Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہارتوں کا عالمی دن: ڈگری نہیں ہنرسکھائیں۔ پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

مہارتوں کا عالمی دن: ڈگری نہیں ہنرسکھائیں۔ پروفیسرعبدالشکورشاہ

ہر سال 15جولائی کو نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔مہارت طاقت سے بہتر ہے۔پوری دنیا میں ہنر مند افراد ڈگری یافتہ سے کئی گنازیادہ معاوضہ، ذہنی سکون اور پیشہ ورانہ تکریم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔روائیتی ڈگریاں ملک میں بے روزگاری کو جنم دینے کے علاوہ معاشرے میں پریشانی، ڈپریشن، ذہنی کھچاو، نفسیاتی مسائل، احساس کمتری اور گھناونے جرائم کا سبب بن رہی ہیں۔UNDPکے تخمینے کے مطابق پاکستان کی آبادی2.4%سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔آمدہ چار عشروں میں نوجوانوں کی آبادی2.1ملین سے تجاوز کر جائے گی اور 2050تک یہ افرادی قوت181ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ اگر ہم نے ہنر اور مہارتوں کی فراہمی کی طرف بروقت توجہ نہ دی تو آنے والے سالوں میں ہمارے لیے اس سونامی کو سنبھالنا بہت کھٹن ہو جائے گا۔ امریکہ میں 52%افرادی قوت، برطانیہ میں 68%، جرمنی میں 75%، جاپان میں 80% اور جنوبی کوریا میں 96%افرادی قوت کو مہارتوں، ہنر اور تربیت سے مزین کیا گیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں یہ تعداد محض5%ہے۔اگر ہم نوجوانوں کو ڈگریوں کی دوڑ سے نکال کر ہنر اور مہارتوں کی طرف لانا چاہتے ہیں توپاکستان میں ہمیں سالانہ تقریبا3ملین تربیتی نوجوان درکار ہیں۔

 

اس کے برعکس ہمارے پاس3,740اداروں میں تربیت فراہم کرنے اور ہنر سکھانے والے افراد کی نشستوں کی تعداد محض400,000ہے۔ متذکرہ تعداد میں سے 18,000اساتذہ رسمی ٹیوٹا سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔ روائیتی بنیادوں پر 3ملین نوجوانوں کو مہارتوں اور ہنر سے مزین کرنے کے لیے بھی ہمیں کم ازکم45,000ادارے اور 200,000اضافی ٹیوٹا سے منسلک اساتذہ کی ضرورت ہے۔ دنیا میں نوجوانوں کی آبادی سال 2021تا2030کے درمیان78ملین کی حد عبور کر جائے گی۔ آبادی کے اس طوفان کا آدھے سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔ لہذا ہمیں اپنے نظام تعلیم میں ایسی نئی جہتیں متعارف کروانی ہوں گی جو اس للکارکا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہوں۔عالمی سطح پر گزشتہ 15سالوں کے دوران نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان لڑکیوں میں اس کا تناسب30%جبکہ نوجوان لڑکوں میں یہ تناسب13%ریکارڈکیا گیا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق آمدہ 15سال میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لیے 600ملین نوکریاں تخلیق کرنی پڑیں گی۔بے روزگار نوجوانوں میں لڑکیوں کی شرح لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔1997تا2017 نوجوانوں کی آبادی کا حجم139ملین تک پہنچ گیا جبکہ افرادی قوت سکڑکر 58.7ملین رہ گئی۔ اس وقت تیزی سے ترقی کی راہ پر ابھرتی ہوئے ممالک میں 5میں سے 2نوجوان روزانہ3.10ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی سطح پر نوجواں میں بے روزگاری کی شرح بالغ افراد کی نسبت 3گنا زیادہ ہے۔ نوجوان کل افرادی قوت کا 25%ہیں مگر ان میں بے روزگاری کی شرح40%سے زیادہ ہے۔

 

دنیا بھر میں نوجوان کی ایک تہائی اکثریت عزت مند روزگارکے مواقع سے محروم ہے۔ صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ سال2015میں 74ملین نوجوان نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں تھے اور یہ وہ تعداد ہے جس کے اعدادوشمار دستیاب ہیں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے مختلف سرمایہ کاروں اور تنظیموں نے مہارتوں کی ترویج کو بہت محدود کر دیا۔ نئی مہارتیں سیکھنے والے یا تجربے کے حصول کے لیے کام کرنے والوں کی تعداد بلترتیب کم ہو کر 86%اور 83%رہ گئی۔ تقریبا آدھے سرمایہ کاروں نے مہارتیں سیکھنے والے افراد کو الاونس اور عارضی تنخواہ کی ادائیگی بند کر دی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معیشت میں بہتری کا تناسب3.3% تک رہے گا۔ بین الاقوامی افرادی قوت کے ادارے ILOکے مطابق سال 2020میں کام کرنے کے گھنٹوں میں 8.8%کمی واقع ہوئی ہے جو 255ملین کل وقتی نوکریوں کے برابر بنتی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق غربت میں جتنی کمی دو عشروں میں وقوع پذیر ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ غربت کرونا کی وجہ سے لاحق ہو گئی ہے۔ عالمی بینک، بین الاقوامی ادارہ برائے افرادی قوت اور یونیسکو کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے مہارتوں کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اداروں کی بندش کی وجہ سے مہارتوں کی ترویج کا تناسب بہت زیادہ کم ہو گیا۔

 

نوجوانوں کو کسی بھی قوم اور معاشرے کا مستقبل تصور کیا جا تا ہے۔ پاکستان کی 64%سے زیادہ آبادی30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جوعالمی سطح پر نوجوان آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس افرادی قوت کو مہارتوں سے مزین کر دیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس نوکری کے مناسب مواقع کی عدم دستیابی، سماجی شمولیت،ناقص نظام تعلیم، صحت کی سہولیات کی کمی اور نوجوانوں سے متعلق ہمارے سماجی اور معاشرتی رویے اس افرادی قوت کو ایک ٹائم بم میں تبدیل کر رہے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم نے ہمارے نوجوانوں کے باعزت روزگار کے خواب کو ایک ڈراونے خواب میں بدل دیا ہے۔ تعلیم ڈگریاں روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں جبکہ مہارتیں اور ہنر اس بات کے ضامن بن چکے ہیں۔ ہنر مندی اور مہارتیں ہمیں اس بے روزگاری کی دلدل سے باہر نکالنے کا واحد زریعہ ہیں۔ UNDP2020کی رپورٹ کے مطابق 29%پاکستانی نوجوان ناخواندہ ہیں جبکہ صرف 6%کے پاس بمشکل 12سالہ تعلیم موجود ہے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سالانہ 4ملین نوجوان کام کاج کرنے کی عمر کو پہنچ کر مارکیٹ میں قدم رکھ رہے ہیں جبکہ اتنی بڑی تعداد میں سے محض 39%کو سالانہ بنیادوں پر نوکری ملتی ہے۔

 

المیہ یہ بھی ہے تقریبا ملک کے آدھے نوجوان ناخواندہ ہیں اور نہ ہی انہیں کسی ہنر یا مہارت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر تربیت، مہارتیں اور ہنر سیکھنے والے نوجوان ملکی یا بین الاقوامی سطح پر مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے یا نوکری حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی حاصل کردہ مہارتیں اور ہنر ملکی اور عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی۔ افرادی قوت کے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2020-21کے دوران بے روزگاری کی شرح9.56%رہی اور سال 2022میں اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ اس افرادی قوت کو نوکریاں مہیاکرنے کے لیے ہمیں سالانہ مزید1.3ملین نوکریاں تخلیق کرنی ہوں گی۔سال 2020کے پانچھ سالہ پروگرام کے مطابق پاکستان کا ترقیابی انڈیکس0.557تھا جو درمیانے درجے کو ظاہر کر تا ہے اور ملک189ممالک میں 154نمبر پر تھا۔ اگر علاقائی موازنے کی بات کی جائے تو صرف افغانستان واحد ملک ہے جو ہم سے پیچھے ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافے اور ہنر اور مہارتوں کی عدم فراہمی کو کم کرنے کی حکومتی کوششیں ناکافی ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر بڑھتی ہو ئی بے روزگاری اور نوجوانوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کو ہم صرف مہارتوں اور ہنرکی فراہمی کے زریعے روک سکتے ہیں۔


شیئر کریں: