Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں ۔ محنت رائگاں نہیں جاتی ۔  نثار احمد 

شیئر کریں:

تلخ و شیریں ۔ محنت رائگاں نہیں جاتی ۔  نثار احمد

      قاضی محب الرحمن اور مفتی عزیز احمد کے ڈاکٹر بننے پر دل خوش بھی ہوا اور کس قدر حزین و غمگین  بھی ۔ خوش اس لیے ہوا کہ دونوں یار ہیں۔ محبت و اپنائیت کا تعلق اِن سے دو چار دنوں کا نہیں، کئی سالوں کا ہے۔ حزین و غمگین اس لیے کہ ہمارے جونئیر ڈاکٹر بن گئے اور ہم نہیں بن سکے۔ دراصل ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی میں میرا داخلہ کراچی یونیورسٹی میں ہوا تھا جب کہ دونوں فاضل اسکالرز کا وفاقی اردو یونیورسٹی میں۔ پھر ہوا یوں  ایک سالہ کورس ورک کی تکمیل، انتخاب ِ موضوع اور خُطے کی تیاری کے بعد ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہونے کے ناتے مجھے کراچی کو الوداع کہنا پڑا ۔ اس کے بعد اپنی سستی و کاہلی  اور حد درجہ نالائقی کی وجہ سے پلٹ کر خود سے پوچھا تک نہیں کہ تمہارے مقالے کا کیا بنا۔ جب کہ میرے یہ دونوں ہمدم لگے رہے ۔ حالانکہ میری طرح سال دو سال بعد چترال یہ بھی آ گئے تھے۔ مصروفیات ان کی وہی تھیں جو میری تھیں۔ مسائل و مشاکل انہیں بھی درپیش تھے جیسے مجھے تھے۔ لیکن میں نے فوراً سے پیشتر ہار مان لی ، جب کہ ان دونوں نے ہار ماننے سے انکار کیا اور انہ صرف اپنی محنت جاری رکھی بلکہ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا۔ آج ان کی انتھک محنت کا ثمرہ اس طرح سامنے آیا کہ دونوں کے ناموں کے سابقے میں ڈاکٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ یقیناً دونوں ڈاکٹر صاحبان اس سابقے کے فواید سے بھی مستفید ہوں گے ۔
ڈاکٹر قاضی محب الرحمن کا تعلق ریری اویر سے ہے۔ آپ ریری کے مشہور قاضی خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔ سال پہلے انتقال فرمانے والے چترال کے مشہور عالمِ دین قاضی حمید الرحمن رحمہ اللہ آپ ہی کے تایا تھے۔ ڈاکٹر موصوف آج کل شاہی مسجد چترال کے احاطے میں واقع سرکاری دارالعلوم میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔ اس سے پہلے گورنمنٹ مڈل سکول رباط کھوت اور دارالعلوم ربانیہ دروش میں بھی آپ بچوں کو پڑھاتے رہے ۔ یہ دارالعلوم چترال کے کبار اساتذہ کا آپ کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے کہ درس نظامی کی مشکل اور بڑی کتابیں تدریس کے لیے آپ کے سپرد کی گئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ترقی عطا فرمائے ۔
 ڈاکٹر عزیز سوئر (دروش) کا باشندہ ہے۔ دونوں سے تعلق آج سے تیرہ چودہ سال قبل دارالعلوم کراچی کورنگی میں بنا تھا۔ تب دونوں نے درجہ کتب کے ابتدائی درجات ثانیہ اور ثالثہ کے لیے دارلعلوم میں داخلہ لیا تھا۔  ماشاءاللہ دونوں کا شمار دارالعلوم کراچی کے انتہائی محنتی اور زہین طلبا میں ہوتا تھا۔ قاضی محب الرحمن پڑھائی کے علاوہ دیگر مصروفیات مثلاً جے ٹی آئی جیسی طلبہ تنظیم  کو بھی خوب وقت دیتے تھے۔ غالباً دو سال کے کے لیے جے ٹی آئی چترال حلقہ کراچی کے جنرل سیکرٹری بھی چُنے گئے تھے۔  جب کہ ڈاکٹر عزیز احمد نے خود کو صرف اور صرف پڑھائی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کہ ان کی تخلیق ہی پڑھائی کے لیے ہوئی ہے۔ جب بھی دیکھو کسی نہ کسی درسی کتاب کا کوئی نہ کوئی دقیق مسئلہ سلجھا رہا ہوتا تھا۔ ماشاءاللہ آپ کی محنت بھی قابلِ رشک تھی اور کتابوں کے ساتھ اٹوٹ تعلق بھی۔ ایسا کوئی لمحہ نہیں ہوتا تھا جب موصوف ڈاکٹر کسی نہ کسی درسی کتاب پر سرنگوں دکھائی نہ دیں۔ دارالعلوم میں وقت کا درست استعمال عزیز جیسے طالب علم ہی کرتے نظر آتے تھے۔ عام دنوں کو چھوڑیں، عید کی نماز کے کے بعد بھی فرصت کے لمحات کو غنیمت جان کر آپ کمرے میں کتاب کھول کر بیٹھ جاتے تھے۔  یہی وجہ ہے کہ دارلعلوم کراچی کی کوئی تقریب برائے امتحانات ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں اسٹیج سے عزیز احمد کا نام بطورِ پوزیشن ہولڈر نہ لیا جاتا ہو۔
دراصل دارالعلوم کراچی کورنگی کے ہر تعلیمی سیشن میں سماہی، ششماہی اور سالانہ تین امتحانات ہوتے ہیں۔ ان امتحانات میں پہلی ، دوسری یا تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو کتابوں کا بنڈل اور کپڑوں کا سوٹ ہی انعام میں نہیں دیا جاتا بلکہ اگلے تین مہینوں کے لیے کیش کی صورت میں ماہوار ملنے والا وظیفہ بھی دگنا ہوتا ہے۔ ہمیشہ پوزیشن ہولڈر رہنے کی وجہ سے ڈاکٹر موصوف کی معاشی ضروریات بھی دارالعلوم سے ملنے والے انعامات کے طفیل ہی پوری ہوتی تھیں۔ معاشی ضروریات کے لیے انہیں گھر والوں کو زحمت دینی نہیں پڑتی تھی۔
 ڈاکٹر موصوف کی زندگی میں ان لوگوں کے لیے واضح سبق ہے جو معاشی مشکلات کو شاہراہِ حیات میں آگے نہ بڑھ پانے کا سبب ٹھہراتے ہیں۔ باپ کا سائے سے محروم ہونے اور گھر میں کسی تگڑے معاشی پُشت پناہ کے نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو بھی شدید معاشی چیلنجز درپیش تھے لیکن آپ نے ان چیلنجز کو  اپنے اہداف و مقاصد کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا۔ زمانے اور حالات کو کوس کر وقت ضائع کرنے کی بجائے خوب محنت سے پڑھا۔ اور اتنا پڑھا کہ فراغت کے بعد آپ جہاں بھی گئے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے ۔
 فراغت کے بعد کچھ عرصے کے لیے لاہور کے ایک مدرسے میں اپنی صلاحیتیں لگائیں ۔ پھر جب یہاں چترال میں سکول اساتذہ کی آسامیاں مشتہر ہوئیں تو این ٹی ایس ٹاپ کر کے سکول میں معلّم ِّ عربی لگ گئے۔ ابھی ڈیڑھ دو سال بھی نہیں گزرے تھے کہ پبلک  سروس کمیشن میں صوبائی سطح پر پہلے نمبر پہ آ کر کامرس کالج چترال میں لیکچرر شپ کی آسامی کے لیے ریکمنڈ ہوئے۔ مہم جو طبیعت ایک مقام پر کہاں قانع ہوتی ہے  سو ابھی کامرس کالج جا کر پڑھانے کا آغاز بھی نہیں کیا تھا کہ اسے چھوڑ کر یونیورسٹی آف مالاکنڈ چلے گئے جہاں آج کل بطورِ لیکچرار اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔ ان کی ترقی پسند طبیعت اور محنت کوش مزاج سے ایسا لگ رہا ہے کہ جلد ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر اسٹنٹ پروفیسر ، ایسوسی ایٹ پروفیسر سے ہوتے ہوئے فل پروفیسر بن جائیں گے ۔ محنت کا پھل میٹھا ہو نہ ہو، پر ملتا ضرور ہے۔ محنت کبھی رائگاں نہیں جاتی۔ ڈاکٹر عزیز جیسے لوگوں کی زندگی میں آج کے نوجوانوں کے لیے یہی سبق ہے کہ زمانہ ء طالب علمی میں محنت کو اپنا شعار بنا لیں۔ فیس بُک، وہاٹس ایپ ، انسٹاگرام وغیرہ کے استعمال کے لیے پوری زندگی پڑی ہے ۔
بہرحال ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں دونوں اسکالرز کے لیے ہیں اور آج کے یہ چند سطور بھی انہی کے نام ہیں ۔

شیئر کریں: