Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال مستوج روڈ کو ریشن کے مقام پر ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جایے ورنہ ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قلت کے سبب انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔مولانا عبدالاکبرچترالی

شیئر کریں:

چترال مستوج روڈ کو ریشن کے مقام پر ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جایے ورنہ ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قلت کے سبب انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔مولانا عبدالاکبرچترالی

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ ہنگامی بنیادوں پر چترال  مستوج روڈ کو ریشن گاؤں میں بحال کرنے کا اہتمام کیا جائے ورنہ ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قلت اور مریضوں کوہسپتالوں تک منتقل نہ کرنے کے سبب انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جبکہ مستوج کے مقام پر بھی ٹرک ایبل پل کی بندش یارخون، لاسپور اور بروغل کے عوام دہری مصیبت میں گرفتار ہیں۔

منگل کے روز چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں وجیہ الدین، مولانا قاضی سلامت اللہ، مولانا جمشید احمد، حکیم مجیب اللہ اور دوسروں کی معیت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ وزیر اعلیٰ نے تین سال قبل ریشن کا دورہ کرکے روڈ کو بچانے کے لئے حفاظتی پشتے کی تعمیر کا حکم دیا تھا مگر اس پرعملدرامد میں ناکام ہونے پر گزشتہ سال دو سالوں کے دوران ایک ہی مقام پر چترال گلگت روڈ کی دو دفعہ کٹ کر دریابرد ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی ناکامی اور نااہلی کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اپنی سڑک کو بچانے میں دو سوفیصد ناکام ہوئی ہے اور اس سلسلے میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے بھی مکمل طور پر ناکامی کی تصویر ہیں جوکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔

مولانا چترالی نے مزید مطالبہ کیا کہ ریشن میں متاثرہ گھرانوں کے مالکان کے ساتھ ساتھ دریا برد شدہ زرعی زمینوں کے مالکان کو بھی فوری طور پر ریلیف اور معاوضہ دے انہیں دوبارہ آباد کیا جائے اور سڑک کی بحالی میں مزید غفلت کا مظاہر ہ نہ کیا جائے بصورت دیگر چترال کے امن پسند عوام اگراحتجاج پر نکل آئی تو ان کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

مولانا چترالی نے کہاکہ ریشن کے مقام پر سڑک کا تین سالوں سے دریا برد ہونے سے روکنے میں ناکامی صوبائی حکومت کے دامن پر دھبہ ہے اور مستوج کے مقام پر چترال کو گلگت بلتستان سے ملانے والا آرسی سی پل کو بچانے میں ناکامی این ایچ اے کا سیاہ کرتوت ہے۔

مولانا چترالی نے اپر چترال کے صورت حال پر خاموشی برتنے پر وزیر اعلیٰ محمود خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اگر اپر سوات لویر اورسوات کے درمیان زمینی رابطہ آدھ گھنٹے کے لئے بھی منقطع ہوجاتا تو وزیر اعلیٰ کیا کیا اقدامات نہ کرتا لیکن چترال کو وہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہی شائد نہیں سمجھتے ہیں کہ اس کے پانچ کروڑ آبادی کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے اپر چترال اورکوہ یونین کونسل میں بجلی کی بندش کے حوالے سے کہاکہ صوبائی حکومت اور واپڈا کے درمیان تنازعے پر اہالیان چترال کو سز ا دینا اور یہاں تین لاکھ کی آباد ی کو بجلی سے محروم رکھنا انتہائی ظلم وذیادتی ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے قومی اسمبلی میں چترال کی بھر پور نمائندگی کی ہے اور سڑکوں کی تعمیرو مرمت اور بجلی کی فراہمی کے لئے خطیر فنڈز منظور کروائے لیکن سیاسی مخالفین کسی بھی طور پر انہیں ماننے کو تیار نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ ریشن میں سڑک کے دریا برد ہونے کے حوالے سے انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن اہل اقتدار نے کبھی توجہ نہیں دی کیونکہ ان کے ترجیحات میں عوامی کے بنیادی اور اس جیسے حساس نوعیت کے مسائل ہر گز نہیں ہیں اور “ووٹ کو عزت دو”کا نعرہ لگانے والے مسلم لیگ (ن) والے بھی اپنے نعرے بھول گئے ہیں۔

chitraltimes abdul akbar chitrali mna press confrence ji


شیئر کریں: