Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات – محمد شریف شکیب

ماحولیاتی تبدیلیوں کے غیر متوقع اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔حالیہ پری مون سون بارشوں کے دوران میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 20 سینٹی گریڈ سے بھی نیچے آ گئی اس دوران سوات، دیر، چترال اور وادی کاغان میں درحہ حرارت پہلی بار جون کے مہینے میں نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔بارش دینے والی ہوائوں کا رخ مڑتے ہی سورج آگ برسانے لگا۔ میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ ہونا کوئی انہونی بات نہیں تاہم پہاڑی علاقوں میں بھی 42 سینٹی گریڈ کے ساتھ سورج آگ برسانے لگا جس کی وجہ سے گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اوربرفانی جھیلیں پھٹنے لگی ہیں۔گلوف کے حالیہ سروے کے مطابق رواں سال چترال، گلگت بلتستان اور سوات میں برفانی جھیلیں پھٹنے سے بڑے پیمانے پر سیلابوں کا خطرہ ہے۔حالیہ دنوں میں چترال کی تحصیل گرم چشمہ کے علاقہ ارکاری اور اپر چترال کے مختلف مقامات پر سیلاب سے کافی مالی نقصان ہوا ہے۔

 

چترال کا علاقہ ٹائون، وادی کالاش، دروش، جوغور، ریشن، بونی، سنوغر، کھوژ اور بریپ شدید خطرات کی زد میں ہیں اسی طرح تریچ، گہکیر اور لوٹ اویر کے علاقوں میں بھی ہولناک سیلابوں کا خطرہ ہے موسمیاتی ماہرین کے علاوہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اور پی ڈی ایم اے نے بھی خطرات سے پیشگی آگاہ کردیا ہے۔ بلاشبہ زلزلے، سیلاب، طوفانی بارشیں قدرتی آ فت ہیں جنہیں روکنا انسان کے بس کی بات نہیں تاہم بروقت حفاظتی انتظامات کے زریعے قدرتی آفات سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین منفی اثرات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آ رہی ہے اس لئے یہ قومی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے اب بھی وقت ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، غیر سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی قدرتی ماحول کو بچانے کے لئے متحرک ہوں۔جنگلات کے بے دریغ کٹائی روکنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ساتھ ہی درخت لگانے اور ان کی نگہداشت کو بھی سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے سانپ کے ڈسنے اورگزرجانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں گا۔


شیئر کریں: