Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں ریسکیو1122کو مزید ایمبولنس فراہم کئے جائیں، مریضوں کو پشاور منتقل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں /قاری جمال عبدالناصر

Posted on
شیئر کریں:

چترال میں ریسکیو1122کو مزید ایمبولنس فراہم کئے جائیں، مریضوں کو پشاور منتقل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں /قاری جمال عبدالناصر

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) معروف مذہبی اور سیاسی شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو 1122چترال میں ایمبولنس کی کمی کو دور کیا جائے اور ادارے کو مزید ایمبولنس فراہم کئے جائیں۔ میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چترال رقبے کے لحاظ سے دو ضلعوں پر مشتمل صوبے کا ایک بڑا علاقہ ہے جو دورافتادہ اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے،یہاں پر صحت کی سہولیات محدود ہیں اسلئے مریضوں کو پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے اور مریضوں کی منتقلی کا یہ کام محکمہ ریسکیو 1122سرانجام دے رہا ہے مگر چترال کے اضلاع کے لئے ریسکیو 1122کے پاس ایمبولنس ناکافی ہیں، اسوقت ایمبولنس کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب دروش علاقہ شیشیکوہ سے ایک 22سالہ خاتون کو پتھر لگنے کی بناء پر سر میں شدید چوٹ لگی تھی، دروش ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد مریض کو فوری طور پر تیمرگرہ کیلئے ریفر کیا گیا مگر دو گھنٹے گزرنے کے باوجود مریض کی منتقلی کیلئے ایمبولنس دستیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں خود دو گھنٹہ ہسپتال میں موجود رہا، ریسکیو 1122 سے ایمبولنس کا کہا تو جواب ملا کہ سارے ایمبولنس مریض لیکر پشاور گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق ریسکیو1122دروش میں صرف ایک ایمبولنس ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر چترال سے بھی ایمبولنس بھیج دیتے ہیں کل ملاکر لوئر چترال میں آن روڈ صرف پانچ ایمبولنس ہیں جو بالکل نا کافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایمبولنس ڈرائیور مریض کو لیکر رات پشاور روانہ ہوتا ہے لیکن اسی وقت بغیر آرام کئے فوری واپس چترال پہنچ کر پھر مریض لے کر واپس روانہ ہوتا ہے جو کہ ایمبولنس کم ہونے کی بناء پر ایسا کرنا انتہاء مجبوری ہے گزشتہ رات شدید زخمی خاتون کو ایمبولنس نہ ہونے کی بناء پر غواگئے گاڑی میں تیمرگرہ شفٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز بوقت عصر سید آباد ہوٹل میں ایمبولنس کھڑی تھی،میں اپنی گاڑی روک کر دیکھا کہ ایک زخمی اور ایک معدے کا بیمار یعنی دو بیمار ایک ایمبولنس میں ب امر مجبوری پشاور لے جارہے ہیں کیوں کہ ایمبولنس کی بہت کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122کے اہلکار نہایت اچھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، انہیں وسائل فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

قاری جمال عبدالناصر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر صحت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں ریسکیو1122کے ایمبولنس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں اور انکے اہل و عیال کو پریشانی اور تکلیف سے چھٹکارا مل سکے۔


شیئر کریں: