Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اہالیان رامان لشٹ لاسپور کے 80 گھروں پر مشتمل مکینوں کی فریاد۔ میر ولی زار

Posted on
شیئر کریں:

اہالیان رامان لشٹ لاسپور کے 80 گھروں پر مشتمل مکینوں کی فریاد۔ میر ولی زار

قربانی کا فلسفہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے، کہہ دیں بیشک میری نماز، میری قربانی میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو تمام عالم کا رب ہے. الانعام 165
ہر سال عالم اسلام کے مسلمانان کروڑوں جانوروں کی قربانی کر کے اس عظیم الشان اور بیمثال واقعہ کی یاد تازہ کر تے ہیں جو تقریباً آج سے ھزاروں سال پہلے سرزمین عرب میں اللہ کے گھر کے پاس پیش آیا تھا. کیسا کڑا امتحان ہوگا جب ایک بزرگ باپ اپنے پیارے نو خیز لخت جگر سے فرمایا
پیارے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رھا ہوں بتا تیری کیا رائے ہے؟ 102/37 ‌
لائق فرزند نے بلا تامل فرمایا

ابا جان آپ کو جو حکم دیاجارہا ہے بجا لائیے انشا اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائینگے. 102/37

اور پھر اخلاص وفا کے اس پیکرِ نے خوشی خوشی اپنے معصوم گردن چھری کے آگے پیش کر دیا تاکہ حکم الٰہی کی تکمیلِ ہو
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل علیہ السلام
کو آداب فرزندی ” ‘
اطاعت و فرمانبرداری کا بے مثال منظر دیکھ کر رحمت خداوندی جوش میں آگئی ارشاد فرمایا
اور ہم نیانہیں اواز دی اے ابراہیم بس، تم نے آپنا خواب سچا کر دکھایا، ہم وفادار بندوں کو ایسا ہی جزا دیتے ہیں یقیناً یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی.106/37-104
قربانی کے اس تاریخی پس منظر میں انسانیت کی فلاح و بہبود اور دکھی انسانیت کا احساس پنہاں ہے.
آج کل ہمارے اپر چترال کے گاؤں ریشن کئی سالوں سے دریا کے بے رحم کٹاؤ سے دریا برد ہو رہا ہے، اپنے یاقوت جیسے قیمتی زرخیز زمینوں کو اپنے سامنے تباہ ہوتیاور اپنے مکانات اور چھت سے ہمیشہ کے لئے دور ہونے کے باوجود ریشن کے مکین سراپا قربانی سے سر شار ہیں، وہ اپنے بچے کچے کھیتوں اور باغات کو اپنے عوام کے لئے قربان کر دیتے ہیں اور بار بار قربانی دیتے ہیں آور کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں. گزشتہ کئی سالوں سے جاری یہ تباہی کیمناظر سارے چترال کے عوام دیکھ رہی ہے لیکن عوام کے لئے راستہ اور روڈ کبھی بھی بند نہیں ہوایا کیا گیا، میں ان فرشتے نما ہستیوں کو سلام پیش کرتا ہوں. میرا کسی جماعت پارٹی یا حکام اعلی تک کوئی رسائی بھی نہیں،بس ایک درد مند انسان کی حیثیت سے دعا کرتا ہوں رب العزت، پروردگار عالم ان سب لوگوں کی یہ قربانی اپنے درگاہ میں قبول فرمائے، ان سب کو ان کے خاندان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین.

میرا تعلق لاسپور کے گاؤں رامان سے ہے، یہاں کے باسی اپنے مدد آپ کے تحت اپنے بنیادی ضروریات زندگی مثلاً پانی، بجلی اور روڈ کے مسائل اپنے ہی وسائل سے حل کر تے ارہے ہیں، میں یہاں پر آج روڈ کے بارے میں بات کرونگا.

1980 کی دھائی میں رامان کی عوام نے اے، کے، ار، ایس، پی کے تعاون سے اپنے مدد آپ کے تحت ہرچین پل سے لیکر رامان کے بالائی گاوں پھر گرام تک ایک روڈ بنا لیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رامان میں موجود تمام افراد نے اسی روڈ سے لنک روڈ اپنے مدد آپ کی تحت بنا چکے ہیں، کسی نے اپنے گھر کی قربانی دی کسی نے اپنے درختوں اور کسی نے اپنے کھیتوں کے قربانی دی.

اب صرف 10 فیصد کے آبادی کا ایک حصہ رامان لہشٹ رہ گیا ہے، کم و بیش 80 گھروں پر مشتمل مکینوں کو روڈ جیسے بنیادی سہولت میسر نہیں ہے. جناب اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال صاحب نے ہمارے درخواست پر متاثرہ علاقہ کا بذات خود دورہ فرما کر اپنے آپ حالات کا جائزہ لیا اپ کا بہت بہت شکریہ، اپ نے دیکھا صرف دو حضرات کی انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے کسی سے ایک انچ کا ٹکڑا اضافی زمین نہیں چاہتے، روڈ بنابنایا تیار ہے، ہمارے اپنے دو بھائی ضد اور انا کا مسئلہ بنا کر عوام کو پریشان کر رہے ہیں.

ہماری زندگی نہایت ہی اجیرن بن کر رہ گئی ہے، جب کوئی بیمار ہو جائے ھسپتال پہنچانے سے پہلے مین روڈ تک پہنچا نے کا سفر ایک آزمائش اور اذیت سے کم نہیں.. اکثر اوقات مریض کو ہتھ گاڑی یا چارپائی پر ڈال کر روڈ تک لایا جا تا ہے، پھر گاڑی میں بیٹھا تیہیں. آپ خود اندازہ کریں آگر کسی حاملہ خاتون کو ایمرجنسی ہو جائے تو کیا کریں.انسانیت کے ناطے اور بحیثیت ایک شہری اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے ھم نے اپنے علاقے کے گرینڈ جرگہ بھی کرا چکے ہیں، لیکن ہمارے انا کے گہرے تاریک کنواں میں غرق حضراتِ ٹس سے مس نہیں ہوتے. ان میں ایک جگہ پر ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش اچکا ہے، اللہ نہ کرے مستقبل میں مزید کوئی مسئلہ پیش آئے، میں سوشل میڈیا کے توسط سے اپنے تمام حکام بالا، اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال، لاسپور تھانہ کے ایس ایچ او، لاسپور ویلی کے تمام منتخب نمائندوں سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں برائے مہربانی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کی کٹہرے میں لایا جائے. کیا ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ہمارے بنیادی حقوق پامال کرنے والوں سے کوئی سوال نہیں کریں؟ کیا بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی سے آنے والے نوجوان نسل کے زندگی پر خوفناک اور منفی اثرات مرتب نہیں ہو ںگے؟ کیا ریاست کی کوئی زمہ داری آور رٹ بھی ہے یا نہیں؟

شکریہ

میر ولی زار رامان لہشٹ لاسپورمستوج اپر چترال


شیئر کریں: