Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ احسان الحق جان ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

داد بیداد ۔ احسان الحق جان ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

chitraltimes ihsanulhaq jan booni late
29جون 2022کی شام کا وقت تھا امریکی ریا ست میری لینڈ سے نیو جر سی کی طرف آنے والی شاہراہ پر کار کو حا دثہ پیش آیا چند منٹوں میں خود کار پیغام رسانی کی اطلا ع پر ہیلی کا پٹر اس جگہ اترا، ریسکیو کی گاڑیاں آگئیں، چار زخمیوں کو ہسپتال پہنچا یا گیا پا نچواں زخمی دم توڑ چکا تھا یہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کے ہیڈ کوار ٹر بو نی سے تعلق رکھنے والا 52سالہ احسان الحق جا ن تھا پو لیس کی تفتیش مکمل ہو تے ہی ان کے جسد خا کی کو ورثا ء کے حوالے کیا گیا پہلے نیو جر سی کے عوامی ہال میں سروس منعقد کر کے مر حوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اس کے بعد ان کے تا بوت کو بو نی پہنچا کر آبائی قبر ستان میں سپرد خا ک کیا گیا مر حوم کوئی عام پا کستا نی اباد کار نہیں تھا وہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوار ٹر نیو یا رک میں یو نیسیف (UNICEF) کے بڑے عہدے پر فائز تھا اور قریبی ریا ست نیو جر سی میں رہتا تھا عجیب داستان ہے بو نی کے چھو ٹے قصبے میں شمسیار خا ن کے ہاں 1970ء میں پیدا ہو نے والا بچہ اپنی تعلیمی قابلیت، کا ر کر دگی اور محنت کی وجہ سے اقوام متحدہ میں اپنے لئے جگہ بنا لیا وہ سفارتی پا سپورٹ کیساتھ امریکہ میں مقیم ہوا یورپ، ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے سلسلے میں گھوم پھر کر دنیا کے ایک تہا ئی حصے کو اپنی آنکھو ں سے دیکھا

chitraltimes ihsanulhaq jan booni late usa 2

اجل نے پکا را تو دیار غیر میں اپنی فیمیلی کے ساتھ محو سفر تھا قدرت کا کر شمہ دیکھئیے کہ ان کے جسد خا کی کو وطن کی مٹی میں آسودہ خا ک ہو نا نصیب ہوا ”پہنچی وہیں پہ خا ک جہاں کا خمیر تھا“ اگست 1987ء کی بات ہے پشاور یو نیورسٹی کے شعبہ جعرافیہ کے چیئر میں پرو فیسر اسرار الدین نے اپر چترال کا دور ہ کیا تو گورنمنٹ کا لج بو نی میں ان کا لیکچر رکھاگیا عنوان تھا ”چترال کی جعرا فیا ئی خصو صیات“ لیکچر کے بعد سوال و جواب کے لئے وقت دیا گیا طلباء نے اپنی اپنی استعداد کے مطا بق سوا لات پو چھے احسا ن الحق جا ن اکنا مکس پڑھتے تھے ان کا سوال تھا گلو بل ویلیج میں چترال کا کیا مقام ہو گا؟ پر وفیسر صا حب کو اس سوال کی توقع نہیں تھی انہوں نے پا نی ما نگا، پا نی پینے کے بعد جوا ب دیا کہ گلو بل ویلیج میں چترال بیجنگ، ٹو کیو، پیرس، لند ن اور نیو یا رک کا پڑو سی بنے گا آپ میں سے ایسے نو جواں نکلینگے جو نیو یارک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونگے ہر شا م کو بو نی فون کر کے ما ں باپ اور بھا ئی بہنوں کے ساتھ ویڈیو کا ل کے ذریعے گفتگو کرینگے کا نفرنس کا ل کی مدد سے چترال میں بیٹھا ہوا نو جوان پیرس، لندن اور نیو یا رک میں بیٹھے ہوئے ما ہرین کے ساتھ مشاورت میں شریک ہو گا فاصلے مٹ جا ئینگے اور چترال کادنیا کے جعرافیے میں الگ تھلک مقا م نہیں رہے گا

chitraltimes ihsanulhaq jan booni late usa

پرو فیسر صاحب کی پیشگوئی احسان الحق جا ن کے بارے میں حرف بحرف سچ ثا بت ہوئی اس کو اپنے سوال کا جواب عملی طور پر مل گیا انہوں نے گلو بل ویلیج کا تجربہ اپنے گھر میں کیا احسان الحق جان کا لج کی زند گی میں اپنی جما عت کے خا مو ش، کم آمیز اور تنہا ئی پسند طلباء میں شمار ہوتے تھے یو نیور سٹی میں جا نے کے بعد ان کے اندر سما جی خد مت اور رضا کارا نہ کا موں کا جذبہ مو جزن ہوا سب سے پہلے انہوں نے الکریم ویلفئیر سو سائیٹی کی بنیاد رکھی اس کے ساتھ انہوں نے شیرزاد علی حیدر کے ساتھ ملکر الکریم کمپیوٹر لٹریسی سنٹر کا اجراء کیا بو نی میں کمپیوٹر سکھا نے کا یہ پہلا فلا حی مر کز تھا شیرزاد علی حیدر اس کے صدر اور احسان الحق جا ن سر پرست اعلیٰ تھے، یو نیورسٹی سے فارغ ہو نے کے بعد پا میر پبلک سکول بو نی میں پڑ ھا نے والے بر طا نوی رضا کا روں میں شا مل ہوئے 1995ء میں انجمن ترقی کھوار کے زیر اہتما م چترال میں تیسری انٹر نیشنل ہندو کش کلچرل کا نفر نس منعقد ہوئی.

chitraltimes ihsanulhaq jan booni usa

 

احسا ن الحق جا ن نے رضا کا را نہ طور پر کا نفر نس کا پورا سکر ٹریٹ سنبھا لا، گل نوا ز خا کی، تا ج محمد فگار اور محمد عرفان ان کے معا ونین تھے کا نفرنس میں امریکہ، بر طا نیہ، جر منی، فرانس، اٹلی، نا ر وے، ڈنمارک، جا پا ن اور دیگر مما لک کے مندو بین میں سے اکثرکیساتھ جا ن کی دوستی ہوئی جو آخر تک قائم رہی کا نفر نس کی روداد اکسفورڈ یو نیور سٹی پریس نے شائع کی جس میں احسان الحق جا ن کا نا م منتظمین میں سر فہرست آیا ہے 2009ء میں لواری سرنگ کھلنے کے موقع پر چترال کے دانشوروں نے اسلا م اباد میں ایک سیمینار کا پرو گرام بنا یا، اس کی تیاری میں حا جی محمد ولی خا ن، شیر نوروز خا ن، شیرزاد علی حیدر، قاضی فضل الٰہی اور حبیب الرحمن کے ساتھ احسان الحق جا ن نے دن رات کام کیا، سیمینار میں مندو بین نے لوا ری ٹنل کھلنے کے بعد چترا ل کی سما جی، معاشرتی اور ما حو لیاتی مسائل کا مقا بلہ کر نے کے لئے مختلف طور طریقوں پر مقا لے پیش کئے، سیمینا ر کے دن معلوم ہوا کہ اس میگا ایونٹ کے رو ح رواں احسان الحق جا ن ہی تھے

chitraltimes ihsanulhaq jan booni late usa booni

اس دوران 3سال تک فوکس پا کستان کے اعزازی ڈائر یکٹر بھی رہے ان کا تعلیمی ریکارڈ بھی شاندار تھا پشاور یو نیور سٹی سے اکنا مکس میں ایم اے کیا پھر سکا لر شپ پر یو نیورسٹی آف ایسٹ اینگلیہ انگلینڈ سے ڈیو لپمنٹ سٹڈیز میں ما سٹر کیا، پیشہ ورانہ زند گی میں وہ بڑے بڑے منصو بوں اور پرا گرا موں کی ما نیٹرنک اینڈ ایوے لوے شن کے ما ہرین میں شمار ہوتے تھے چند سال آغا خان رورل سپورٹ پرو گرام سے وابستہ رہے پھر یو نیسیف میں ان کا انتخا ب ہوا، ان کا بیٹا احد علی جا ن ور جینیا یو نیورسٹی میں انجینرنگ پڑ ھتا ہے بیٹی جنت جا ن نے فیرلین نیو جر سی کے سکول سے او لیول کیا ہے حا ل ہی میں ان کا تبا دلہ زیمبیا ہوا تھا جہاں وہ اہم ذمہ داری سنبھا لنے والے تھے مگر زندگی نے وفا نہیں کی غا لب نے اپنے دوست عارف کا جو مر ثیہ لکھا اس کا ہر شعر بچھڑ نے والے کا دکھ سامنے لا تا ہے ؎

جا تے ہوئے کہتے ہو قیا مت کو ملینگے
کیا خو ب! قیا مت کا ہے گو یا کوئی دن اور
ہاں اے فلک بیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مر تا کوئی دن اور

chitraltimes ihsanulhaq jan booni late usa qamar

 


شیئر کریں: