Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپیل بنام – چیف جسٹس اف پاکستان اسلام اباد، پشاور۔ خورشید احمد لاوی

شیئر کریں:

ادارہ یا ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں!

 

 

اپیل بنام – چیف جسٹس اف پاکستان اسلام اباد

۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ پشاور

 

عنواں: عدالتی حکم کی تعمیل میں انتظامیہ کی ناکامی/عدم دلچسپی

 

جناب عالی:

پاکستاں میں عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ لیکں عدالتی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اگر مقامی انتظامیہ اس حکم کی تعمیل میں رخنہ ڈالے تو خود کشی کرنے کے علاوہ لوگوں کے پاس کوئی اور چارہ باقی نہیں بچتا۔  یہی دردناک کہانی انجناب کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں۔ جس میں 30 سال کی طویل جوجہد کے بعد عدالتی ڈگری حاصل کی گئی۔ لیکں اس ڈگری کی اجرا میں جو رخنہ دروش پولیس نے ڈالی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ڈگری کی اجرا کے بعد بھی دروش پولیس اور انتظامیہ بدستور اس فریق کی ہمایت کررہے ہیں۔ جس کے خلاف عدالتی ڈگری ائی ہے۔ اور وہ فریق بد ستور اس معاملہ میں مداخلت کررہی ہے۔ جو اس کے خلاف عدالت نے حکم صادر کی ہے۔

 

ائے روز گاوں میں تصادم ہوتا ہے۔ اور جب ہم پولیس یا دروش انتظامیہ کے پاس جاتے ہیں۔ تو وہ اس فریق کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرتے جس کی وجہ علاقے میں بدامنی اور خوف ہراس پھیل رہا ہے۔

 

اس حوالے سے ہم نے ڈی پی او چترال سے بھی درخواست کی ۔ لیکں اس نے بھی کوئی کاروائی نہیں کی۔

دروش کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب کو درخواست دی ۔ اس نے بھی معاملہ کا کوئی خاص نوٹس نہ لی۔ کیونکہ عالاقے کے مافیا اس فریق کو سپورٹ کر رہے ہیں جو عدالتی حکم اپنے پاوں تلے روند ڈالتا ہے۔

 

ہم نے سیٹیزن پورٹل اور ائی جی کمپلینٹ سیل میں بھی اس حوالے سے شکایات درج کی۔ جس کا بھی کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ کیونکہ پولیس کے اندر کچھ عناصر ہیں۔ جو کہ اس بندے کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اور عدالتی حکم کی کوئی اہمیت نہیں۔

 

لاوی ایک پرامں گاوں ہوا کرتا تھا۔ ابھی گاوں کی حالت ایسی ہوئی ہے۔ جس میں کوئی قانوں نام کی چیز ہی نہیں۔ پولیس کی اس قسم کی جانبداری اور جرائم پیشہ افراد کی ہمایت نے گاوں کے بچوں اور عام افراد کے دل سے بھی قانون کی احترام ختم کی ہے۔ اب چترال کا یہ گاوں جرائم کے اعتبار سے دنیا کے خطرناک تریں علاقوں میں سے ایک ہے۔

 

اندریں حالات درخواست پیش کی جاتی ہے۔ کہ ڈی پی چتراال، اور اسسٹنٹ کمشنر دروش سے یہ پوچھا جائے۔ کہ وہ عدالتی حکم کی تعمیل میں کوتاہی کیوں دیکھا رہے ہیں۔ اور جو جرائم پیشہ افراد عدالتی حکم کی تعمیل میں راکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اں کے خلاف انتظامیہ سخت قانونی کاروائی کیوں نہیں کر رہا ہے۔ اور جو درخواست ہم نے متعدد بار مختلف انتظامی اہلکاروں کی دی ہے۔ اں پر عملدارامد کیون نہیں کررہے ہیں۔

 

مقامی انتظامیہ کی غفلت سے اگر گاوں لاوی میں کسی قسم کی خوں خرابہ یا بڑے پیمانے پر تصادم ہوا۔ تو اس کی ساری زمہ داری دروش انتظامیہ اور پولیس پر ہوگی۔ کیونکہ ہم بار بار اں کے نوٹس میں یہ مسلہ لاتے ہیں۔ لیکں وہ اس مسلے کو حل کرنے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔ لہذا اس کی ساری زمہ داری بھی اں پر عائد ہوگی۔

 

چیف جسٹس صاحباں سے یہ گزارش ہے۔ کہ 30 سال کی طویل اور صبر ازما انتظار کے بعد بھی اگر مقامی انتظامیہ عدالتی حکم کی تعمیل میں راکاوٹ ڈالے۔ تو پھر اں عدالتوں کا کیا فایدہ۔ اور لوگ اپنے ٹایم اور پیسہ اس مقدمہ بازی میں کیوں ضایع کریں۔ کیوںکہ یہاں تو عدالتی حکم کی بجائے ، “جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی” فارمولہ چل رہا ہے۔

 

خدا را کوئی بڑے تصادم سے پہلے فوری ایکشن لی جائے۔ اگر تصادم سے کوئی جانی نقصاں ہوا ۔ تو پولیس اور انتظامیہ اس کی زمہ دار ہوگی۔ اور یہ مسلہ ہم عوام الناس کے نوٹس میں بھی لانا چاہتے ہیں۔ کہ عنقریب گاوں میں کوئی بڑا تصادم ہوگا۔ اگر فوری قدم نہ اٹھایا گیا۔

:  پشاور ہائی کورٹ کمپلنٹ سیل/سپریم کورٹ اف پاکستاں اسلام ابادکاپی

 

 

خورشید احمد ولد کمال خان

گاوں لاوی تحصیل دروش ضلع چترال۔

khursheed lavi

 


شیئر کریں: