Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یومِ امامت  اور اُس کے ثمرات – تحریر:سردار علی   سردارؔ

شیئر کریں:

یومِ امامت  اور اُس کے ثمرات – تحریر:سردار علی   سردارؔ

11 جولائی 1957ء اسماعیلی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس دن حضرت امام سلطان محمد شاہ آغاخان سویم کی وصیت کے مطابق آغا خان چہارم شہزادہ کریم اسماعیلی امامت کی قیادت اور ذمہ داری سنبھالی۔ یہ آغاخان سویم کی علمی بصیرت اور دور بین نگاہوں کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ نے شہزاد  کریم میں وہ تمام  صلاحیتیں اور خوبیان  دیکھ چکے تھے جنہیں آگے چل کر  امتِ مسلمہ اور خصوصاََ اسماعیلی جماعت کو ضرورت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آغاخان سویم نے اپنے وصیت  نامے میں فرمایا تھا کہ ” ہمارا یقین ہے کہ یہ شیعہ مسلم اسماعیلی جماعت کے بہترین مفاد میں ہوگا کہ ہمارا جانشین ایک نوجوان آدمی ہو اور ہوش سنبھالا ہواور جو اپنے منصب میں بحیثیت امام زندگی کا ایک جدید نقطہ نظر لائے”۔

منصبِ امامت پر فائز ہونے کے بعد 13 جولائی 1957ء کو دنیا بھر کے اسماعیلی جماعتوں نے جینوا کے خوبصورت شہر برکت ولا میں آپ کی بیعت کی توشہزادہ کریم نے پہلی بار اپنے مریدوں سے فرمایا کہ ” ہمارے دادا جان نے اپنی زندگی امامت اور اسلام  کیلئے وقف کردی تھی۔ یہ دونوں ان کے لئے اولین اور سب سے بالا تر تھے۔مستقبل میں ہمارا نصب العین اپنے دادا جان کے وسیع کام کو جاری رکھنا اور اپنی جماعت اور اس کی معاشی  اور مالی اداروں، میٹرنٹی ہوم، لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکولوں، ہسپتالوں اور یوروپی  اور امریکی وضائف کیلئے جو کچھ ہمارے اختیار میں میں ہے، کی بہتری اور بہبودی کیلئے کام کرنا  ہوگا۔ ہم تمہاری دنیاوی اور روحانی ترقی کیلئے ہر ممکن کام کریں گے”۔     (تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ  حصہ چہارم  ۔ص 165 )

شہزادہ کریم نے اپنے دادا جان کی وصیت کے مطابق ملتِ اسلامیہ اور اسماعیلی جماعت کی فلاح و بہبود ، دینی فکر کی ترویج و اشاعت اور اُس کے کاموں کے تسلسل اور استحکام کو قائم رکھنے کے لئے تحت ِ  امامت پر قائم رہ کر   اپنی ذمہ داریاں کما حقہ نبھا رہے ہیں جس سے عالمِ انسانیت  اور خصوصی طور پر اسماعیلی جماعت امامت کے ثمرات سے مستفیض ہو رہی  ہیں۔ درحقیقت  شہزادہ کریم کی پینسٹھ سالہ   دورِ امامت میں جس قدر اسماعیلی جماعت میں ترقی ہوئی ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ صرف آپ ہی کی امامت کا ثمرہ ہے کہ اسماعیلی جماعت پوری دنیا میں عزت و وقار کی علامت بن چکی ہے کیونکہ امامت کے اداروں نے عالمِ انسانیت کی بے پناہ خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی قابیلیت کے معیار کو بلند کرنے میں بھی  بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ علم  و حکمت  فاطمی آئمہ  کا میراث  رہا ہے جو انہیں  اُن کے آباؤاجداد کی طرف سے ملا ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد بھی دنیا والوں کو علم دینا  اور اس کو پھیلانا ہوتا ہے تاکہ انسان دنیا ہی میں اچھی زندگی گزارے  اور خدا کی نعمتوں سے سرفراز ہو۔ فاطمی آئمہ   کی علمی  بصیرت  اور علمی کارنامے   روزِ روشن کی طرح  عیاں ہیں جیسا کہ استاز فدا علی ایثارؔ   اپنے کلام میں یوں گویا ہیں۔

الموت کی شان جامع اظہر کی بزرگی

دنیا کو دیکھا دیجئے  وہ عظمت ِ ماضی۔

درحقیقت آپ کا مشن دین و دنیا کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے ہے کیونکہ دینِ اسلام ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ دنیوی ترقی کے حصول کے ساتھ ساتھ اخروی نجات کے لئے بھی کوشش کی جائے۔ نبی کریم ﷺ کی یہ پر حکمت حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا   کہ  اُمِرتُ لِصَلاَحِ دُنَیاکمُ وَ نِجَاتِ آخِرَتِکمُ۔

ترجمہ: میں تمہاری دنیوی اور روحانی فلاح و بہبوو کے لئے مامور ہوا ہوں۔

اس حدیث مبارکہ سے یہ حقیقت واضح   ہو جاتی ہے کہ پیغمبر کا مشن دین و دنیا دونوں کے لئے ہے۔ اسی مقدس مشن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  شہزادہ کریم الحسینی نے  نہ صرف دنیوی ترقی کی بات  کرتے ہیں  بلکہ روحانی زندگی کو بھی آباد کرنے کی ہدایت  دیتے ہیں۔جیسا کہ آپ  نے 13 دسمبر 1957 ء کو اپنے فرمان میں فرمایا کہ ” ہم تمہاری دنیاوی اور روحانی ترقی کے لئے  ہر ممکن کام کریں گے۔ جیسا کہ تم ہمارے پیارے دادا جان کے دل اور خیالات میں تھےاسی طرح ہمارے دل اور خیالات میں ہوں گے”۔ شہزادہ کریم نے اپنے اس قول کےمطابق نہ صرف اپنی جماعت، امتِ مسلمہ بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے شب وروز کام کررہے ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد دفتری جو اسماعیلی تاریخ اور مطالعات پر ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی  کتاب “اسماعیلی تاریخ کا ایک مختصر  جائزہ” میں رقمطراز ہیں کہ ” آغاخان چہارم نے افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں اپنے مریدوں کے علاوہ غیر اسماعیلی آبادیوں کیلئے بھی سماجی اقتصادی اور تعلیمی فوائد کی بہت سی نئی پالیسیوں، پروگراموں اور منصوبوں کا آغاذ کیا ہے ۔ اس مقصد کی خاطر انہوں نے اپنے جدِ امجد کی رکھی ہوئی بنیاد کو آگے بڑھایا ہے اور اداروں کا ایک پیچیدہ جال معرضِ وجود میں لائے ہیں جسے عام طور پر دی آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک  AKDN)) کہا جاتا ہے۔ اے کے ڈی این ۔سماجی ، اقتصادی اور ثقافتی ترقی سے تعلق رکھنے  والے منصوبوں پر عملدرآمد کرتا ہے اور اپنی غیر منافع بخش سرگرمیوں پر سالانہ اوسطاََ ایک سو ملین امریکی ڈالر صرف کرتا ہے”۔

آپ نے معاشرے سے غربت کو ختم کرنے اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے 1967 ء کو آغاخان فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ۔ اس ادارے کا مقصد معاشرے سے غربت کو دور کرکے معاشی،صحتی اور اقتصادی منصوبے کو بلارنگ و نسل ، ذ ات پات کے  پایہ تکمیل کو پہنچانا ہے۔

اے کے ارایس پی اس ادارے کا ایک اہم حصۤہ ہے جو شمالی علاقہ جات اور چترال میں دہی سطح پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مختلف قسم کے منصوبے چلا رہی ہے۔گویا غربت کو ختم کرنے کے لئے اے کے ار ایس پی نے گلگت اور چترال کے دور افتادہ علاقوں میں اپنی بے مثال خدمات پیش کیں ۔ زلزلہ اور سیلاب سے تباہ شدہ لوگوں کے لئے فوکسAKAH)) کی طرف سے شیلٹر اور بنیادی ضروریات کی چیزیں مہیا کرنے کا سہرا بھی AKDN  کے سر ہے ۔ یہAKDN کی محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے  کہ چترال کے دور افتادہ بلائی علاقوں میں جہاں موسم سرما میں برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کی یخ بستہ ہوائیں اور سخت سردی لوگوں کو گھروں کے اندر مقید رہنے پر مجبور کرتی ہیں لیکن لوگ ایسے ناگفتہ بہ اور جان لیوا سردی میں بھی موسم گرما کی طرح جگہ جگہ بنائے گئےگرین ہاوسیز   میں فریش اور پکے ہوئے مختلف قسم کے پھل  اور سبزیان جیسے خربوزہ، شلغم، گاجر، ٹماٹر پالک وغیرہ  انہیں میسر ہیں جنہیں دیکھ کر خیالی جنت کا منظر حقیقت میں نظر آتی ہے۔

آپ نے نہ صرف ہیلتھ کے شعبے میں ہی خدمات انجام دی  بلکہ پوری دنیا میں علم کی روشنی کو پھیلانے کے لئے اسکول، کالجیز اور یونیورسٹیز  کا جال بھی بچھا رکھے ہیں جس کا واضح ثبوت شمالی علاقہ جات اور چترال میں آغاخان ہائر سکنڈری اسکول اور کالیجیز ہیں جس سے فارع التحصیل طلبہ و طالبات میڈیکل سمیت دوسرے شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے  پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا  کردار ادا کررہے ہیں ۔ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ آپ اور  آپ کے خاندان کی  علم سے دوستی اور محبت کی وجہ سے ہر وقت علم کی شمع روشن ہوئی ہے۔جیسا کہ حکیم ناصر خسرو اپنے ایک پرحکمت کلام میں فرماتے ہیں۔

مغزول شد دو چیز جہاں از دو چیز تو

از علمِ تو جہالت از جودِ تو مطال

ترجمہ: اےمیرے امام! آپکی دو چیزوں کے طفیل دُنیا کی دو چیزیں مغزول ہوچکی ہیں آپکے علم سے جہالت اور آپکی سخاوت سے غربت ختم ہوچکی ہیں۔

0 201میںRichard Engelنے  جب   امام سے انٹرویو لیاWhat’s the role of Aga Khan today?تو  شہزادہ کریم  الحسینی نے فرمایا  کہ بحیثیت امام میرے پاس تین  اہم ذمہ داریاں ہیں ۔

Security of people, Interpretation of Faith and Quality of life.

یعنی میرا کام لوگوں کی زندگی کی حفاظت کرنا ، دین کی تشریح کرنا اور لوگوں کو بہتر زندگی کی سہولیات مہیا کرنا۔

جب کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں  تو پرنس کریم آغاخا ن نے انسانیت کی جان بچانے کے لئے دوسو پچاس ملین یورو (  جو پاکستانی کرنسی ریٹ کے مطابق بیالیس ارپ اکیانوے کروڑ باسٹھ لاکھ تریانوے ہزار پانچ سو روپے بنتے ہیں )  پرتگال ہیڈکوارٹر میں  کرونا وائرس کی دوا اور اسکی روک تھام   کے لئے بطورِ عطیہ پیش کیا ۔آپ نے نہ صرف اپنا عطیہ پیش کیا بلکہ تمام لوگوں کو اس مہلک بیماری سے  بچانے کے لئے سماجی فاصلہ اختیار کرنے، ماسک کا استعمال اور دیگر  احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے  کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی بار بار تاکید کی۔

ِ 7جولائی  ِ2018ِ ءکو لزبن میں  ڈائمنڈ جوبلی ملاقات کے دوران ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت یاد دلاتے ہوئے   آپ نے فرمایا کہ “جن لوگوں کی مدد کی ضرورت ہو اُن کی مدد کیلئے آئیں۔ اپنے خیالات کیلئے فیاض بنیں، اور اُ ن کی مدد کریں جنہیں دنیاوی مشکلات  درپیش ہیں”۔

مختصر یہ کہ آپ نے اپنے  پینسٹھ سالہ دورِ امامت میں عالمِ انسانیت کیلئے بلا رنگ و نسل ، مسلک و عقیدہ ہر وقت شَکر کی مانند فیض پہنچارہے ہیں کیونکہ شَکر کی خصلت میں تندرست اور بیمار  دونوں  کے لئے شفا ہی ہے جیسا کہ حکیم ناصر خسرو نے اپنے کلام میں فرمایا ہے کہ

سود مندند ہم خلق جہاں را چو شکر

جانِ من بادِ فدا شان کہ بطعِ شکرند

ترجمہ: آئمہ فاطمیہ تو سارے خلائق کے لئے شکر کی طرح  نفع رسان ہیں میری جان اُن سب پر قربان ہو کہ یہ فطرتاََ  شَکر کی خاصیت رکھتے ہیں۔

آئیں تہیہ کریں کہ ہم بھی امام کے ان انقلابی تصوّرات کو اپنی زندگی کا حصّہ بنائیں۔اور اپنی انے والی نسل اور اولاد کے لئے اس دنیا کو علمی طور پر خوبصورت بنانے کی کوشش کریں۔ لوگوں کو امن وآشتی، محبت ، رواداری، مساوات ، عفو درگزر،رحم دلی اور خدمتِ انسانیت کا درس دے دیں۔جس طرح امام ثمرات ِ امامت سے  تمام خلائق کو شکر کی مانند فیض پہنچا رہے ہیں اسی طرح ہمیں بھی چایئے کہ امام کے نقشِ قدم پر چل کر اپنے گفتار اور کردار سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔کیا خوب فرمایا  میرے محسن استاذ وزیر فدا علی ایثارؔ نے۔

گفتار میں کردار میں ہوجائیں یگانہ

تا درسِ عمل تم سے ہی لے اہلِ زمانہ

hh prince karim aga khan visit to chitral


شیئر کریں: