Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی اسمبلی اجلاس میں خیبر پختونخوا جنگلات (ترمیمی) بل مجریہ 2022 پاس , نجی و سرکار کے زیر انتظام جنگلات سے کمرشل کٹائی اور سیل پر سرچارج میں ردوبدل

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی اسمبلی اجلاس میں خیبر پختونخوا جنگلات (ترمیمی) بل مجریہ 2022 پاس , نجی و سرکار کے زیر انتظام جنگلات سے کمرشل کٹائی اور سیل پر سرچارج میں ردوبدل

خیبر پختونخوا میں جنگلات کی پائیدار ترقی اور تحفظ کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، اشتیاق ارمڑ
نجی و سرکار کے زیر انتظام جنگلات سے کمرشل کٹائی اور سیل پر سرچارج میں ردوبدل
مجرمان کو تین سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں، آرڈیننس میں ضروری ترامیم کر دی گئیں
حکومت خیبر پختونخوا جنگلاتی کاربن کے حقوق اور تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کریگی

پشاور (چترال ٹایمز رپورٹ) صوبائی اسمبلی اجلاس میں خیبر پختونخوا جنگلات (ترمیمی) بل مجریہ 2022 پاس کر دیا گیا ہے۔ وزیر ماحولیات، خیبر پختونخوااشتیاق ارمڑ نے اجلاس میں خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002کے مختلف شقوں میں ترمیم کرنے کا بل مجریہ 2022 ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جنگلات کی پائیدار ترقی اورمحفوظ بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور آرڈیننس میں ترامیم کی گئیں ہیں۔ انہوں نے اجلاس سے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کے زیر انتظام جنگلات کو تقصان پہنچانے پر مجرمان کو قید اور جرمانون کی سزاؤں میں ترامیم کی ہیں جو بالترتیب آرڈیننس کے شقوں میں کر دی گئی ہیں۔ضم شدہ اضلاع میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کو سرکاری اراضی یا کسی جنگل حدود میں جنگلات کو نقصان پہنچانے پر مروجہ قانون کے تحت سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

 

آرڈیننس کے سیکشن 55 میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر بٹگرام کے تحت بٹگرام اور ملحقہ بنجر زمین کے انتظام کا اختیار ہوگا۔آرڈیننس کے سیکشن 104 میں نجی و سرکار کے زیر انتظام جنگلات سے کمرشل کٹائی اور سیل پر سرچارج میں ردوبدل کی تجویز منظور کر دی گئی ہے جس کے مطابق دیودار اور شیشم لکڑی پر 100روپے فی مکعب فٹ کے حساب سے سرچارج وصول ہوگا، جبکہ بلیو پائن لکڑی پر 80روپے، فر/سپروس لکڑی پر 60روپے، چیڑ پائن و دیگر حکومتی زمینوں میں وضع کردہ لکڑی پر 40روپے فی مکعب فٹ کے حساب سے سرچارج وصول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نجی و سرکار کے زیر انتظام جنگلات اور شاہی درختوں کے تحفظ،پائیدار ترقی اور انتظام ترمیمی بل میں شامل کیا گیا ہے۔حکومت جنگلاتی کاربن کے حقوق اور تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کریگی۔حکومت کو کسی بھی جنگل اور اس سے ملحقہ علاقے کا نیشنل پارک کی حیثیت دینے کا اختیار حاصل ہوگا

 

۔بنجر زمینوں کے بہتر تحفظ اور انتظام کے لئے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر رینج مینجمنٹ کو ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں۔محکمہ جنگلات کو ایکوٹورازم کو فروغ دینے کے مقصد سے صوبے کے اندر وقتاًفوقتاً کسی بھی علاقے کو شامل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔محکمہ جنگلات کو تحقیق، تعلیم اور ترقی کے مقصد کے لئے مقررکردہ طریقہ کار کے تحت رسائی اور فوائد لینے کا اختیار ہوگا۔آرڈیننس کے سب سیکشن 3 میں سزا دو سال بڑھاکر تین سال قیداور جرمانہ 50ہزار روپیسے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کی ترمیم منظور کر دی گئی ہے۔ آرڈیننس کے سیکشن26, 33, 45 میں سزا کی صورت میں جرمانوں میں ترامیم کی گئی ہیں جس کے مطابق مختلف شقوں میں مجرمان کو جرمانے کی رقوم میں اضافہ کر دیا ہے، شق الف کے تحت سزا پر جرمانہ پانچ ہزار روپیسے بڑھا کر پچاس ہزار روپے کر دی گئی ہیں اسی طرح شق ب کے تحت جرمانہ دس ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔شق ت کے تحت سزا پر جرمانہ 20 ہزار سے بڑھا کر 2لاکھ روپے، شق ج کے تحت سزا پر جرمانہ 50 ہزار سے بڑھا کر 5لاکھ روپے،شق د کے تحت سزا پر جرمانہ موجودہ مارکیٹ کے حساب سے پانچ گنا زیادہ ادا کر نیکی ترمیم شامل ہے۔ اسی طرح آرڈیننس کے سیکشن53 کے تحت سزا پر جرمانہ 10ہزار سے بڑھا کرایک لاکھ روپے،سیکشن59 کے تحت سزا پر جرمانہ 30ہزار سے بڑھا کرتین لاکھ روپے، سیکشن68 کے تحت سزا پر جرمانہ 50ہزار سے بڑھا کرپانچ لاکھ روپے، سیکشن72 کے تحت سزا پر جرمانہ 50ہزار سے بڑھا کرپانچ لاکھ روپے، سیکشن 84 کے تحت سزاوں میں قید اور جرمانوں میں بھی ترامیم منظور کر دی گئی ہیں جبکہ آرڈیننس کے سیکشن86 کے تحت سزا پر جرمانہ500روپے اور 100روپے سے بڑھاکر 50ہزار روپے اور ایک لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔


شیئر کریں: