سے منظور شدہ 200 ملین فنڈز جاری کیے گئے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ تدریسی عملہ اور انتظامی عملہ کو گزشتہ دو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور یونیورسٹی ماہ جولائی کی تنخواہیں بھی ادا کرنے سے قاصر ہے۔

متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومت کا چترال کے ساتھ یہ برتاؤ نہایت ہی قابل مذمت ہے۔ چترال ہمیشہ سے ایک پسماندہ علاقہ رہا ہے ترقیاتی امور کے لحاظ سے بھی اور تعلیم کے لحاظ سے بھی۔ چترال کے باشندوں میں حصول علم کے شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چترال کا شرح خواندگی 75 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور پورے صوبے میں شرح خواندگی کے لحاظ سے چترال دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ چترال کے طالب علم، علم حاصل کرنے کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں یہاں کے بڑے یونیورسٹیز کے فیس اور رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات جو بہت کم ہی کوئی اٹھا سکتا ہے۔ چترال کا اکثریتی آبادی اوسط طبقے کے لوگوں پر مشتمل ہے جو بمشکل اپنے آمدنی سے گھر کے معاملات چلاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف چترال کا قیام ایک بہت ہی اہم پیش رفت تھا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ابھی تک یونیورسٹی کے لیے اپنی بلڈنگ کا بندوبست نہ کوئی ڈھنگ کی پیش رفت گئی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ چترال صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ خدارا چترالی قوم کے ساتھ مذید ظلم اور زیادتی نہ کرے۔ وہ نوبت نہ آئے کہ ہم طالب علم سراپا احتجاج اور سڑکوں پر نکل آئے اور ہمیں اپنے حقوق چھیننا پڑے۔
یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حصول علم کے معاملات کو شہریوں کے لیے آسان بنائے۔

تعلیمی معاملات کرونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی بہت متاثر ہو چکی ہیں اب حکومت اپنے ناقص فیصلوں کی وجہ سے طالب علموں کو مزید مشکل میں نہ ڈالے۔ اسلامی جمعیت طلبہ چترال صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ اساتذہ کرام اور طالب علم بغیر کسی پریشانی کے درس و تدریس کا کام جاری رکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و ملت کی خدمت کر سکیں۔


شیئر کریں: