Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امیرتبلیغی جماعت چترال حاجی عبد الرشید مرحوم – محکم الدین ایونی

Posted on
شیئر کریں:

امیرتبلیغی جماعت چترال حاجی عبد الرشید مرحوم – محکم الدین ایونی

اللہ پاک کے اس کائنات میں آج کے مادہ پرستی کے دور میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے ۔ جو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے دین کی سربلندی اور اشاعت کیلئے شب و روز سرگرم عمل ہیں ۔ اور جان مال وقت اللہ کے دین پر لگا کر اپنی آخرت سنوارنےمیں لگے رہتے ہیں ۔

بھائی حاجی عبدالرشید مرحوم ان ہی خوش نصیب لوگوں میں سے تھے ۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کو گھر گھر پہنچانے کیلئے خودکو وقف کر دیا تھا۔ اور بالاخر اسی راستے میں ہی جان جان افرین کے سپرد کر دی ۔

حاجی عبد الرشید مرحوم 60 کی دھائی میں معروف کاروباری و دینی شخصیت حاجی عبد الباقی مرحوم کے گھر واقع موڑدہ چترال شہر میں پیدا ہوئے ۔ میٹرک تک تعلیم کے بعدکاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتےرہے۔ اس دوران والد کے نقش قدم پر چل کر تبلیغ سے وابستہ ہوئے ۔ 1984 میں پہلی بار تبلیغ میں چارمہینے لگائے۔ اور پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر جا کر دین کی تبلیغ کی تربیت حاصل کی ۔ بعد آزان 1988 میں اٹھارہ مہینوں کیلئےتبلیغ کیلئے سوڈان کاپیدل سفرکیا ۔ اور حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی ۔ 1996 میں ایک سال کیلئے ان کی تشکیل روس اور یوکرین کیلئےہوئی ۔ اس وقت وہ قاضی نثار احمد مرحوم اور عزیز الرحمن جغور کے ہمراہ تھے ۔ 2015 میں 7 ماہ کیلئے انہیں تبلیغ کیلئے مصر بھیجا گیا ۔ لیکن ویزا نہ ملنے کے سبب انہیں دوبارہ سوڈان کی طرف رخ کرنا پڑا ۔ اس وقت مولانا ولی محمد بطور ترجمان ان کے ساتھ تھے ۔

بھائی عبدالرشید چترال کی طرف سے رائیونڈ مرکز کی شوری کے رکن تھے ۔ جو باقاعدگی سے خصوصی طور پر رائیونڈ مرکز کے مشوروں میں شامل ہوتے، اوران فیصلوں کو چترال میں تبلیغ کے علماء و اکابرین تک پہنچاتے ۔ جس پر عمل کیا جاتا ۔ اور تبلیغ کے کام کو آگے بڑھایا جاتا تھا ۔

مرحوم چترال میں تبلیغ کے سابق امراء مرید حسن ، قاضی نثار احمد ، حاجی امان اللہ ، حضرت ولی و مولانا حفیظ الرحمن کے بہت قریب رہے اور مولانا حفیظ الرحمن کے ساتھ حادثہ پیش آنےکے بعد تبلغی مرکز چترال کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اور مرتے دم تک تبلیغ سے لے کر مسجد کی تعمیر تک انتہائی احسن طریقے سے خدمات انجام دیتےرہے ۔ قدرت نے ان کو بے پناہ صلاحیتیں دے رکھی تھیں۔ حافظہ اتنا مضبوط تھا ۔ کہ تبلیغ سے وابستہ افراد کے نام اور اللہ کے راستے میں لگائےگئے اوقات ان کو زبانی یاد تھے ۔ ہربات خندہ پیشانی سے کرتے ، اس لئے سب کیلئے قابل قبول شخصیت تھے ۔ مرحوم عبدالرشید ابتدا میں کچھ عرصہ سیاست میں بھی رہے ۔ اور جمیعت العلماء اسلام کے عہدہ دار رہے۔ لیکن بہت جلد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے تبلیغ دین کیلئے خود کو وقف کر دیا ۔ لیکن جس طرح ہر زی روح کو موت کا مزہ چکھنا پڑتا ہے۔ حاجی عبدالرشید کو بھی اس مرحلے سے گزرناپڑا ۔ اور عید الاضحی کے تیسرے روز ظہر کی نماز کیلئے وضو بناتے ہوئےحرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ان کی وفات پر صاحب آباد دیر ، تیمرگرہ، ، باجوڑ ، پشاور تبلغی مرکز کے احباب اور رائیونڈ مرکز کے ڈاکٹر سلیم ، ڈاکٹر نعیم شاہ اور مانسہرہ مرکز کے علماء نے خصوصی تعزیتی پیغام بھیجا اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ان کے قریبی رفقا ء میں حاجی نور محمد ، بھائی سہراب ، مولانا فیض الرحمت ، حاجی امان اللہ ، ، بشیرالدین ، فیض محمد اور افضل شاہ شامل ہیں ۔ حاجی عبدالرشید نے تین بیٹے عرفان الہی ، احسان الہی ، کامران الہی اور تین بیٹیاں اور اہلیہ سوگوار چھوڑی ہیں ۔

آسمان تیری لحد پہ شبنم آفشانی کرے

Chitraltimes haji abdur rashid tablighi amir chitral


شیئر کریں: