Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آ ئینہ –  تحریر ام آ یت

Posted on
شیئر کریں:

آ ئینہ –  تحریر ام آ یت

ایک بزرگ اپنے علاقے میں گشت کررہا تھا کہ ایک آدمی سے سامنا ہوا جو کچھ پریشان حال تھا پوچھنے پر بتایا کہ میں اس علاقے میں مکان لینے آیا ہوں لیکن اہل علاقے میں کسی کو جانتا نہیں ہوں نجانے یہاں مکان لینا میرے لیے اچھا ثابت ہوگا یا نہیں اسلیے تذبذب کا شکار ہوں ۔۔بزرگ مسکرائے اور اس شخص  سے سوال کیا کہ جس علاقے سے آ پ آ ئے ہو وہاں کے لوگ کیسے ہیں اس شخص نے فوری جواب دیا کے وہاں کے لوگ انتہائی جھگڑالو کمینے اور بد خو ہیں اسی وجہ سے میں اپنا مکان بیچ کر کسی اور جگہ رہنا چاہتا ہوں۔۔بزرگ نے جواب دیا کہ برخوردار پھر تو تمہں مایوسی ہوگی کیونکہ یہاں کے لوگ بھی انتہائی جھگڑالو کمینے اور بد خو ہیں اچھا ہوگا کہ تم مکان ڈھونڈنے کسی اور طرف نکلو۔۔

اس شخص نے بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور آگے چل دیا۔۔چند روز بعد اسی مقام پر پھر ایک شخص سے سامنا ہوا اور اس نے بھی علاقے میں آنے کی وجہہ مکان کی تلاش بتائی۔۔بزرگ نے حسب عادت سوال دہرایا کہ جس علاقے سے آ ئے ہو وہاں کے لوگ کیسے ہیں ۔۔اس شخص  نے جواب دیا کہ جس علاقے سے وہ آ یا ہے وہاں کے لوگ نہایت شریف نیک اور امن پسند ہیں لیکن ملازمت کی وجہ سے اسے وہ مجبوراََ چھوڑنا پڑ رہا ہے بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ پھر تو تمھارے لیے خوشخبری ہے کیونکہ اس علاقے کے لوگ بھی نہایت شریف اور نیک اطوار کے ہیں یہ آدمی نہایت خوش ہوا اور شکریہ  ادا کرتے ہوئے آگے چل دیا اب جو بزرگ کے ساتھ جو اسکا مرید پچھلی بار بھی ساتھ تھا بزرگ کی اس دوغلی بات پر حیران رہ گیا اور خود کو سوال کرنے سے نہ روک سکا کہ آخر ایک ہی علاقے کے بارے میں دو مختلف رائے کیوں دی ۔۔بزرگ نے اس بدھو کو جو جواب دی  وہ غور طلب ہے ۔۔اس نے فرمایا کہ پہلا شخص خود بد مزاج جھگڑالو اوربد خو تھا  اسلیے میں نے اسے ایسا جواب دیا کیونکہ وہ ادھر بھی آکر رہتا تو اسے کوئی فائدہ نہ ہونا تھا اسے یہاں بھی سارے لوگ کمینے ہی لگنے تھے۔۔ دوسرا شخص خود ٹھنڈے مزاج کا مہذب اور شریف آدمی ہے وہ جہاں بھی جائے گا اسکے  لیے آسانی ہے اسے کبھی اہل علاقے میں وہ خرابیاں نہیں ملیں گی  جو خود اسکے اندر نہیں ہیں ۔۔ بدھو کو بات سمجھ اگئی۔۔

اس مثال کو بیان کرنے کا مقصد نہایت سادہ ہے ۔۔ کیونکہ اج کل ہر دوسرے شخص کا سنگین ترین مسئلہ یا شکایت بس یہی ہے کہ اسکے اردگرد کے لوگ سارے خراب ہیں ۔۔عورتوں کی پرانی  شکایات  رشتہ دار برے ہیں بد نیت ہیں جادو ٹونے کرتے ہیں بچوں کی اپنی ناکامیوں کی وجہ صحت کی خرابی  غرض ہر ہر چیز کی زمہ دار یا تو گھر کے اندر ہی کوئی دوسرا مخلوق ہے یا محلے یا خاندان کا کوئی بندہ ہے  یہ خود ہرگز نہیں ۔۔ یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے ۔۔ مزکورہ مثال میں آپ یہ بات نوٹ فرمائیں کہ ایک شخص خود کمینہ ہے تو سارا قصبہ اسے کمینوں کا لگتا ہے بلکل اسی طرح  شریف آدمی کو پورا علاقہ شریف لگتا ہے ۔۔اپ خود سوچیں ایک علاقہ سارے کا سارا کمینوں سے کیسے بھر سکتا ہے یا سارے لوگ نیک کیسے ہوسکتا۔۔ظاہری بات ہے کہ اچھے برے ہر قسم کے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں بلکل اسی طرح اچھائی اور برائی آپ کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اگر آپ اپنی نظر میں انتہائی عظیم ہیں تو بھی آپکے اندرکہیں ایسی خامیاں ہونگی جو کوئی دوسرا برداشت کرتا ہوگا ۔۔۔

مقصداس بات کا مقصد  صرف اتنا ہے کہ ہمارے درمیان کہیں ایسے لوگ ہیں جو زندگی بدلنے کے لیے  کہیں گھر بدل چکے ہیں جگہیں بدل چکی ہیں لیکن رونا رو رہے ہیں کہ زندگی نہیں بدلی ۔۔سکون نہیں ہیں دوسروں سے شکایتیں ختم نہیں ہو رہی نفرت ختم نہیں ہو رہی اور قصور بتاتے ہیں کسی تیسرے چوتھے پانچویں بندے کا ۔۔انکا اپنا کبھی کوئی قصور نہ ماضی میں تھا نہ حال میں ہے نہ مستقبل میں یہ کبھی غلط ہونگے ۔کیو نکہ یہ اپنی ذہن میں وہ عظیم فرشتے ہیں  جو انسانی روپ میں زمین پر اتارے گئے ہیں ۔۔۔

یہ مضمون ان ہی کے لیے ہے جو ہمیشہ  صحیح رہتے ہیں لیکن انکے ساتھ ہمیشہ غلط ہو جاتا ہے۔۔ کبھی خود سے پوچھیے گا کہ کیوں ۔۔۔۔۔ اس کیوں کا جواب بہت آسان ہے جو  آ ئنہ ہر وقت آپکے ہاتھ میں دوسروں کو دکھانے کے لیے پکڑا ہوا ہے ایک بار اسے اپنی طرف موڑیں اپنی شکل دیکھیں وہ شکل جو صرف آپ جانتے ہیں وہ نہیں جسے دنیا جانتی ہے۔۔ اور اگر حالات کچھ ایسے دکھائی دے رہے ہیں کہ پوری دنیا آپکی دشمن ہے کوئی اپکا خیر خواہ نہیں ۔یا آپ پر ہمیشہ ہر طرف سے بہت ظلم ہوتا آیا ہے۔یا آپ کو لگتا ہے تو اسکا مطلب ہے آپ شدید قسم کی خود ترسی کا شکار ہو چکے ہیں ۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ کہیں پر بھی آپکی مرضی نہیں چل رہی تو اسکا مطلب ہے کہ آپ کو من مانی کرنے کا عارضہ ہو گیا ہے کیوںکہ کہیں نہ کہیں آپکی سنی تو جاتی ہے مگر آ پکو یہ ناکافی لگتا ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ بہت بار معاف کر چکے ہیں لیکن اب کی بار نہیں کرینگے تو اسکا مطلب ہے کہ آپ نے کبھی ماضی میں کسی کو کوئی بھی بات معاف کی ہی نہیں تھی ورنہ آپکا آ ج بجائے اپنے ظرف پر سوختہ ہونے کے خوشحال ہوتا۔۔۔

اور سب سے بڑی بات اگر آپ کو لگتا ہے کہ کبھی کسی نے آپ کے ساتھ اچھائی کی ہی نہیں ہے تو اسکا مطلب ہے کہ آپ نمک حرامی اور احسان فراموشی کے عادی ہو چکے  ہیں۔آ خر میں صرف اتنا کہونگی کہ کوشش کریں کہ کسی کی موت بیماری یا نا کامیوں کو کسی اور کے لیے سبق بتانے سے پہلے، پہلے خود کسی واقعے سے عبرت لیں آپ نے قبر میں جا کے کسی اور کے نہیں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے لہذا اپنی موت تک دوسروں کی ٹوہ میں لگنے کے بجائے اپنی گریبان میں جھانک لیں ۔ بیٹھ کر اپنی مظلومیت کا رونا  آ خر کب تک روئیں گے ۔۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
64062