Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مالی وانتظامی امور میں بہترین کارکردگی دکھانیوالی 8 پبلک سیکٹرزیونیورسٹیوں میں تعریفی اسناد تقسیم

Posted on
شیئر کریں:

مالی وانتظامی امور میں بہترین کارکردگی دکھانیوالی 8 پبلک سیکٹرزیونیورسٹیوں میں تعریفی اسناد تقسیم
یونیورسٹی آف پشاور، کے ایم یو پشاور، ہزارہ یونیورسٹی، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، عبدالولی خان یونیورسٹی، ویمن یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف سوات اور پاک آسٹریایونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز ہری پور شامل

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کی 32 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں میں سے مالی وانتظامی امور میں اصلاحات لانے اورغیرمعمولی کارکردگی دکھانے والی 8 یونیورسٹیوں کے اعزاز میں جمعہ کے روز گورنرہاؤس پشاور میں تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنرسیکرٹریٹ اورمحکمہ اعلٰی تعلیم کی جانب سے صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے 8 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو تعریفی واعزازی شیلڈز پیش کیں۔ مالی و انتظامی امور میں بہترین کارکردگی دکھانے والی یونیورسٹیوں میں یونیورسٹی آف پشاور، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ویمن یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف سوات اور پاک آسٹریایونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز ہری پور شامل ہیں۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر(قائمقام پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر) سیف الاسلام نے بتایا کہ پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے مالی نظم وضبط کے حوالے سے سابق گورنر شاہ فرمان نے ان کو خصوصی ٹاسک سونپا تھاجو کہ یونیورسٹیوں کے مختلف قسم کے مالی مسائل کو مدنظررکھتے ہوئے واقعی ایک بڑا چیلنج تھا لیکن سابق گورنرشاہ فرمان اورموجودہ گورنر مشتاق احمدغنی کے اعتماد اور صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش کی ذاتی دلچسپی اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی پرزور کوششوں کی وجہ سے دوسری دفعہ احسن طریقے سے اس چیلنج کو عبور کیا۔

 

انہوں نے کہاکہ سابقہ گورنرشاہ فرمان، موجود قائمقام گورنرمشتاق احمدغنی اورصوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش کی ذاتی دلچسپی کے باعث گورنرہاؤس میں تمام پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے مالی سال 2021-22 اورمالی سال 2022-23 کے بجٹ اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدکئے گئے تھے جس سے تمام یونیورسٹیوں کو بجٹ تیاری و اخراجات سے متعلق بہترین راہنمائی وہدایات دی گئیں جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے مالی وانتظامی نظم وضبط میں کافی بہتری آئی اور مذکورہ 8 یونیورسٹیوں نے مال وانتظامی اصلاحات، مختلف فنڈز کے قیام، ریسرچ کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اخراجات،مالی خسارہ کم کرنے اوربجٹ کو سرپلس میں لانے کیلئے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے ا ن کی مجموعی کارکردگی دیگر یونیورسٹیوں کی نسبت بہت بہتررہی اور اس لئے ان کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز دیے گئے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے 8 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ صوبہ کی پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے سینٹ کے بجٹ اجلاس میں کافی کچھ سیکھنے کو ملا، اگرچہ بجٹ کی تیاری اور جون میں پیش کرکے منظور کروانا ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن اس سے تمام یونیورسٹیوں کو مالی نظم وضبط برقرار رکھنے میں بہت راہنمائی حاصل ہوئی۔

 

انہوں نے یہاں پر ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر(قائمقام پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر) سیف الاسلام کوخصوصی خراج تحسین پیش کیا جن کی دن رات محنت اور بہترین ٹیم منیجمنٹ اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث دوسری مرتبہ تمام یونیورسٹیوں کے بجٹ اگلے مالی سال کے آغاز سے پہلے جون میں نہ صرف پیش اور منظور ہوئے بلکہ ان کی گہرائی سے جانچ پڑتال ان کو حقیقت پرمبنی بنایاگیا جس سے یونیورسٹیوں کو ایک اچھا بجٹ تیارکرنے میں بھر پور مدد ملی۔ انہوں نے مزید کہاکہ سابقہ گورنر/چانسلر شاہ فرمان کا پاکستان آڈٹ اینڈاکاونٹس سروس کے آفیسر سیف الاسلام کو اس مقصد کیلئے خصوصی طور پر تعینات کرناقابل ستائش اقدام ہے۔ یونیورسٹیوں کے بجٹ کی تیاری سے منظوری تک مالی امور کو باریک بینی سے دیکھاگیا جس کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں کیونکہ ہمارا واحد مقصد پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کو معاشی وانتظامی طور پر مستحکم بناناہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت یونیورسٹیوں کا ایک کنسورشیم بنانے جاری ہے جس کی حکومت مالی وتکینکی معاونت بھی کرے گی۔ تقریب میں یونیورسٹیوں کے بجٹ سے متعلق سینٹ اجلاسوں میں باقاعدگی سے حاضری یقینی بنانے اورتعاون کرنے پر محکمہ اعلی تعلیم، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور ہائرایجوکیشن کے نمائندوں کی خدمات کو بھی سراہاگیا اور اسپیشل سیکرٹری ہائیرایجوکیشن راشد پائندہ خیل، محمدآیاز محکمہ اسٹیبلشمنٹ، محکمہ خزانہ سے حسن عابد اورغلام نبی ہائرایجوکیشن کمیشن کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں تعریفی شیلڈ پیش کی گئی جبکہ گورنرسیکرٹریٹ کے کلیدی کردار اور تعاون وخدمات کے اعتراف میں ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام کو تعریفی شیلڈ پیش کی گئی۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے محکمہ اعلٰی تعلیم مدیحہ نثاراور رکن صوبائی اسمبلی وپارلیمانی سیکرٹری محکمہ اعلٰی تعلیم عائشہ بانو بھی موجود تھیں۔


شیئر کریں: