Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیرِ اعظم نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

شیئر کریں:

وزیرِ اعظم نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی آئندہ چار دن کے اندر تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کریگی، کمیٹی کی سفارش پر متاثرین کی بحالی کے لئے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے گا جبکہ وزیراعظم نے متاثرہ مکانوں کے معاوضے میں اضافیاورقومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں ڈزاسٹر مینجمنٹ کی بجائے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے رابطہ قائم کرکے مالی معاونت کے حصول کیلئے کوششیں تیز کریں، کراچی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ میں موجود فنڈ کی فراہمی کیلئے وفاقی حکومت معزز عدالت کو خط لکھے گی۔

 

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران نقصان کے جائزے کیلئے اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مفتاح اسماعیل، مولانا ااسعد محمود، مریم اورنگزیب، شیری رحمان، اسرار ترین، امین الحق، شازیہ مری، احسن اقبال، مولانا عبدالواسع، وزیرِ مملکت محمود ہاشم نوتیزئی، معاونینِ خصوصی احد چیمہ، سید فہد حسین، ارکانِ قومی اسمبلی خالد حسین مگسی، اسلم بھوتانی، امین حیدر ہوتی، مولانا عبدالاکبر چترالی، سردار ریاض محمد مزاری، مولانا صلاح الدین ایوبی، محسن داوڑ، غلام مصطفی شاہ، کیسو مال کھیل داس، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے شرکت کی۔وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِ اعلی بلوچستان عبدالقدوس بازنجو اور چاروں صوبوں کے چیف سیکٹریز نے اجلاس میں وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس کو حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خطے میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔چین بنگلہ دیش، افغانستان اور بھارت میں بھی حالیہ مون سون نے شدید تباہی برپا کی ہے۔ اس سال پاکستان میں معمول سے ذیادہ 4 ہیٹ ویوز، شدید پری مون سون اور مون سون بارشیں ہوئیں۔ پری مون سون گزشتہ تیس سال کی اوسط کے مقابلے 67 فیصد جبکہ مون سون بارشیں 193 فیصد زیادہ ہوئیں۔ مون سون بارشوں کا بلوچستان میں تناسب گزشتہ تیس سال کی اوسط کے مقابلے 467 فیصد جبکہ سندھ میں 390 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر اب تک اسلام آباد میں 1، بلوچستان میں 106، سندھ میں 90، خیبر پختونخوا میں 69، پنجاب میں 76 گلگت بلتستان میں 8، اور آزاد کشمیر میں 6 اموات ہوئیں جبکہ پورے پاکستان میں زخمیوں کی تعداد 406 ہے۔ اجلاس کو متاثرہ سڑکوں، منہدم ہونے والے رابطہ پْلوں، مکانات اور مویشیوں کے نقصان کے بارے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

 

 

اجلاس کو بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے اور متعلقہ پی ڈی ایم ایز کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں امداد کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید برآں نہ صرف مون سون بارشون سے پہلے ویدر وارننگز باقاعدگی سے دی جاتی رہیں بلکہ فروری سے اس حوالے سے تیاریاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ صوبائی انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے کام میں مصروف ہیں۔اجلاس کو متاثرین میں تقسیم کی جانے والی مالی امداد کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے زخمیوں اور متاثرہ گھروں کی امداد کو یکساں کرنے اور بڑھانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے متاثرہ اور زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے ضلع رحیم یار خان میں کشتی الٹنے کے متاثرین کو بھی مذکورہ امداد فراہم کرنے کی منظوری دی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل دے دی جو آئندہ چار دن کے اندر تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔ 4 اگست کو کمیٹی کی سفارشوں کی روشنی میں قلیل مدتی، وسط اور طویل مدتی جامع پلان تشکیل دیا جائے گا۔

 

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کی ایک حقیقت ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں تباہی برپا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اس قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومتوں کی بھرپور معاونت کرے گی۔ پاکستان ہم سب کہ ذمہ داری ہے، باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں گے۔وزیرِ اعظم نے مزید ہدایات جاری کیں کہ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ڈزاسٹر مینجمنٹ کی بجائے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے رابطہ قائم کرکے مالی معاونت کے حصول کیلئے کوششیں تیز کریں۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ میں موجود فنڈ کی فراہمی کیلئے وفاقی حکومت معزز عدالت کو خط لکھے گی۔ وزیرِ اعظم نے بارشوں اور سیلاب کے دوران این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایاور صوبائی حکومتوں کی امدادی کارروائیوں کو سراہا


شیئر کریں: